جب سے امریکی ایوانِ نمائندگان نے افغانستان کے لیے امداد بند کرنے کی قرارداد منظور کی ہے، بعض میڈیا اداروں اور مفاد پرست تجزیہ نگاروں نے اس نوعیت کی افواہیں پھیلانی شروع کر دی ہیں کہ گویا یہ فیصلہ امارتِ اسلامی کی جانب سے داعش کے خلاف جاری کوششوں کو متاثر کرے گا۔ ایسی آراء خواہ نادانی پر مبنی ہوں یا خاص سیاسی مقاصد کے تحت دی جا رہی ہوں، حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ یہ ایک قسم کا گمراہانہ پروپیگنڈا ہے جو افغانستان کی موجودہ امن و امان کی صورتحال، عوام کی جانب سے حکومت وقت پر کامل یقین و اطمینان سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
امارتِ اسلامی افغانستان ایک عوامی، اسلامی اور تاریخ کے تلخ تجربات سے جنم لینے والی ایسی تحریک ہے، جس نے ظالمانہ قبضے، جنگوں کے خاتمے اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے بیس سال تک قربانیاں دیں۔ اس کے برخلاف، داعش ایک درآمد شدہ، تکفیری اور انتہاپسندانہ فتنہ ہے، جو عراق اور شام کی جنگوں کے بعد خفیہ ایجنسیوں کی سازشوں کے تحت افغانستان منتقل کیا گیا اور جس نے یہاں بھی فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے کی کوششیں کیں۔
امارتِ اسلامی افغانستان کے نزدیک داعش اغیار کا ایک گروہ ہے، جو نہ کوئی اسلامی جواز رکھتا ہے، نہ اس کی کوئی شرعی توجیہ موجود ہے؛ نہ اسے عوامی حمایت حاصل ہے اور نہ ہی امت مسلمہ کی جانب سے اسے پذیرائی اور پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتاہے؛ یہ ایک فتنہ انگیز تحریک ہے جس نے امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا، مسلمانوں پر تکفیر کے فتوے لگائے، علماء سے لے کر بے گناہ مسلمانوں اور معصوم بچوں تک کا قتل عام کیا اور اسلام کے نام پر اسلام کی روح کو مجروح کیا ہے۔
امارتِ اسلامی کے نزدیک داعش کے خلاف جنگ نہ صرف سیکیورٹی کا تقاضا ہے، بلکہ ایک شرعی فرض، ذمے داری اور امت کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ اس جنگ کا مقصد خوارج کی اُس فکر کو کچلنا ہے جو نہ اتحاد اور مفاہمت کو تسلیم کرتی ہے، نہ علماء کے مقام کو مانتی ہے اور نہ امت کے مفادات کو اہمیت دیتی ہے۔ یہ جنگ کسی مالی امداد کے لیے نہیں، بلکہ دین کی پاکیزگی کو محفوظ رکھنے کی جنگ ہے؛ یہ شہداء کے مقدس خون کی حرمت کی حفاظت کی جنگ ہے؛ یہ جنگ اللہ جل جلاله کی رضا کے لیے لڑی جا رہی ہے، یہ جنگ واشنگٹن یا کسی اور ادارے سے امداد حاصل کرنے کی خاطر نہیں لڑی جارہی۔
گزشتہ برسوں میں افغانستان کی امارتِ اسلامی نے داعش کے ساتھ شدید اور بے مثال جنگیں لڑی ہیں، وہ بھی ایسے حالات میں جب نہ ان کے پاس حکومت تھی، نہ بجٹ، نہ رسمی حیثیت اور نہ ہی کوئی بیرونی امداد۔ اس کے باوجود، انہوں نے ننگرہار سے لے کر زابل تک داعش کے فتنہ کی جڑیں اکھاڑ دیں۔ یہ جدوجہد صرف اسلحے کے زور پر نہیں کی گئی، بلکہ عوامی حمایت، علمائے کرام کی رہنمائی اور اپنے عقیدے کے پختہ یقین کے ساتھ انجام دی گئی؛ امارتِ اسلامی کے نزدیک داعش کے خلاف جنگ ایک اسلامی، شرعی، قومی اور اخلاقی ذمے داری ہے، کسی بیرونی دباؤ یا ترغیب اور لالچ کا نتیجہ نہیں۔
دوسری جانب، یہ دعویٰ کہ امریکی امداد کی بندش امارتِ اسلامی کی داعش مخالف جدوجہد کو متاثر کرے گی، بنیادی طور پر غلط ہے۔ کیونکہ یہ جنگ اُس وقت سے جاری ہے جب خود امریکہ اپنے فوجی دستوں کے ساتھ افغانستان میں موجود تھا، اور اس کے باوجود اسلامی امارت نے داعش کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھی۔ بلکہ بعض مواقع پر تو یہ منظر بھی سامنے آیا کہ امریکی طیاروں نے داعش کے جنگجوؤں کو جنگی علاقوں سے نکالا یا انہیں اسلحے اور دیگر وسائل سے مدد فراہم کی، یہاں تک کہ ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ داعش کے پاس بعض ایسی مخصوص ٹیکنالوجیز اور ہتھیار پہنچے جو صرف امریکی اسپیشل فورسز کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں۔
لہٰذا حقیقت بالکل واضح ہے کہ امارتِ اسلامی کی داعش کے خلاف جنگ خالصتاً اپنے وسائل، انٹیلیجنس نیٹ ورک، نظریاتی عزم اور عوامی حمایت پر مبنی ہے، کسی بیرونی امداد پر نہیں۔
اس کے علاوہ یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ افغان عوام کو داعش سے شدید نفرت ہے۔ عوام الناس سے لے کر علماء، قبائلی عمائدین اور نوجوانوں تک، ہر طبقے میں داعش کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ داعش کا نظریہ افغان عوام کے لیے ایک اجنبی، ناپسندیدہ اور خونریز نظریہ ہے۔ امارتِ اسلامی خود اسی افغان قوم و ملت کی آواز، ارادہ اور قیادت کا مظہر ہے، لہٰذا یہ جنگ عوام کی تائید و حمایت سے جاری ہے، کسی بیرونی بینک اکاؤنٹ سے نہیں۔
چنانچہ اگر امریکہ امداد بند کرتا ہے تو یہ اس کا ایک سیاسی فیصلہ ہے، مگر اس سے نہ امارتِ اسلامی کے مؤقف کو کوئی ضرب پہنچ سکتی ہے، نہ عوامی ارادے کو اور نہ ہی اس کے جہادی عزم کو، بلکہ اس کے برعکس، یہ فیصلہ امارتِ اسلامی کی خودمختاری، استحکام اور قومی حمایت پر مبنی نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔
یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ امارتِ اسلامی اور داعش کے درمیان جنگ ایمان کی جنگ ہے، بقاء کی جنگ ہے، امت کے اتحاد اور امتِ مسلمہ کے عقائد و نظریات کی حفاظت کی جنگ ہے۔ یہ جنگ نہ کسی مالی امداد کے لیے ہے، نہ شہرت کے لیے، نہ کسی سیاسی حیثیت کے لیے؛ بلکہ یہ ’’لا إله إلا الله‘‘ کے داعیوں اور ’’خوارج‘‘ کے درمیان ایک مقدس معرکہ ہے، جو تب تک جاری رہے گا جب تک فتنے کا خاتمہ اور دین صرف اور صرف اللہ کے لیے نہ ہو جائے۔

