Site icon المرصاد

داعشی خوارج: اسلام کے خلاف مغرب کا نیا ہتھیار! تئیسویں قسط

اسلام دشمن علاقائی اور عالمی اتحادوں کے لیے راہ ہموار کرنا:

داعشی خوارج گروہ نے اپنے آغاز ہی سے ایک عام مسلح تنظیم سے بڑھ کر بہت کچھ کیا۔ اس گروہ نے اپنی غیر شرعی کارروائیوں اور مخصوص پروپیگنڈے کے ذریعے درحقیقت علاقائی اور عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحدہ محاذوں کے قیام کی راہ ہموار کی۔

جب داعشی خوارج نے عراق اور شام میں اپنی خونریز کارروائیوں اور پھر یورپی ممالک میں منصوبہ بند حملوں کے ذریعے عالمی سطح پر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا، تو مغربی طاقتوں اور ان کے علاقائی اتحادیوں نے اس بے معنی خطرے سے زبردست سیاسی و عسکری فائدہ اٹھایا۔

مغربی ممالک جو اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں براہِ راست عسکری مداخلت کے خلاف اپنی عوام کی شدید مخالفت کا سامنا کر رہے تھے، اس بار انہوں نے داعشی خوارج کے خلاف جنگ کے نعرے کے تحت کثیر الملکی اتحاد قائم کیے اور اسلامی ممالک میں اپنے فوجی وجود کو ایک بار پھر وسعت دی۔

دوسری طرف، ان علاقائی حکومتوں نے جو اسلامی اور انقلابی تحریکوں کے داخلی خطرے سے دوچار تھے، ’’داعشی خوارج کے خلاف جنگ‘‘ کی لہر پر سوار ہو کر نہ صرف اپنے اسلامی حریف گروہوں بلکہ اپنے اندرونی ناقدین کو بھی کچل دیا اور ساتھ ہی بیرونی طاقتوں سے سیاسی و عسکری حمایت بھی حاصل کی۔

بلاشبہ، داعشی خوارج نے نہ صرف اسلامی ممالک میں بیرونی قوتوں کی عسکری موجودگی کے لیے راستہ ہموار کیا، بلکہ مغربی ممالک اور بعض علاقائی حکومتوں کے درمیان ہر قسم کی خودمختار اسلامی تحریک کے خلاف اتحاد کے لیے بھی ایک بہانہ فراہم کیا۔

اگر ہم ’’داعش مخالف‘‘ اتحادوں کی عسکری و سیاسی سرگرمیوں پر ایک مختصر نظر ڈالیں، تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ ان اتحادوں کا اصل مقصد وہ نہیں تھا جو وہ زبانی طور پر ظاہر کرتے تھے۔ ان کا مقصد داعشی خوارج کے خلاف حقیقی جنگ نہیں تھا، بلکہ یہ بحران کو اس انداز میں کنٹرول اور منظم کرنے کی کوشش تھی کہ خطے میں مغربی موجودگی اور مفادات کو مضبوط کیا جائے اور اسلامی مزاحمت کو کمزور کر دیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتوں نے داعشی خوارج کے منصوبے کو استعمال کر کے یہ دکھا دیا کہ وہ جب چاہیں، ایسی گروہوں کو تشکیل دے کر یا ان کی قیادت کر کے ایک خطرہ پیدا کر سکتے ہیں، اور پھر اسی خطرے کے خلاف کارروائی کے بہانے اپنے سیاسی منصوبے نافذ کر سکتے ہیں۔

آج جب کہ داعشی خوارج کو میدان جنگ میں شکست ہو چکی ہے، ان کا فکری اثر اور خفیہ نیٹ ورک اب بھی اسلامی ممالک کے مختلف علاقوں میں فعال ہے، اور وقتاً فوقتاً مشترکہ کارروائیوں اور نئے سیکیورٹی معاہدوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے اس گروہ کا نام ’’تیار خطرہ‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ داعشی خوارج کا تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی امت کی بیداری اور دشمن کی خفیہ سازشوں کی گہری پہچان ہی ایسی چالوں کو ناکام بنانے کا واحد راستہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک مسلمان وحدت اور سیاسی شعور حاصل نہیں کرتے، دشمن ہمیشہ داعشی خوارج جیسے ذرائع کو اسلام دشمن اتحادوں کی تشکیل کے لیے استعمال کرتا رہے گا اور اسی راہ سے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔

Exit mobile version