Site icon المرصاد

داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! دوسری قسط

وہ مغربی لوگ جنہوں نے اسلامی علوم جیسے قرآن، حدیث اور فقہ کا مطالعہ کیا ہو، اور اسی طرح مسلمانوں کی اقوام پر تحقیق کرکے اس میدان میں مہارت حاصل کی ہو، انہیں مستشرقین کہا جاتا ہے۔

مغربی دنیا نے مسلمانوں کے خلاف دو بڑے منصوبے شروع کیے:
ایک مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا،
دوسرا مسلمانوں کے فکر کو مسخ کرنا اور اسے ختم کرنا۔

اسی وجہ سے مستشرقین کو بھی دو گروہوں میں تقسیم کیا گیا:

ایک گروہ کھلا تھا جو پراپیگنڈہ جنگ چلا رہا تھا، اور دوسرا گروہ خفیہ تھا جو خفیہ انٹیلی جنس جنگ میں مصروف تھا۔

پہلا گروہ، یعنی وہ جو پراپیگنڈہ جنگ چلا رہا تھا، اس کی ذمہ داریاں درج ذیل تھیں:

1. اسلام کو بدنام کرنا۔
2. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو غلط انداز میں پیش کرنا۔
3. یہ پروپیگنڈا کرنا کہ مسلمان اللہ جل جلالہ کے دشمن ہیں اور ان کا قتل ثواب ہے۔
4. یہ کہنا کہ قرآنِ کریم اللہ کی کتاب نہیں بلکہ انسان کی تصنیف ہے۔
5. مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرنا، جیسے اسلامی فتوحات کو وحشیانہ کہنا، خلافت کو استبداد قرار دینا، اور صلیبی حملوں کو تہذیب کی جنگ کہنا۔
6. عیسائیوں پر مسلمانوں کے خلاف جنگ کو فرض قرار دینا اور انہیں یہ باور کرانا کہ مسلمانوں کے قتل میں ثواب ہے۔

اس گروہ کا مجموعی مقصد مسلمانوں کے عقیدے کو کمزور کرنا، عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر ابھارنا، اور اسلام میں مداخلت کرنا تھا۔

دوسرا گروہ جو خفیہ یا انٹیلی جنس کاروائیوں پر مامور تھا، مسلمانوں کے علاقوں میں جاتا اور وہاں خود کو مسلمان ظاہر کرتا تھا۔ اس گروہ کی ذمہ داریاں درج ذیل تھیں:

1. مسلمانوں کی طاقت، فکر اور آئندہ منصوبوں کے بارے میں معلومات جمع کرنا اور عیسائیوں تک پہنچانا۔
2. مسلمانوں کے درمیان قومیت اور مذہب کے نام پر اختلافات پیدا کرنا۔
3. مسلمانوں میں کفار کے ساتھ دوستی کا تصور پیدا کرنا۔
4. فقہ کو بے اہمیت ظاہر کرنا اور اختلافی مسائل کو ہوا دینا۔
5. مسلمانوں کی ثقافت کو تبدیل کرنا۔
6. مسلمان حکمرانوں کے قریب ہونا اور انہیں گمراہ کرنا۔
7. حکمرانوں کو عیسائیوں سے دوستی کی طرف مائل کرنا۔
8. اسلامی شعائر کی اہمیت کم کرنا اور “ترقی” کے نام پر بعض احکام میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنا۔

مستشرقین کے دونوں گروہ اسلام کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ قارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اس وقت مغرب نے ان لوگوں کو کیوں تیار کیا؟ کیا اس وقت ایسے مسلمان موجود نہیں تھے جو ان کے لیے کام کر سکتے؟

جواب یہ ہے کہ کیوں نہیں، مگر اس وقت مسلمان خودمختار فکر، مستقل تہذیب اور ثقافت کے حامل تھے۔ ان کی حکومتیں کسی دوسرے کے زیرِ اثر نہیں تھیں۔ مسلمان عمومی طور پر فکری اور دینی لحاظ سے مضبوط تھے، اسلامی نظام اور خلافت موجود تھی، اور دین و سیاست ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔

مختصراً یہ کہ مستشرقین ایک دن یا ایک سال کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ آٹھویں سے دسویں صدی عیسوی تک ان کا بیج بویا گیا، گیارہویں سے تیرہویں صدی تک وہ ظاہر ہوئے، تیرہویں سے سترہویں صدی تک انہوں نے نشوونما پائی، اور اٹھارہویں سے بیسویں صدی تک انہوں نے استعماری شکل اختیار کر کے تکمیل حاصل کی۔

چند معروف مستشرقین:

1. ویلیم میور (William Muir): اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر تنقیدی کتابیں لکھیں۔
2. جوزف شاخت (Joseph Schacht): اس نے اسلامی فقہ کے بارے میں شکوک پیدا کیے اور دعویٰ کیا کہ فقہ بعد میں مرتب ہوئی۔
3. ڈیویڈ سیموئیل مارگولیوث (David Samuel Margoliouth): اس نے اسلامی مصادر کی حیثیت پر شبہات ظاہر کیے۔
4. اِگناز گولڈزیہر (Ignaz Goldziher): اس نے احادیث کے بارے میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ وہ مستشرقین ہیں جو کھلے طور پر کام کرتے تھے، جبکہ وہ مستشرقین جو بظاہر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، ان میں سے بعض آخر تک مسلمان عالم کے نام پر پوشیدہ رہے، اور آج بھی کچھ لوگ “عالمِ دین” کے نام پر اسی راستے پر گامزن ہیں۔

Exit mobile version