Site icon المرصاد

داعشی خوارج کے ذرائع آمدن کی نوعیت | نویں قسط

غیر ملکی بینکوں سے چوری:
داعشی گروہ اپنی بقا اور توسیع کے لیے وسیع مالی وسائل کا محتاج ہے۔ مالی وسائل حاصل کرنے کے مختلف طریقے اس گروہ کی سرگرمیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، بالخصوص وہ طریقے جو اسے عالمی مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ غیر ملکی بینکوں کے نظام سے مالی وسائل کی چوری ان اہم اور پیچیدہ ذرائع میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے داعش کی توسیع میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

داعش نے سائبر حملوں، غیر قانونی حوالہ سسٹمز اور جعلی مالیاتی دستاویزات کی تیاری کے ذریعے عالمی بینکاری نظام سے غیر قانونی رقوم چرائیں۔ انہی طریقوں کے ذریعے داعش نے لاکھوں ڈالر کا سرمایہ حاصل کیا جسے اس نے مسلح کارروائیوں، پروپیگنڈے اور علاقوں پر قبضے کے لیے استعمال کیا۔ تحقیق کے مطابق صرف سائبر حملوں اور غیر رسمی مالی ذرائع سے داعش کی سالانہ آمدنی تیس ملین ڈالر تک پہنچتی ہے۔

یہ مسئلہ عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے کیونکہ داعش کے مالی وسائل ختم کرنے کی کوششیں زیادہ تر ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی وجہ سے مشکل بن گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، بین الاقوامی بینکوں کے کمزور نگرانی کے نظام اور غیر قانونی مالیاتی نیٹ ورکس کے پھیلاؤ نے داعش کے لیے مالی وسائل تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں، داعش کے بینکاری نظام سے چوری کی حکمتِ عملی کے اتجزیے کے ساتھ ساتھ کئی عملی عالمی واقعات کو بھی زیرِ غور لایا گیا ہے۔

داعش کی غیر ملکی بینکاری نظام سے مالی وسائل چرانے کی حکمتِ عملی
داعش نے اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے صرف روایتی مالی وسائل پر انحصار نہیں کیا، بلکہ اس نے نئی ٹیکنالوجی، سائبر ہتھکنڈوں اور بینکاری نظام کی کمزوریوں سے نہایت تیز رفتاری اور چالاکی کے ساتھ فائدہ اٹھایا۔ اس گروہ کی مالی حکمتِ عملی اس انداز سے ترتیب دی گئی ہے کہ عالمی مالیاتی منڈیوں پر قائم سکیورٹی نگرانی کے نظاموں پر شدید دباؤ ڈالتی ہے اور اس طرح اپنی غیر قانونی مالی ذرائع کو محفوظ بناتی ہے۔

یہ طریقۂ کار نہ صرف داعش کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے میں حیاتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے اور جاری آپریشنز کے تسلسل کی بھی ضمانت بنتا ہے۔ انہی اقدامات میں ایک بنیادی طریقہ کار جدید سائبر حملے اور ہیکنگ کے حربے ہیں۔ داعش آن لائن بینکاری نظاموں کی سکیورٹی خامیوں کو پہچان کر، فشنگ، مالویئر اور دیگر سائبر ہتھیاروں کے ذریعے اکاؤنٹس کی معلومات چرا لیتی ہے۔

یہ حملے عموماً ان بینکوں کو نشانہ بناتے ہیں جو جدید سکیورٹی ٹیکنالوجی یا نگرانی سے محروم ہوں، کیونکہ ایسے بینک ہیکنگ کے لیے آسان ہدف سمجھے جاتے ہیں۔ ان ہیک شدہ اکاؤنٹس سے داعش براہِ راست مالی وسائل حاصل کر کے اپنے مسلح سرگرمیوں اور دیگر کارروائیوں کے لیے سرمایہ فراہم کرتی ہے۔ یہ سائبر حملے داعش کے مالی نیٹ ورک میں ایک نئی اور مؤثر حکمتِ عملی کی علامت ہیں جو بڑی حد تک عالمی نگران اداروں کی نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔

دوسری طرف، داعش غیر رسمی حوالہ سسٹم سے بھی غیر معمولی فائدہ اٹھاتی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عام ہے۔ یہ نظام باضابطہ بینکاری حوالہ جات کے برخلاف کسی بھی سرکاری اندراج یا نگرانی کے بغیر کام کرتا ہے، جس کے باعث عالمی نگران اداروں کے لیے اس کی شناخت اور کنٹرول ایک بڑا چیلنج ہے۔ داعش اسی ذریعے سے نہایت آسانی کے ساتھ اور بغیر کسی نشان چھوڑے، اپنے مالی وسائل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہے۔

Exit mobile version