انسانی اسمگلنگ سے داعش کی عالمی آمدنی(۵)
بارہواں (۱۲) کیس:
عنوان: لڑکیوں کو جنسی غلامی کے لیے عراق سے شام اسمگل کیا گیا
مقام: عراق، موصل
ہدف: ۱۴ سے ۲۱ سال کی لڑکیاں
اسمگلر: داعش کے مسلح کارندے
مالی فائدہ: فی لڑکی اوسطاً ۲۵۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: لڑکیوں کو جبراً اغوا کیا جاتا ہے اور جنسی غلامی کے لیے دیگر علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ لڑکیاں مقامی انسانی حقوق کے اداروں کی مدد سے آزاد ہوئیں
سبق: جنسی غلامی داعش کی مالی آمدنی کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔
تیرہواں (۱۳) کیس:
عنوان: کمسن بچوں کو جنگجو بنانے کے لیے اسمگل کیا گیا
مقام: شام، حسکہ
ہدف: ۱۳ سے ۱۷ سال کے لڑکے
اسمگلر: داعش کے مسلح کارندے اور مقامی اسمگلرز
مالی فائدہ: فی بچہ تقریباً ۱۱۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: بچوں کو اغوا کر کے عسکری تربیت دی جاتی ہے اور میدانِ جنگ میں استعمال کیا جاتا ہے
نتیجہ: کچھ بچے بین الاقوامی فورسز کے ذریعے بازیاب ہوئے۔
سبق: بچے صرف جنگ کے لیے تربیت نہیں پاتے بلکہ داعش کی مالی آمدنی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
چودھواں (۱۴) کیس:
عنوان: خواتین کو مزدوری کے لیے ترکی اسمگل کیا گیا
مقام: شام – ترکی سرحد
ہدف: ۲۰ سے ۳۰ سال کی خواتین
اسمگلر: داعش سے منسلک مقامی اسمگلرز
مالی فائدہ: فی عورت ۱۵۰۰ سے ۱۸۰۰ ڈالر داعش کو ملتے ہیں
طریقۂ واردات: خواتین کو گھریلو کام کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ خواتین پناہ گزین کیمپوں تک پہنچیں اور وہاں سے آزاد ہوئیں۔
سبق: داعش کے پاس ایک بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورک ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتی ہے۔
پندرھواں (۱۵) کیس:
عنوان: اسمگل کی گئی لڑکیاں مزدوری اور غلامی کے لیے عراق بھیجی گئیں
مقام: شام-عراق سرحد
ہدف: ۱۸ سے ۲۴ سال کی لڑکیاں
اسمگلر: داعش کے مسلح کارندے اور مقامی اسمگلرز
مالی فائدہ: فی لڑکی ۲۰۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: لڑکیوں کو اغوا کر کے غیر قانونی طور پر عراق لے جایا جاتا ہے، جہاں انہیں گھریلو کام اور جنسی تشدد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ لڑکیاں انسانی حقوق کے اداروں کی مداخلت سے آزاد ہوئیں
سبق: انسانی اسمگلنگ داعش کی تجارت کا ایک وسیع اور منظم نیٹ ورک ہے۔
سولہواں (۱۶) کیس:
عنوان: اسمگل کی گئی خواتین کو شام میں جنسی غلامی پر مجبور کیا گیا
مقام: شام، حمص صوبہ
ہدف: ۱۸ سے ۳۲ سال کی خواتین
اسمگلر: داعش کے مسلح کارندے اور مقامی اسمگلرز
مالی فائدہ: فی عورت تقریباً ۲۳۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: خواتین کو جنسی غلامی کے لیے اغوا کر کے جنگ زدہ علاقوں میں اسمگل کیا جاتا ہے
نتیجہ: کچھ خواتین انسانی حقوق کی تنظیموں کی کوشش سے آزاد ہوئیں
سبق: داعش کے لیے جنسی غلامی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
اٹھارہواں (۱۸) کیس:
عنوان: خواتین کو گھریلو ملازمت کے لیے عراق کے شہروں میں اسمگل کیا گیا
مقام: عراق، بغداد
ہدف: ۲۵ سے ۳۵ سال کی خواتین
اسمگلر: داعش کے مسلح کارندے اور مقامی اسمگلرز
مالی فائدہ: فی عورت تقریباً ۱۵۰۰ ڈالر داعش کو ملتے ہیں
طریقۂ واردات: خواتین کو گھریلو کام کے لیے اسمگل کر کے غیر قانونی طور پر شہروں میں لے جایا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ خواتین انسانی حقوق کے اداروں کی کوشش سے آزاد ہوئیں
سبق: داعش انسانی اسمگلنگ کے ذریعے معاشی فائدہ اٹھانے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک رکھتی ہے۔
انیسواں (۱۹) کیس:
عنوان: لڑکیوں کو جنسی غلامی کے لیے شام بھیجا گیا
مقام: شام، حلب
ہدف: ۱۵ سے ۲۳ سال کی لڑکیاں
اسمگلر: داعش کے مسلح کارندے اور مقامی اسمگلرز
مالی فائدہ: فی لڑکی تقریباً ۲۵۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: لڑکیوں کو اغوا کر کے دیگر علاقوں میں جنسی غلامی کے لیے اسمگل کیا جاتا ہے
نتیجہ: کچھ لڑکیاں بین الاقوامی اداروں کی مدد سے آزاد ہوئیں
سبق: جنسی غلامی داعش کی آمدنی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔
بیسواں (۲۰) کیس:
عنوان: لڑکوں کو جنگجو بنانے کے لیے عراق اور شام کے درمیان اسمگل کیا گیا
مقام: عراق-شام سرحدی علاقہ
ہدف: ۱۲ سے ۱۸ سال کے لڑکے
اسمگلر: داعش کے مسلح کارندے اور اسمگلنگ نیٹ ورکس
مالی فائدہ: ہر تربیت یافتہ لڑکا داعش کو سالانہ ۱۱۰۰ ڈالر کی آمدنی فراہم کرتا ہے
طریقۂ واردات: بچوں کو اغوا کر کے فوجی تربیت دی جاتی ہے
نتیجہ: کچھ لڑکے مقامی سیکیورٹی فورسز کی مدد سے بازیاب ہوئے
سبق: داعش بچوں کی اسمگلنگ اور تربیت کے ذریعے اپنی فوجی طاقت اور مالی آمدنی بڑھاتی ہے۔

