داعشی خوارج کا فتنہ پرور گروہ گزشتہ برسوں میں عالمِ اسلام کی سطح پر ایک نہایت تباہ کن انتہا پسند تحریک کے طور پر ابھرا۔ یہ گروہ دین کی غلط تعبیرات اور انتہا پسندانہ افکار کے باعث نہ صرف اسلام کے مقدس اصولوں اور اقدار سے متصادم ہے، بلکہ عملاً اسلام دشمن قوتوں کے مقاصد کو نافذ کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
حال ہی میں سب پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ گروہ بلا شک و شبہ اسلام کے کھلے دشمنوں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے والا ہے اور ایک ہی منبع سے اس کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک اہم منصوبہ حقانی علماء اور ان اہل دین شخصیات کی شہادت ہے جو کافرانہ حکومتوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ گروہ طاغوتی قوتوں کی پشت پناہی میں گزشتہ کئی برسوں سے اہل حق علماء کو راستے سے ہٹانے پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، خصوصاً افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں، کیونکہ اس وقت پاکستان اور اس کی حکومت ہی ان کا واحد محفوظ ٹھکانہ اور پناہ گاہ سمجھی جاتی ہے۔
اگرچہ یہ فتنہ پرور گروہ پاکستانی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی کے باوجود علماء کی شہادت کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور پاکستانی رجیم کے لیے توہین آمیز اور حقارت آمیز القابات استعمال کرتا ہے، لیکن سورج کو دو انگلیوں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔ اگر ان کے دعوے سچے ہوتے تو کیا وہ اتنے طویل عرصے میں اس رجیم کے کسی ایک سپاہی کو بھی نشانہ نہ بنا سکتے تھے؟ جبکہ یہ کام ان کے لیے ہرگز مشکل نہیں
۔
وہ ویڈیوز جو مولانا ادریس صاحب رحمہ اللہ کی شہادت کے مناظر دکھاتی ہیں، بلا شبہ اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ اس گروہ اور پاکستانی رجیم کی منصوبہ بندیاں اور سازشیں ایک ہی ہیں، کیونکہ دن دہاڑے اور شہر کے وسط میں چند مسلح افراد بغیر کسی خوف و فکر کے مولانا صاحب کو شہید کرتے ہیں اور پھر با آسانی وہاں سے نکل جاتے ہیں۔ یہ تمام مناظر اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ ان منصوبوں کا خاکہ کافرانہ حکومتوں نے تیار کیا ہے، جبکہ ان پر عمل درآمد کا بوجھ اس جاہل اور خوارجی گروہ کے کندھوں پر ڈالا گیا ہے۔
ان کے کرتوتوں کے باعث اسلام دشمن قوتوں کو یہ موقع ملا ہے کہ وہ اس گروہ کے اعمال کو اسلام کو بدنام کرنے اور مسلم ممالک میں اپنی مداخلت کے جواز کے طور پر استعمال کریں۔ حالانکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور معاشرے کی رہنمائی اور اسلامی تعلیمات کی درست تشریح میں بنیادی کردار رکھتے ہیں، مگر یہ گروہ انہیں شہید کر کے اعتدال اور حق کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے علماء کا قتل دراصل دینی شعور کو کمزور کرنے اور معاشرے میں جہالت اور انتہا پسندی کے فروغ کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔
مزید برآں، علماء کی شہادت نہ صرف امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم نقصان ہے بلکہ اس گروہ کے حقیقی چہرے کو بھی بے نقاب کرتی ہے، کیونکہ یہ بیرونی دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے امت کے اندر موجود فکری اور اصلاحی قوتوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ طرزِ عمل واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ داعش امت مسلمہ کے داخلی انتشار اور تباہی کی جانب قدم بڑھا رہی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ داعش اپنے کرتوتوں کے سبب عملاً “اسلام دشمنوں کی کٹھ پتلی” بن چکی ہے۔ اس فتنے کے مقابلے کے لیے فکری بیداری، اسلام کی خالص اور مقدس تعلیمات سے مضبوط وابستگی، اور علماء و دینی اداروں سے تعاون ناگزیر ہے، تاکہ اسلامی معاشرہ اس قسم کے منحرف گروہوں کے سامنے ڈٹ سکے اور اعتدال و عزت کی راہ کو برقرار رکھ سکے۔

