Site icon المرصاد

داعشی خوارج؛ اسلام کے خلاف مغرب کا نیا ہتھیار! تیسویں قسط

تجارتی اور اقتصادی راستوں کو مفلوج کرنا:
ان اہم شعبوں میں سے ایک، جسے گزشتہ دہائیوں میں خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے، اسلامی ممالک کی معیشت اور تجارت ہے۔ بلاشبہ ایک صحت مند معیشت کے لیے نقل و حمل اور تجارتی راستوں کی حفاظت ضروری ہے ۔۔ اشیاء اور مصنوعات کی درآمد وبرآمد اسی وقت ہوسکتی ہے جب راستے کھلے اور محفوظ ہوں ۔۔ مگر عسکری اور انتہاپسند گروہ، خاص طور پر داعش، سڑکوں پر عدم استحکام اور خطرات پیدا کر کے خطے کی معیشت کو داخلی طور پر مفلوج کرنے میں براہِ راست کردار ادا کرتے ہیں۔

جغرافیائی محل وقوع کے باعث اسلامی ممالک ہمیشہ عالمی تجارت کے اہم چوراہے پر واقع ہیں، تاریخی شاہراہِ ریشم، بندرگاہیں، زمینی سرحدیں اور ہوائی راستے ۔۔ یہ سب ترقی اور مشرق و مغرب کے مربوط ہونے کے مواقع فراہم کرتے تھے ۔۔ مگر داعش جیسے خوارج نے ان اہم شاہراہوں پر بمباریوں، تجارتی قافلوں پر حملوں اور تاجروں کو لاحق خطرات کے ذریعے ان مواقع کو خطرات میں بدل دیا۔

وہ کام جو مغرب سیاسی یا اقتصادی طور پر براہِ راست انجام نہیں دے سکا، اسے داعش نے عملی جامہ پہنایا۔ جب تجارتی گاڑیاں نشانہ بننے لگیں، تو نہ صرف مسلمانوں کا مال و سرمایہ ضائع ہوا بلکہ خطے میں سرمایہ کاری کے بارے میں تاجروں کا اعتماد بھی مجروح ہوا۔ اس عمل نے کئی تجارتی راستوں کو غیر محفوظ قرار دے دیا اور خطے کی اقتصادی نمو کو پیچھے دھکیل دیا۔

جب داخلی اور علاقائی راستے غیر محفوظ ہوگئے تو اسلامی ممالک کو اپنے ضروری اشیاء مغرب کے طویل راستوں سے لانی پڑیں؛ اس سے تجارتی انحصار بڑھا اور مغرب کے لیے سیاسی دباؤ کے دروازے کھلے۔ سادہ زبان میں کہا جائے تو داعش نے تجارتی راستوں میں عدم استحکام پھیلا کر اسلامی ممالک کے باہمی اقتصادی تعلقات کو تباہ کیا۔ اس نے مغرب کو ایک ’’واحد قابلِ اعتماد فراہم کنندہ‘‘ کے طور پر پیش ہونے کا موقع دیا ۔۔ حقیقت میں داعش ایک ہتھیار بن کر مغرب کے مفادات کی خدمت کر رہا تھا؛ ایسا ہتھیار جس نے خون بہایا اور معیشت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔

جب مقامی بازار اپنی پیداوار برآمد نہ کر سکیں تو پیداوار کی تحریک کھو جاتی ہے۔ کسان اپنی فصلیں منڈیوں میں کم نرخ پر فروخت کرنے پر مجبور ہوتے یا گوداموں میں ضائع ہونے دیتے ہیں۔ کارخانے خام مال کی عدم رسائی یا برآمد کے فقدان کی وجہ سے اپنی پیداوار روک دیتے ہیں۔ داعش نے راستے بند کر کے اور عدم استحکام پھیلا کر گھریلو پیداوار کے پہیے پر سخت ضرب لگائی۔

تجارتی راستوں کے مفلوج ہونے کا ایک اور نتیجہ یہ ہوا کہ بیرونی کمپنیوں اور طاقتوں کے لیے یہ موقع پیدا ہوا کہ وہ اسلامی ممالک کے وسائل سستے دام خریدیں؛ حالانکہ اگر راستے محفوظ ہوتے تو یہ وسائل علاقائی یا بین الاقوامی منڈیوں میں اصل قیمت پر فروخت ہوتے۔ مغرب بخوبی سمجھتا تھا کہ اگر اسلامی معیشتیں آپس میں مربوط رہیں تو وہ خودمختار اور مضبوط ہو سکتی ہیں، مگر داعش نے خوف، قتل و غارت اور دھماکوں کے ذریعے یہ ربط توڑ دیا اور غیرملکیوں کے لیے مسلمانوں کے وسائل کی سستے داموں لوٹ کھسوٹ کا راستہ ہموار کر دیا۔

عدمِ تحفظ اور اقتصادی کمزوری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ لوگوں کی امید اور اعتماد کو ختم کر دیتی ہے۔ جب تاجر، صنعت کار اور کسان دیکھیں کہ ان کی سرمایہ کاری کسی بھی وقت راستے میں ضائع ہو سکتی ہے تو وہ دوبارہ سرمایہ کاری کی ہمت نہیں کرتے؛ نتیجتاً ایسی فضا میں طاقت ور معیشت کی جگہ کساد بازاری آ جاتی ہے اور لوگ بہتر مواقع تلاش کرنے کے لیے مغربی ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مقصد تھا جسے مغرب حاصل کرنا چاہتا تھا اور داعش اس مقصد کے حصول کا ذریعہ بن گیا۔

Exit mobile version