Site icon المرصاد

داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! پہلی قسط

مغرب، جس کے اکثر باشندے یہود و نصاریٰ ہیں اور پیدائش سے آج تک حکمرانی بھی انہی دو طبقوں نے وہاں کی ہے، انہی دو طبقوں نے اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی اسلام دشمنی کے لیے کمر کس لی۔ پوری تاریخ میں انہوں نے اسلام کے خلاف فکری، عسکری، اقتصادی اور خفیہ جنگیں لڑی ہیں۔ چونکہ مغرب اور اسلام کی جنگ ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہے، اس لیے ہم تفصیلات سے گزر کر صرف مختصر ذکر کریں گے۔

اسلام کے ظہور کے وقت جب مغرب کلیسا کی تاریکیوں کے سائے تلے تھا، عیسائی پادریو اور جاگیرداروں نے غریب لوگوں کو اپنا غلام سمجھ رکھا تھا، یہاں تک کہ وہ ان کی اجازت کے بغیر نکاح بھی نہیں کر سکتے تھے۔ زمین داروں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ غریب اور کسان کی شادی کی پہلی رات شوہر کی جگہ عورت کے ساتھ زیادتی کریں۔ کلیسا کے پادریوں کو مطلق اختیار حاصل تھا۔ وہ لوگوں کو جنت کے ٹکٹ فروخت کرتے تھے، اور ان کی مرضی ہوتی تھی کہ کسے جنتی قرار دیں اور کسے جہنمی۔ وہ اپنے آپ کو براہِ راست خدا کا نمائندہ سمجھتے تھے اور ہر قسم کی سزا سے خود کو مستثنیٰ خیال کرتے تھے۔ کسی کو سوال کرنے کا حق حاصل نہ تھا۔

اسی طرح جاگیردار اور سردار بھی سزا سے مبرا تھے۔ عورت کو شیطان کی روح کہا جاتا تھا، بلکہ بعض تو یہ کہتے تھے کہ عورت انسان نہیں اور اس کی کوئی روح نہیں۔ مغرب میں زندگی کا نظم بالکل تباہ ہو چکا تھا۔ غلاموں، عورتوں اور غریب طبقے کے لوگوں کا کوئی حق نہ تھا، انہیں جانوروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا تھا۔ پادری لوگوں کو آگ میں سزا دیتے تھے، اور پادری کی ہر بات کو معاذ اللہ خدا کا حکم سمجھا جاتا تھا۔

جب حجاز میں اسلام سورج کی طرح طلوع ہوا تو عیسائی پادری اسلام کے نور سے سخت خوف زدہ ہو گئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام براہِ راست ان کے ذاتی مفادات اور اقتدار کے لیے خطرہ ہے، اس لیے انہوں نے اسلام دشمنی کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن انہوں نے اسلام سے دشمنی کیوں چنی؟
اس لیے کہ اسلام نے کہا: تمام انسان برابر حقوق رکھتے ہیں، امیر و غریب میں کوئی فرق نہیں، پادری مطلق حکمران نہیں ہیں، اور لوگوں کو ان سے سوال و جواب کا حق ہے۔ یتیم، غلام اور عورت بھی انسان ہیں اور حقوق رکھتے ہیں۔ جنت و جہنم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، انسان کسی کو جنت فروخت نہیں کر سکتا۔ مختصر یہ کہ اسلام نے کہا: پادری اور علما بھی انسان ہیں، اگر جرم کریں تو دوسروں کی طرح سزا پائیں گے، وہ اپنی مرضی سے لوگوں کو آگ میں نہیں جلا سکتے۔

اسلام کے ان حقائق نے عیسائی پادریوں، اشرافیہ اور جاگیرداروں کے تمام جھوٹ بے نقاب کر دیے اور ان کے ناجائز اعمال کا راستہ روک دیا، اسی لیے انہوں نے اسلام دشمنی شروع کی۔ ابتدائی دور میں عیسائیوں نے صرف طاقت کا راستہ اختیار کیا، یعنی وہ چاہتے تھے کہ تلوار کے زور پر اسلام کو مٹا دیں اور اس کا نام و نشان ختم کر دیں۔ ان کے نزدیک اسلام ایک گروہ تھا جسے ختم کر دینا چاہیے۔ لیکن اس کے برعکس، ان کی عسکری کوششوں کے باوجود اسلام پھیلتا رہا۔ انہوں نے صلیبی جنگیں لڑیں، عسکری حملے کیے، مگر نتیجہ صفر رہا اور شکست کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔

بعد میں انہوں نے سمجھ لیا کہ اسلام کوئی گروہ نہیں بلکہ ایک دین اور فکر ہے، جسے آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ انہوں نے نئے طریقے اختیار کیے:

1- پراپیگنڈہ اور فکری جنگ
2- عسکری یلغاریں
3- خفیہ (انٹیلیجنس) جنگیں
4- اقتصادی جنگ

اگر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مغرب نے اسلام کے خلاف سب سے زیادہ کامیابی خفیہ اور پراپیگنڈہ جنگ میں حاصل کی ہے۔

جب انہیں معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے جسم کو نہیں بلکہ ان کی فکر کو توڑنا ہے، تو انہوں نے فکری اور خفیہ جنگ کا رخ اختیار کیا۔

بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے درمیانی عرصے میں جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کیا تو یہود و نصاریٰ دونوں کو معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کی طاقت ہتھیار میں نہیں بلکہ فکر اور عقیدے میں ہے۔ تیرہویں صدی کے آغاز میں مغربیوں نے ایک نئی اور خطرناک اصطلاح وضع کی جسے مستشرقین کہا گیا۔ انہوں نے اسلام کے مطالعے کا منصوبہ شروع کیا، قرآن، حدیث، فقہ اور تاریخ کا گہرائی سے جائزہ لیا۔

Exit mobile version