داعش کی فدیے(تاوان) کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی:
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، داعش کے پھیلاؤ اور اثر و نفوذ کے ساتھ ہی، اس دہشت گرد گروہ نے شام اور عراق جیسے جنگ زدہ علاقوں میں بڑی تعداد میں یورپی شہریوں کو اغوا کیا۔ یہ اغوا کاریاں نہ صرف جاری جنگوں کا ایک المناک نتیجہ تھیں بلکہ داعش نے انہیں اپنی مالی حکمتِ عملی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی بنایا۔ قیدیوں کی رہائی کے بدلے تاوان لینا داعش کے لیے ایک منظم آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوا، جس سے اس کی مسلح کارروائیوں، اسلحے اور سازوسامان کی خریداری اور پروپیگنڈا سرگرمیوں کی تمویل کی جاتی رہی۔
داعش نے ابتدائی برسوں میں خاص طور پر یورپی ممالک کے ان شہریوں کو نشانہ بنایا جو انسانی ہمدردی، صحت اور صحافت کے شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ یہ انتخاب دانستہ طور پر کیا گیا، کیوں کہ ایسے افراد اپنے ممالک اور خاندانوں کے لیے خصوصی حیثیت رکھتے تھے اور ان کے بدلے بھاری رقوم حاصل کی جا سکتی تھیں۔ مثال کے طور پر، فرانس کی حکومت نے ۲۰۰۸ء سے اب تک کم از کم ۴۰ ملین ڈالر بطور تاوان ادا کیے۔ اسی طرح، سوئٹزرلینڈ نے قریباً ۴.۱۲ ملین ڈالر، اسپین نے تقریباً ۵.۹ ملین ڈالر اور آسٹریا نے ۲.۳ ملین ڈالر قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں ادا کیے۔
فرانسیسی صحافیوں کی رہائی کا ایک مشہور واقعہ اس بحران کی نمایاں مثال ہے۔ تقریباً دس ماہ قید میں رہنے کے بعد چار فرانسیسی صحافی رہا کیے گئے۔ اگرچہ فرانس کی حکومت نے باضابطہ طور پر تاوان دینے کی تردید کی، لیکن جرمن ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا کہ تقریباً ۱۸ ملین ڈالر فرانس کے وزیر دفاع کے ذریعے ترکی پہنچائے گئے تاکہ انہیں اغوا کاروں تک پہنچایا جا سکے۔ یہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اکثر اوقات حکومتیں اپنے شہریوں کی جان بچانے کے لیے خفیہ یا اعلانیہ طور پر فدیہ اور تاوان دیتی ہیں، حالانکہ یہ عمل دہشت گردی کی مالی اعانت کا ایک ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔
اٹلی بھی اس بحران کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ۲۰۱۳–۲۰۱۴ء میں، ایک سوئس نژاد اطالوی امدادی کارکن فریڈیریکو موتکا داعش کے ہاتھوں اغوا ہوا۔ رپورٹس کے مطابق، اس کی رہائی کے بدلے میں تقریباً ۷ ملین ڈالر ادا کیے گئے۔ اسی طرح، شام میں اغوا ہونے والی دو اطالوی امدادی کارکنان وانیسا مارزولو اور گریتا رامئیلی کے بدلے میں اطالوی حکومت نے داعش کو لگ بھگ ۱۲ ملین یورو تاوان دیا۔
یہ صورتِ حال یورپی ممالک کو سنگین اخلاقی اور تزویراتی مشکلات سے دوچار کرتی ہے۔ اگر حکومتیں تاوان نہ دیں تو اپنے شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں؛ اور اگر دیں تو دہشت گردوں کی مالی مدد کرتی ہیں اور اغوا کاری کو مزید طول بخشتی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک نے یہ سخت مؤقف اختیار کیا کہ وہ کسی بھی حال میں تاوان نہیں دیں گے، لیکن بعض یورپی حکومتیں اپنے شہریوں کی رہائی کے لیے خفیہ یا علانیہ طور پر رقوم ادا کرتی ہیں۔ یہی رویہ داعش کی مالیاتی بنیادوں کے پھیلاؤ اور مضبوطی کا ایک اہم ذریعہ بنا۔
یہ پورا عمل دراصل امن و سلامتی، قانون، سیاسی پالیسیوں اور اخلاقی اقدار کے درمیان ایک پیچیدہ تجزیہ ہے، جس پر آج تک بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور انسدادِ دہشت گردی ایجنسیوں کے درمیان بحث و اختلاف جاری ہے۔ ہر ملک اپنے خارجی تعلقات، عالمی ذمہ داریوں اور اندرونی دباؤ کے مطابق اس معاملے پر اپنا مؤقف طے کرتا ہے۔ یہی بات اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ داعش کو تاوان کے ذریعے مالی وسائل فراہم ہونے کے مسئلے پر عالمی سطح پر کوئی مشترکہ اور متفقہ لائحہ عمل موجود نہیں۔
مجموعی طور پر، تاوان کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی نے نہ صرف داعش کی عسکری کارروائیوں کو دوام بخشا، بلکہ عالمی امن و سیاست کے لیے ایک پیچیدہ اور مستقل چیلنج بھی پیدا کیا ہے، جس کے حل کی تلاش اب تک عالمی برادری اور حکومتوں کے سامنے ایک بڑی ضرورت کے طور پر موجود ہے۔

