داعش کے ہاتھوں یورپی شہریوں کے اغوا اور فدیہ وصولی کے واقعات:
پہلا واقعہ: فرانسیسی صحافی فیلیپ لکوربیر کا اغوا (۲۰۱۳ء)
۲۰۱۳ء میں داعش نے فرانسیسی صحافی فیلیپ لکوربیر کو اُس وقت اغوا کر لیا جب وہ شام کی جنگ کی رپورٹنگ کے لیے وہاں موجود تھے۔
فدیہ:
داعش نے ان کی رہائی کے بدلے تقریباً ڈھائی ملین (۲.۵) امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا۔ یہ واقعہ یورپی شہریوں کے اغوا کی کارروائیوں کے سلسلے میں داعش کی اولین اور بنیادی مثالوں میں شمار ہوتا ہے۔
نتائج:
فدیے کے اس بڑے مطالبے کے دو اہم اثرات مرتب ہوئے:
۱۔ داعش کی مالی ذرائع میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے اس کے دیگر عسکری اور تنظیمی سرگرمیوں کی استعداد میں اضافہ ہوا۔
۲۔ اس مالی کامیابی نے داعش کو مزید حوصلہ دیا کہ وہ زیادہ منافع کے لیے یورپی شہریوں کے اغوا کی کارروائیاں جاری رکھے۔
ردِعمل کی جانچ:
فرانسیسی حکومت نے صحافی کی رہائی کے لیے تبادلے اور مذاکرات کی کوششیں کیں، تاہم غیر رسمی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالآخر مطلوبہ رقم داعش کو ادا کر دی گئی۔
دوسرا واقعہ: برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز کا اغوا (۲۰۱۴ء)
۲۰۱۴ء میں داعش نے برطانوی امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز کو شام میں اس وقت اغوا کر لیا جب وہ انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔
فدیہ:
ان کی رہائی کے بدلے تقریباً تین ملین (۳,۰۰۰,۰۰۰) امریکی ڈالر کی رقم ادا کی گئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ داعش نے یورپی شہریوں کے اغوا کو اپنی مالیاتی حکمتِ عملی کا ایک سنجیدہ حصہ بنا رکھا تھا۔ بھاری فدیے کے مطالبات نے داعش کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ کیا، جس سے وہ مزید اغوا اور دہشت گردانہ کارروائیاں سرانجام دینے کے قابل ہو گئی۔
ردِعمل کی جانچ:
برطانوی حکومت نے باضابطہ طور پر فدیہ کی ادائیگی کی تردید کی، تاہم بعض غیر رسمی ذرائع کے ذریعے اقدامات کیے گئے۔ یہ صورتحال حکومت کے ’’فدیہ نہ دینے‘‘ کی پالیسی کی پیچیدگی اور عملی مشکلات کو اجاگر کرتی ہے۔
تیسرا واقعہ: اطالوی ڈاکٹر کا اغوا (۲۰۱۵ء)
۲۰۱۵ء میں ایک اطالوی ڈاکٹر کو داعش نے اغوا کر لیا۔
فدیہ:
ان کی رہائی کے لیے ایک ملین (۱,۰۰۰,۰۰۰) امریکی ڈالر ادا کیے گئے۔ یہ واقعہ داعش کی مالی حکمتِ عملی کی ایک مثال ہے، جس میں صحت کے پیشے سے منسلک افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ یہ پیشہ ور افراد اغوا کے لیے مالی اعتبار سے زیادہ قیمتی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے داعش اپنے مالی وسائل بڑھاتے اور اپنی کارروائیوں کی تمویل جاری رکھتے۔
ردِعمل کی جانچ:
اٹلی نے سفارتی مذاکرات کے ذریعے کوشش کی، جو ظاہر کرتا ہے کہ کچھ ممالک فدیہ نہ دینے کی پالیسی کے باوجود اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے متوازن حکمتِ عملی اپناتے ہیں۔
چوتھا واقعہ: جرمن صحافی کا اغوا (۲۰۱۶ء)
۲۰۱۶ء میں ایک جرمن صحافی کو شام کی جنگ کے دوران داعش نے اغوا کیا۔
فدیہ:
ان کی رہائی کے بدلے ۲.۵ ملین (۲,۵۰۰,۰۰۰) امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا گیا۔
داعش صحافیوں کو اغوا کر کے عالمی توجہ اپنی جانب مرکوز کرتی ہے، جس سے نہ صرف میڈیا کی توجہ حاصل ہوتی ہے بلکہ فدیہ کے لیے بین الاقوامی دباؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔ یہ رویہ داعش کی جاری مالی اور تبلیغاتی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔
ردِعمل کی جانچ:
بین الاقوامی دباؤ صحافی کی رہائی کے لیے بڑھ گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ عالمی اتفاق اور دباؤ اغوا کے معاملات حل کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
پانچواں واقعہ: ہالینڈ کے انجینئر کا اغوا (۲۰۱۵ء)
۲۰۱۵ء میں ہالینڈ کے ایک انجینئر کو داعش نے شام جنگ کے دوران اغوا کر لیا۔
فدیہ:
ان کی رہائی کے لیے تقریباً ۱.۸ ملین (۱,۸۰۰,۰۰۰) امریکی ڈالر ادا کیے گئے۔ یہ واقعہ داعش کی اقتصادی حکمتِ عملی کی ایک مثال ہے، جس میں پیشہ ور افراد کو مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس قسم کے اغوا سے داعش کے مالی نیٹ ورک میں اضافہ ہوتا اور قیمتی اہداف کو ترجیحی بنیادوں پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ردِعمل کی جانچ:
ہالینڈ نے انٹیلی جنس تعاون کے ذریعے سکیورٹی اقدامات مضبوط کرنے کی کوشش کی، جو شدت پسندوں کے مالی وسائل محدود کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔
چھٹا واقعہ: ہسپانوی سیاح کا اغوا (۲۰۱۷ء)
۲۰۱۷ء میں ایک ہسپانوی سیاح کو عراق کے ایک شہر میں داعش نے اغوا کیا۔
فدیہ:
اس کی رہائی کے لیے تقریباً ۲ ملین (۲,۰۰۰,۰۰۰) امریکی ڈالر ادا کیے گئے۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ سیاح بھی داعش کے لیے مالی وسائل کا ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں اور اغوا کی کارروائیاں صرف صحافیوں یا طبی و خیراتی کارکنوں تک محدود نہیں ہیں۔ اس کے ذریعے داعش متنوع مالی وسائل حاصل کرنے کی حکمتِ عملی نافذ کرتا ہے۔
ردِعمل کی جانچ:
اسپین نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی اقدامات مضبوط کیے، جس کا مقصد شدت پسندوں کی کارروائیوں کو روکنا اور داعش پر مالی دباؤ کم کرنا تھا۔

