Site icon المرصاد

داعشی خوارج کے گفتار و کردار میں تضاد!

وہ لوگ جو خود کو داعش گروہ سے فکری طور پر منسلک سمجھتے ہیں، ان کی باتوں اور کردار میں واضح تضاد دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ تحریک اور گروہ، جو حقیقت میں دین داری اور دینی اقدار سے کوسوں دور ہے، اس کی باتوں اور عمل میں اس قدر دوری پائی جاتی ہے کہ کوءی بھی ان دو چیزوں کےدرمیان تعلق بیان کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

داعش (دولة الاسلامية في العراق والشام) نامی گروہ نے اپنے قیام کے ابتدائی دنوں میں ایسی دلکش باتیں اپنے سامعین کے سامنے پیش کیں کہ سب حیران رہ گئے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ان کے سیاہ چہروں سے نقاب ہٹ گیا اور ان کا اصلی چہرہ سب کے سامنے عیاں ہو گیا۔ یہ واضح ہوا کہ ان کی دلکش باتوں کے پیچھے ہزار مکروہ اعمال چھپے ہیں۔

داعش کی جانب سے نوجوانوں اور عام لوگوں کے استحصال کا نقطہ نظر اس قدر ان کی دلفریب باتوں میں چھپا ہوا تھا کہ جب کوئی ان کی ظاہری باتوں کو سنتا، وہ ان سے متاثر ہوئے اور ان کی جانب راغب ہوئے بغیر نہ رہ پاتا۔ لیکن تھوڑا ہی وقت گزرنے اور ان کے اعمال کا دینی اصولوں سے موازنہ کرنے پر معلوم ہوتا کہ وہ اپنی ہی کہی ہوئی باتوں سے کتنا دور ہیں۔

ان کے اعمال اور کردار ان کی باتوں سے اس قدر مختلف تھے کہ اس نکتے کو سمجھنے کے بعد انسان ان کی تحریک اور گروہ سے مکمل طور پر بیزار ہو جاتا اور ان کے ساتھ شامل ہونے کو عار سمجھتا۔

اسلامی صالح اصطلاحات اور اقدار اور اسلامی علماء سے ناجائز فائدہ اٹھانا اس تکفیری گروہ کے نظریات کی جڑوں میں سمایا ہوا ہے۔ داعش نے اپنی باتوں کی دلکشی کے ذریعے اس قدر مہارت سے دیگر گروہوں پر بازی لی کہ بہت کم وقت میں اس نے اپنے لیے ایک بہت بڑی فوج تیار کر لی۔

لیکن چونکہ ان کی یہ ظاہری دلکش باتیں سچ پر مبنی نہیں تھیں اور ان کے حلق سے اوپر اوپر سے ہی ادا ہو جاتی تھیں، اس لیے جو جمِ غفیر ان کے ذریعے جمع ہوا تھا، وہ تیزی سے میدان چھوڑ گیا اور خود کو خطرے سے بچا لیا۔

تاریخ میں بہت سے گروہ ابھر کر سامنے آئے ہیں جنہوں نے چھوٹی چھوٹی باتوں کے ذریعے کچھ لمحوں کے لیے اپنی حاکمیت قائم کی، لیکن چونکہ ان کا یہ حربہ صرف دنیاوی خواہشات اور نچلے درجے کے دنیاوی مقاصد کے حصول کے لیے تھا، اس لیے تھوڑے وقت کے گزرنے کے بعد ان کی اندرونی سیاہی عیاں ہو گئی اور ان کی چھپی ہوئی حقیقت عیاں ہو گئی۔

داعش بھی انہی گروہوں میں سے ایک ہے جس کی اصلیت اور شوم مقاصد تاریخ میں بے نقاب ہوئے۔ بہت سے لوگ جو ان کے گرد جمع ہوئے تھے اور ان کی خوبصورت باتوں کے دھوکے میں آ گئے تھے، وہ ان سے الگ ہو گئے اور انہوں نے صحیح راستہ اور حقیقت پا لی۔

جو لوگوں کو دھوکہ دینے کو اپنی ذہن اور نظریات میں جگہ دیتا ہو اور اسے سعادت کی راہ سمجھتا ہو، وہ کبھی بھی اس دنیا میں سیادت، حاکمیت اور حکومت کا رنگ نہیں دیکھ سکتا اور آخرت میں بھی نقصان اٹھانے والوں اور تباہ ہونے والوں میں سے ہوگا۔

یہ خوارج اس قدر مغربی سیاسی افکار میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ ان کے نعروں کو اپنا کر اپنی حکومت کی راہ بناتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں کے ذہن میں ہدف تک پہنچنا ہی مقصد ہوتا ہے، چاہے اس کے لیے جو بھی ذرائع اپنائے جائیں۔

ان کے نظریے میں ہدف ذریعے کے جائز ہون کا ثبوت ہوتا ہے، یعنی ایک بڑے ہدف تک پہنچنے کے لیے ہر ذریعے کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ حقیقی اسلامی افکار میں یہ عقیدہ اسلامی اقدار سے بہت دور ہے۔

ایک مسلمان کسی ہدف تک پہنچنے کے لیے مختلف اور غیر شرعی ذرائع سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، لیکن داعش کے نظریے میں اعلیٰ ہدف تک پہنچنا ذریعے کو جائز قرار دیتا ہے، یعنی انسان ایک ہدف تک پہنچنے کے لیے غیر شرعی اور دین و شریعت کے خلاف راستوں کو بھی اپنا سکتا ہے۔

اسی وجہ سے حاکمیت اور سیادت حاصل کرنے کے ہدف تک پہنچنے کے لیے وہ ہر ذریعے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، چاہے وہ ذریعہ لوگوں کو دھوکہ دینا ہو یا کوئی اور ذریعہ اختیار کرنا ہو جو خود اسلامی اصولوں سے متصادم ہو۔

Exit mobile version