قابضین کے جرائم کو جواز فراہم کرنا
داعشی خوارج اپنے مکروہ اور منحوس ظہور کے ساتھ، اسلامی نعروں جیسے "قیامِ خلافت” اور "کفار کے خلاف جہاد” کے ساتھ سامنے آئے، لیکن جلد ہی واضح ہو گیا کہ ان کی تیز تلوار وقت کے ظالموں اور جابروں کی گردن پر نہیں، بلکہ نہتے عوام کے سینوں پر چلتی ہے۔
جو چیز داعشی خوارج کو دنیا کے دیگر ظالموں اور جابروں سے ممتاز کرتی تھی، وہ ان کا اپنے ظلم کو عیاں کرنے کا طریقہ تھا۔ انہوں نے اپنے جرائم کو چھپانے کے بجائے، پیشہ ورانہ کیمروں سے غیر مسلموں اور بعض اوقات مسلمانوں کے قتل اور سر قلم کرنے کے مناظر ریکارڈ کیے اور عالمی نیٹ ورکس پر پھیلائے۔
یہ تصاویر، جو اسلامی اقدار اور مقدس ہدایات سے متصادم تھیں، بالکل وہی تھیں جن کی مغربی میڈیا اور قابضین کو ضرورت تھی۔
داعش کی ویڈیوز اعلیٰ معیار، درستگی اور تیزی کے ساتھ پوری دنیا میں پھیلائی گئیں۔ جن لوگوں نے پہلے عراق، افغانستان اور شام میں قابض افواج کے جرائم کے بارے میں سنا تھا، انہوں نے اب ایک "عظیم خطرے” کی نئی تصاویر دیکھیں، جن کے سامنے گھروں پر بمباری کے جرائم بھی چھوٹے نظر آتے تھے۔
یہ جرائم، جو اس بار اسلام کے نام پر کیے جا رہے تھے، ایک ایسے گروہ کی طرف سے جو ناحق خود کو اسلام کا نمائندہ کہتا تھا اور مغرب میں اس دین کی غیر حقیقی تصویر پیش کر رہا تھا، ہر جرم، جیسے مغربی صحافیوں کے سر قلم کرنا یا یرغمالیوں کو جلان، نے دنیا کے ذہنوں میں داعش کا خوف کئی گنا بڑھا دیا۔ اسی خوف کی آڑ میں قابضین ہر حملے اور بمباری کو "دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا نام دینے میں کامیاب ہو گئے۔
اس عرصے میں اگر شہری مارے گئے، اگر دیہات تباہ ہوئے، اگر رات کے وقت گھر مسمار کیے گئے، تو یہ سب داعش کے خونریز رویے کے مقابلے میں چھوٹے اور حتیٰ کہ ضروری نظر آئے۔ داعش عملاً قابضین کے میڈیا کا ایک ہتھیار بن گئی، جس نے ان کے جرائم کو اسلامی ممالک میں معمولی بنا دیا۔
انہوں نے جو کیا اس کی وجہ سے مغرب میں بہت سے لوگوں نے قابضین کے جرائم کو نظر انداز کر دیا اور یہ مان لیا کہ "داعش کی وحشت سے نجات پانے کے لیے” بے گناہ لوگوں کو بھی قربان کرنا پڑے گا۔ لیکن حقیقت میں، وہی قوتیں جو آج داعش کے خلاف لڑ رہی ہیں، کل اس گروہ کے عروج اور ظہور کی راہ ہموار کر رہی تھیں۔
آخر میں، داعشی خوارج نے اپنے سخت گیر اور ظالمانہ چہرے، جھوٹے جہادی نعروں اور قتل کی خوفناک ویڈیوز کی مدد سے مغرب کے لیے عظیم خدمت انجام دی۔ انہوں نے یہ ممکن بنایا کہ بمباری اور قبضہ دنیا کی نظروں میں قابضین کا "فطری حق” لگے، اور مسلمانوں کا ہر خون داعش کے تصویری جرائم کے سائے تلے بے اہمیت اور نظر انداز ہوتا رہے۔
حقیقت میں یہ کڑوا سچ داعشی خوارج کی اصلیت کو واضح کرتا ہے: ایک کٹھ پتلی جو قابضین کے ہاتھوں میں ان کے خونریز اور سیاہ جرائم کو سفید کرنے کا ذریعہ بن گئی، تاکہ وہ اپنے مظالم کو اسلامی ممالک کی سرزمین پر چھپا سکیں۔

