Site icon المرصاد

داعش: امریکہ کا سب سے منافع بخش منصوبہ! چوتھی قسط

بیسویں صدی عیسوی کے آخر اور اکیسویں صدی کے آغاز کو مسلمانوں کی بیداری کا دور کہا جا سکتا ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں مسلمان کمزور ہو گئے تھے اور اسلامی فکر عمومی طور پر زوال کا شکار ہو چکی تھی۔ مگر مغرب کو ایک نئی پریشانی لاحق ہوئی، اور وہ یہ کہ سوشلزم کے نام سے ایک نیا نظریہ ابھر کر سامنے آیا جس نے مغرب کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد روس پہلا ملک تھا، جس نے مکمل سوشلسٹ نظام اختیار کیا اور طاقتور ہو گیا۔ چین نے کمیونزم اپنایا، کیوبا تیزی سے سوشلزم کے زیرِ اثر آ گیا، سوویت یونین قائم ہوا، مشرقی یورپ سوشلسٹ بن گیا، اور ویتنام، کوریا اور افریقہ بھی سوشلزم کے اثر میں آ گئے۔ اس طرح مغرب کی توجہ کا اصل مرکز سوشلزم بن گیا اور اسلام ازم کو وقتی طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔

اس کشمکش کا آغاز 1947ء میں ہوا، جسے سرد جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ اس دوران دو بڑے بلاک آمنے سامنے تھے: سوشلزم اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام۔ تاہم یہ جنگ براہِ راست نہیں تھی بلکہ پردے کے پیچھے لڑی جا رہی تھی۔ اس دور کی نمایاں جھڑپوں میں ویتنام کی جنگ، کوریا کی جنگ، اور کیوبا کا میزائل بحران شامل ہیں۔ سوشلزم تقریباً نصف صدی تک قائم رہا۔

چونکہ سوشلزم، سرمایہ داری اور اسلام ازم تینوں ایک دوسرے کے مدِ مقابل تھے، اور سوشلزم اسلام اور مسلمانوں کے لیے بھی خطرہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے مسلمان، اپنی کمزوری کے باوجود، اس کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

اسلام اور سوشلزم کے درمیان ٹکراؤ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سوشلزم کی بنیاد الحاد پر ہے۔ سوشلسٹ کسی مذہب پر ایمان نہیں رکھتے۔ کارل مارکس(Karl Marx) کے نزدیک مذہب انسانوں کے لیے افیون کی مانند ہے۔ اس کے برعکس اسلام ایک مکمل عقیدہ اور ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔ معاشی میدان میں بھی دونوں کے درمیان واضح اختلاف ہے۔ سوشلزم اجتماعی ملکیت اور مساوات کا قائل ہے، جبکہ اسلام ہر فرد کو حلال ذرائع سے تجارت اور ملکیت کا حق دیتا ہے۔ اسلام میں حلال و حرام کی واضح حدود ہیں، جبکہ سوشلزم میں ایسی کوئی واضح تمیز موجود نہیں۔

خلاصہ یہ کہ سوشلزم اسلامی عقیدہ، فکر اور معاشی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں اور سوشلسٹ قوتوں کے درمیان تصادم ہوا، جس میں مغرب بھی سوشلسٹ نظام کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔

تاہم اس جدوجہد میں مسلمانوں نے اپنے عقیدے اور اسلامی فکر کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی۔ جہاد اور اسلامی نظام کا تصور ایک بار پھر مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں زندہ ہو گیا۔

مسلم نوجوانوں نے یہ حقیقت سمجھ لی کہ سیکولرزم نہ تو ان کے مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے، نہ انہیں حقیقی آزادی دے سکتا ہے اور نہ ہی ان کا دفاع کر سکتا ہے۔ مغرب سے لے کر سیکولر مسلمانوں تک، بہت سے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ سوشلزم دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا۔ مگر وہ استبدادی نظام، جسے مغرب سمیت دنیا کی بڑی قوتیں بھی مکمل طور پر شکست نہ دے سکیں، اسے اسلامی فکر اور جہاد کے جذبے نے زیر کر دیا۔

بیسویں صدی کے وسط میں جب مغرب سوشلزم کے خوف میں مبتلا تھا اور یہ سمجھ چکا تھا کہ اسلامی فکر سوشلزم کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے، تو اس نے اپنے مفادات کے تحت عارضی طور پر اسلام ازم کے ساتھ اپنی دشمنی کم کر دی۔ اسی طرح اسلامی ممالک میں اپنے سیکولر حامیوں کو بھی سوشلزم کے خلاف اسلامی فکر کو تقویت دینے کی ہدایت کی۔

بیسویں صدی کے اختتام پر سوشلزم کمزور پڑ گیا اور مغرب کو کچھ اطمینان نصیب ہوا، لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک نئے چیلنج نے سر اٹھایا: اسلامی دنیا میں مسلم نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک بار پھر اسلامی نظام، جہاد، اسلامی قوانین اور خلافت کے تصورات زندہ ہو گئے۔

یہ وہ حقیقت تھی جس نے مغرب کو بے چین کر دیا، اس کی نیندیں حرام کر دیں، اور اس کی سلطنت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ساتھ ہی اسے ماضی کی تلخ یادیں بھی دوبارہ یاد آ گئیں۔

Exit mobile version