اسرائیلی صیہونی حکومت نے اپنے دیگر سیاسی اور انسانی جرائم کے ساتھ ساتھ، فلسطینی عوام بالخصوص غزہ کے مظلوم باشندوں پر ظلم و بربریت کی ایک طویل اور خونریز تاریخ رقم کی ہے۔ اس کے افعال نے ایک طرف تو جدید دنیا اور اکیسویں صدی کی بربریت اور تشدد کی انتہا کو واضح کیا، اور دوسری طرف اس نے امریکہ اور مغربی ممالک کے نام نہاد انسانیت پسند اصولوں اور پالیسیوں کو چیلنج کیا، جو اسلامی ممالک کے خلاف ایک روحانی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
صیہونی وحشی نظام اپنے یہ جرائم تنہا انجام نہیں دے سکتا، بلکہ اس کے پیچھے امریکہ اور تقریباً تمام مغربی ممالک کی مالی، عسکری اور سیاسی حمایت موجود ہے۔ یہ سب مل کر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو مسلمانوں کے قتل اور اسلامی سرزمین پر قبضے کے لیے معلوماتی اور آپریشنل منصوبے فراہم کرتے ہیں، اور ایک غیر قانونی اور ناجائز رژیم کو ایٹمی ہتھیاروں سے لے کر جدید ٹیکنالوجی کے ہر قسم کے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے جدید وسائل مہیا کرتے ہیں۔
اسرائیل اپنے طویل مدتی اور قلیل مدتی مقاصد کے نفاذ کے لیے نہ صرف براہ راست میدان عمل میں آتا ہے، بلکہ بلواسطہ طور پر بھی اپنی پراکسی گروہوں اور دہشت گردوں کی مدد سے ان مقاصد کو ہر ممکن طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان گروہوں میں سے ایک داعشی خوارج کا گروہ ہے، جو مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا کے بیشتر ممالک تک سخت سکیورٹی کنٹرول کے باوجود نقل و حرکت کی سہولیات رکھتا ہے، اور حتیٰ کہ یورپی ممالک کے ساتھ روابط اور تعاون کے لیے وسیع راہداریاں رکھتا ہے۔
شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے شہر تل ابیب میں واقع اس شہر کی یونیورسٹی کے اسلامی مطالعات کے مرکز یا فیکلٹی میں اعلیٰ سہولیات کے ساتھ کچھ نام نہاد اور ظاہری شکل میں مسلم افراد کو اسلامی سیاست، معیشت اور انتظامیہ کے شعبوں میں تربیت دی جاتی ہے۔ یہ افراد ظاہری طور پر مسلمان دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں اسلامی ممالک اور ان کے بنائے ہوئے گروہوں میں رہنماؤں اور منتظمین کے روپ میں بھیجے جاتے ہیں، اور پھر ان کے میڈیا کے ذریعے ان کی مقبولیت اور اسلامی معاشروں میں جذب کے لیے وسیع مہم چلائی جاتی ہے۔ اس کام کو امریکی یونیورسٹیوں کا نیٹ ورک بھی اسلامی ممالک میں آگے بڑھاتا ہے۔
اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک موساد نے MI6 اور CIA کے تعاون سے عراق اور شام میں داعش خوارج کے "اسلامی ریاست” کے قیام اور ابھار میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل کے مذہبی و قریبی تعلقات اور مشترکہ مقاصد ہیں۔ اور انہیں اسلام کے خطرناک دشمنوں (یہود و نصاریٰ) کے طور پر کبھی فراموش نہیں کیا گیا۔ عراق کی طرح افغانستان میں بھی امریکی قبضہ گروں نے وقتاً فوقتاً داعشی خوارج کو آپریشنل اور عملی منصوبے فراہم کیے، اور مشکل دنوں میں انہیں اپنے فوجی اڈوں کی طرف پناہ دی تاکہ میڈیا کی رسوائی سے بچ سکیں۔
سرد اور فکری جنگ میں بھی یہود کا تاریخی پس منظر ہے۔ جب بھی وہ مسلمانوں کے ساتھ براہ راست جنگوں میں شکست سے دوچار ہوئے، انہوں نے اپنا دوسرے حربے یعنی فکری اور پروپیگنڈا جنگ کی طرف رخ کیا، جس کا ایک مقصد مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنا ہے۔ ممالک کے درمیان سرحدیں اور حملے طے کرنا یا مذہبی تفریق پیدا کرنا ان کا ایک اور بڑا اور مؤثر ہتھیار ہے۔
