عالمی انسانی اسمگلنگ کی آمدنی(۴)
پانچواں (۵) کیس: مزدوری کے لیے اسمگل کی گئی لڑکیاں ترکمانستان بھیجی گئیں
مقام: شام – ترکمانستان سرحدی علاقہ
ہدف بننے والے افراد: ۱۴ سے ۲۰ سال کی لڑکیاں
اسمگلرز: مقامی اسمگلنگ نیٹ ورکس، داعش کے تعاون سے
مالی فائدہ: ہر لڑکی کے بدلے ترکی اور ترکمانستان سے اسمگلروں کو تقریباً ۱۰۰۰ ڈالر ادا کیے جاتے ہیں
طریقۂ واردات: اسمگل کی گئی لڑکیوں کو مزدوری اور بعض اوقات جنسی غلامی کے لیے بیرون ممالک بھیجا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ لڑکیاں اسمگلروں سے چھڑالی گئیں، مگر زیادہ تر ابھی تک لاپتہ ہیں
سبق: داعش اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے اسمگلنگ نیٹ ورکس کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔
چھٹا (۶) کیس: جنگجو تربیت کے لیے بچوں کی اسمگلنگ
مقام: عراق، تکریت
ہدف بننے والے افراد:۱۰ سے ۱۵ سال کے لڑکے
اسمگلرز: داعش کا باضابطہ عسکری ونگ اور مقامی اسمگلنگ نیٹ ورکس
مالی فائدہ: ہر لڑکے کی جنگجو کے طور پر تربیت کے بعد داعش کو سالانہ تقریباً ۱۲۰۰ ڈالر آمدنی ہوتی ہے۔
طریقۂ واردات: لڑکوں کو زبردستی ان کے خاندانوں سے چھین لیا جاتا ہے اور عسکری تربیت میں شامل کیا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ لڑکوں کو عراقی سکیورٹی فورسز نے بازیاب کرا لیا، لیکن اکثر اب بھی جنگ میں ملوث ہیں۔
سبق: اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ کم عمر بچے داعش کی عسکری قوت بڑھانے کا اہم ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے مالی آمدنی بھی حاصل کی جاتی ہے۔
ساتواں (۷) کیس: جنسی غلامی کے لیے خواتین کی نینوا میں اسمگلنگ
مقام: عراق، نینوا صوبہ
ہدف بننے والے افراد: ۱۶ سے ۲۸ سال کی خواتین
اسمگلرز: داعش کے مسلح افراد اور مقامی اسمگلر
مالی فائدہ: ہر عورت کے بدلے تقریباً ۲۲۰۰ ڈالر
طریقۂ واردات: خواتین کو جنگ سے متاثرہ علاقوں میں پکڑا جاتا ہے اور پھر جنسی غلامی کے لیے دیگر علاقوں میں اسمگل کیا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ خواتین کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی مداخلت سے آزاد کرایا گیا۔
سبق: داعش جنسی غلامی کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کا بڑا کاروبار چلاتی ہے۔
آٹھواں (۸) کیس: مزدوری کے لیے اسمگل کی گئی لڑکیاں ترکی بھیجی گئیں
مقام: شام – ترکی سرحد
ہدف بننے والے افراد: ۱۸ سے ۲۵ سال کی لڑکیاں
اسمگلرز: مقامی اسمگلر جو داعش سے منسلک ہیں
مالی فائدہ: ہر لڑکی کے بدلے ۱۵۰۰ سے ۲۰۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: اسمگل کی گئی لڑکیوں کو گھریلو کام کاج اور بعض اوقات جنسی غلامی کے لیے ترکی اور دیگر یورپی ممالک بھیجا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ لڑکیاں مہاجر کیمپوں سے چھڑالی گئیں۔
سبق: داعش انسانی اسمگلنگ کے لیے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک رکھتی ہے۔
نواں (۹) کیس: موصل میں اغوا شدہ خواتین سے غلام اور باندیوں جیسا سلوک
مقام: عراق، موصل
ہدف بننے والے افراد: ۲۰ سے ۳۵ سال کی خواتین
اسمگلرز: داعش کے مسلح جنگجو
مالی فائدہ: ہر عورت کے بدلے تقریباً ۱۸۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: خواتین کو گھریلو کام اور جنسی غلامی کے لیے پکڑا اور بیچا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ خواتین کے آزاد ہونے کی اطلاعات ہیں، مگر بڑی تعداد اب بھی قید میں ہے۔
سبق: داعش انسانی اسمگلنگ سے نہ صرف مالی فائدہ حاصل کرتی ہے بلکہ اپنے جنگی نظام کو بھی سہارا دیتی ہے۔
دسواں (۱۰) کیس: کم عمر لڑکوں کو جنگجو بنا کر شام میں تربیت دینا
مقام: شام، دیرالزور
ہدف بننے والے افراد: ۱۲ سے ۱۷ سال کے لڑکے
اسمگلرز: داعش کے مسلح جنگجو اور مقامی اسمگلنگ نیٹ ورکس
مالی فائدہ: ہر لڑکے کی تربیت کے بعد سالانہ ۱۰۰۰ سے ۱۳۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں۔
طریقۂ واردات: کم عمر لڑکوں کو اغوا کیا جاتا ہے، عسکری تربیت دی جاتی ہے اور پھر جنگی میدان میں استعمال کیا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ بچوں کو مقامی مخالفین نے بازیاب کرایا، لیکن زیادہ تر اب بھی داعش کی صفوں میں ہیں۔
سبق: داعش کم عمر بچوں کو جنگ کے لیے استعمال کرتی ہے اور اس عمل سے بھی مالی فائدہ حاصل کرتی ہے۔
گیارہواں (۱۱) کیس: گھریلو کام کے لیے خواتین کی اسمگلنگ
مقام: شام، حلب
ہدف بننے والے افراد: ۲۲ سے ۳۵ سال کی خواتین
اسمگلرز: داعش کے مسلح جنگجو اور مقامی اسمگلر
مالی فائدہ: ہر عورت کے بدلے تقریباً ۱۲۰۰ ڈالر داعش کو حاصل ہوتے ہیں
طریقۂ واردات: خواتین کو گھریلو کام کے لیے پکڑا جاتا ہے اور غیر قانونی طور پر دیگر علاقوں میں اسمگل کیا جاتا ہے۔
نتیجہ: کچھ خواتین کو بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے تلاش کر کے آزاد کرایا۔
سبق: داعش اس طریقے سے اپنی مالیاتی وسائل بڑھاتی ہے اور جنگ زدہ علاقوں میں خواتین کی اسمگلنگ کرتی ہے۔

