Site icon المرصاد

داعشی خوارج کے ذرائع آمدن کی نوعیت! آٹھویں قسط

غنائم کا پانچویں حصہ (خمس):

داعش کا ایک اور اہم مالی ذریعہ غنیمت کا پانچواں حصہ ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق، غنیمت وہ مال، سامان یا دولت ہے جو جنگ کے ذریعے مسلمانوں کے ہاتھ آتی ہے، اور یہ جنگ شرعی امام کی قیادت میں اسلامی شریعت کے مطابق ہوتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ داعش ایک انتہا پسند گروہ ہے جو حقیقی اسلام سے بہت دور ہے، یہ ایک خفیہ ایجنسی کا منصوبہ ہے جو اسلام کے نام پر اسلام کو بدنام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ بہرحال، وہ گروہ یا افراد جو داعش کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ بیعت کرتے ہیں، وہ اپنی غنیمت (اپنے تئیں) کا پانچواں حصہ داعش کو دیتے ہیں۔

فارن افیئرز میگزین کے رپورٹ کے مطابق، داعش نے خمس کے اصول کی بنیاد پر اپنے جنگجوؤں کے ہاتھوں حاصل کردہ مال، جیسے ہتھیار، قیمتی اشیا اور حتیٰ کہ انسانوں کو بھی خمس کے تابع کیا اور اس میں سے 20 فیصد حصہ اپنے خزانے میں منتقل کیا، جسے وہ قرآن کریم کی سورۃ الانفال (آیت 41) سے منسوب کرتے ہیں۔

خمس لینے کے معاملات (داعش کے نقطہ نظر سے):

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق، داعش نے درج ذیل ذرائع سے خمس لیا:

نقد رقم: بینک اکاؤنٹس، سرکاری اداروں اور نجی گھروں سے حاصل کردہ رقم۔
ہتھیار اور گولہ بارود: قبضے میں لی گئی فوجوں اور پولیس کے ہتھیار۔
گاڑیاں اور وسائل : تمام قبضہ شدہ گاڑیوں کی قیمت ان کی قدر کے مطابق لگائی جاتی ہے۔
تجارت اور املاک: دکانیں، گودام اور کاروبار (جو داعش کے نزدیک مرتدوں سے متعلق ہوں)۔
مرد اور خواتین: کبھی کبھار انسانوں کو بھی داعش نے غنیمت کے طور پر لیا اور ان پر خمس کا قانون نافذ کیا۔

داعش نے شریعت کے لبادے میں غنیمت کے پانچویں حصے کو ایک مسخ شدہ سیاسی اور معاشی ہتھیار بنایا تاکہ اپنے گروہ کے جنگی مشین کو چلائے، اسے جواز فراہم کرے اور دیگر لوگوں کو اپنی طرف راغب کرے۔ مذکورہ بالا معاملات کے علاوہ، داعش نے اپنی ضرورت کے مطابق دیگر ذرائع سے بھی خمس لیا اور انکار کی صورت میں بزور اور جبری طور پر وصول کیا۔

مثال کے طور پر، 2013 میں شام کے صوبہ دیر الزور کے علاقے السالحیہ میں سات خواتین نے قدیم آثار کا ایک خزانہ دریافت کیا۔ داعش کے ایک رہنما ابو لیث نے اس کی قیمت 70,000 ڈالر لگائی اور خمس کے طور پر 20 فیصد حصہ مانگا۔ جب خواتین نے اسے مسترد کیا تو ابو لیث نے زبردستی اس حصے کو لینے کی کوشش کی۔

خمس کے استعمال کے معاملات:

فارن افیئرز، بروکنگز انسٹی ٹیوشن اور چیٹم ہاؤس کی رپورٹس کے مطابق، داعش نے خمس سے حاصل شدہ مالی وسائل کو درج ذیل شعبوں میں استعمال کیا:

جنگ کی فنڈنگ:
– ہتھیار، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور فوجی سازوسامان کی خریداری۔
– جنگجوؤں کی آمدورفت، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی لاجسٹکس کا انتظام۔

جنگجوؤں کی تنخواہیں:
– ہر جنگجو کو ماہانہ تنخواہ (اوسطاً 300-400 ڈالر)۔
– زخمی یا ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کے خاندانوں کے لیے اضافی امداد۔

پروپیگنڈا سرگرمیاں:
– ویڈیوز کی تیاری، میگزین کی چھپائی، میڈیا سرگرمیاں اور انٹرنیٹ مہمات۔
– مسخ شدہ اسلامی تصور کی ترویج۔

انتظامی اخراجات:
– داعش کی داخلی انتظامیہ جیسے ٹیکس، پولیس اور انٹیلی جنس کی فنڈنگ۔
– ان کے محلات، مراکز اور حکومتی دعووں والے اداروں کی فعالیت۔

عدالتیں اور مذہبی پولیس:
– شریعت پولیس (الحسبہ) کو فنڈنگ۔
– ججوں، مفتیوں اور عدالتی عملے پر اخراجات۔

سماجی خدمات:
– خوراک کی تقسیم، صحت کی خدمات اور یتیموں کی کفالت۔
– یہ خدمات پروپیگنڈا کے مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔

سڑکوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی مرمت:
– قبضہ شدہ علاقوں میں سڑکوں کی مرمت اور صفائی۔
– بجلی اور پانی کی سہولیات محدود پیمانے پر فراہم کرنا۔

جاسوسی اور سیکیورٹی نظام:
– داخلی جاسوسوں، مخبروں اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس کی فنڈنگ۔

تعلیم اور دینی مدارس:
– ان کے زیر کنٹرول مدارس میں انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج۔

اسیروں کی دیکھ بھال اور تجارت:
– یرغمالیوں کی حراست اور تاوان کے آپریشنز۔

خمس کے اثرات:

خمس لینے کے عمل نے داعش کی مالی طاقت، توسیع اور سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ کچھ قابل ذکر اثرات درج ذیل ہیں:

مالی خودمختاری اور مستحکم آمدنی: اس سے داعش کو ایک مستحکم اور پائیدار مالی ذریعہ ملا۔
انتظامی نظام کی بنیاد: داعش نے خمس کے انتظام کے لیے ایک خصوصی دیوان (دیوان الغنائم/دیوان المال) بنایا، جس نے ان کے حکومتی تشخص کے دعوے کو مضبوط کیا۔
جنگجوؤں کے لیے ترغیب: جنگجوؤں کو بتایا جاتا تھا کہ غنیمت کا صرف پانچواں حصہ عمومی خزانے میں جاتا ہے اور باقی ان کی ذاتی ملکیت ہے۔ اس وعدے نے بہت سے بے روزگار، غریب یا متعصب افراد کو اس گروہ کی طرف راغب کیا۔
پروپیگنڈا کا ذریعہ: داعش نے اسے شرعی حکم کے نام پر پیش کیا تاکہ خود کو جائز اسلامی خلافت کے طور پر دکھائے۔ لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ قرآنی اصولوں کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔
چوری اور اغوا کی مشروعیت: خمس کے پردے میں داعش نے ہر قسم کی دولت ضبط کی اور اسے شرعی قرار دیا۔ اس عمل نے علاقائی معیشت کو نقصان پہنچایا، لوگوں کو خوفزدہ کیا اور دولت کو لوٹا۔
عالمی پابندیوں کے خلاف مزاحمت: چونکہ خمس زیادہ تر نقد یا عینی املاک میں لیا جاتا تھا، اس لیے عالمی مالی پابندیوں کا اس پر کم اثر تھا، جس سے اس کا مالی نظام نسبتاً خودمختار رہا۔

Exit mobile version