داعشی خوارج نے بھی اپنی سرگرمیوں کے آغاز سے اس حربے کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے متعدد شیعہ افراد کو نشانہ بنایا، ان کے مذہبی مقامات اور تقریبات پر حملے کیے، اور کوشش کی کہ اہل سنت اور اہل تشیع کو ایک دوسرے کا دشمن دکھائیں۔ داعشی خوارج متعدد شیعہ افراد کے قاتل ہیں، اور اسرائیل بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ماریں تاکہ انہیں قتل کی ضرورت نہ رہے۔
اس کے علاوہ داعش خوارج اور اسرائیل کے درمیان کئی دیگر مماثلتیں بھی ہیں، جن میں سے ایک عام شہریوں کا قتل ہے تاکہ اس سے وحشت پھیلائی جائے۔ یہ قتل عام اسلام کے نام پر کیے جاتے ہیں، جس سے اسلام کا عمومی امیج اور غیر مسلموں کے ذہنوں میں اس کے بارے میں تاثر کو بھی خراب کیا جاتا ہے۔
یہ بات موجودہ وقت میں، جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے، بہت واضح ہوتی ہے۔ کیونکہ داعش اور اس سے وابستہ میڈیا ایران پر اسرائیل کے حملوں کے لیے جواز تلاش کرتے ہیں اور اس کے لیے وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کرتے ہیں، جو کہ خود ایک ایسے گروہ کا سیاہ موقف ہے جو اسلام اور اسلامی بھائی چارے کا دعویٰ کرتا ہے۔
اسی طرح، اسرائیل اپنے وسیع خفیہ نیٹ ورک اور یورپی ممالک کے ساتھ امریکہ کے زور پر کھلے تعلقات کے ذریعے داعش کو ان اعمال کی اجرت یا بدلہ دیتا ہے۔ براہ راست اور بالواسطہ طور پر اس کے لیے مہم چلائی جاتی ہے تاکہ اس گروہ کو حقیقی اسلام کا پیروکار اور ایک ایسے طاقتور گروہ کے طور پر متعارف کرایا جائے جس کا مقابلہ مشکل ہے۔ لیکن افغانستان میں ثابت ہوا کہ یہ گروہ حقیقت سے زیادہ ایک پروپیگنڈا اور پراکسی گروہ ہے، جو اسلامی امارت کے فوجیوں کے سامنے ہمیشہ شکست کھاتا رہا اور اس کے گرفتار شدہ ارکان نے اپنی غلطیوں اور وحشتوں کا اقرار کیا۔
ان کے درمیان ایک اور بڑی مماثلت یہ ہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی امریکہ کی ہدایت پر مغربی ممالک کے خلاف کوئی دھمکی آمیز عمل نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ ان کے تئیں وفاداری دکھائی اور ان کے ساتھ کھلے اور معمول کے سفارتی تعلقات رکھے۔ اسی طرح اگر داعش کے اعمال اور پروپیگنڈے پر نظر ڈالیں تو وہ مغرب کے خلاف معمول کا اور نارمل موقف رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ اسے یہ اجازت بھی ہے کہ وہ مغربی ممالک سے اسلام اور جہاد کے نام پر یورپی افراد کو اپنی گروہ میں شامل کرے، ان سے مالی امداد حاصل کرے، اور پھر انہیں جنگ کے لیے استعمال کرے۔
داعش اور اسرائیل دونوں اسلام کے بڑے دشمن ہیں۔ دونوں امریکہ کی پراکسی گروہوں کے طور پر بے مثال تشدد، تباہی اور لوٹ مار میں بھی ایک جیسے ہیں۔ وہ بچوں، خواتین، بوڑھوں اور رہائشی علاقوں پر رحم نہیں کرتے۔ جس طرح غزہ میں اسرائیل بے گناہ فلسطینی شہریوں کو شہید کرتا ہے، ان کے گھروں اور املاک کو لوٹتا ہے، اسی طرح داعشی خوارج بھی عام شہریوں کی زندگی اور موت کی پرواہ نہیں کرتے۔
اگر داعش خوارج واقعی جہاد اور اسلام کے تحفظ کی جدوجہد کر رہے ہیں، تو پھر اب تک انہوں نے صیہونی نظام یا اس کے مراکز پر غزہ کے دفاع میں کوئی حملہ کیوں نہیں کیا؟ حتیٰ کہ غزہ کے مظلوم عوام کے لیے حمایت کی آواز بھی نہیں اٹھائی، بلکہ اس پر خاموش ہیں، حالانکہ عراق، شام اور اردن میں ان کی موجودگی کے پیش نظر فلسطین اور اسرائیل کے علاقوں تک ان کا سفر اتنا مشکل نہیں ہے۔

