عوامی بغاوت؛ وہ عوامی مزاحمت جس نے داعش کو شکست دی
جب داعشی خوارج اپنی تلواروں اور سیاہ جھنڈوں کے ساتھ عراق اور شام کے شہروں اور دیہاتوں پر چڑھ دوڑے، تو انہیں لگا کہ وہ عوام کی ہمت توڑ دیں گے۔ لیکن آخرکار جس چیز نے اس شدت پسند گروہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، وہ جدید بمبار طیاروں کے حملے نہیں بلکہ عوام کا غصہ اور ان کی مزاحمت تھی، جو اپنے گھروں اور زندگیوں کو آسانی سے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
موصل سے رقہ تک، تکریت سے دیرالزور تک، وہ مرد اور عورتیں جو کبھی کسان، استاد یا تاجر تھے، میدانِ جنگ کے ایسے مجاہد بن گئے جنہوں نے جنگ کا نقشہ بدل دیا اور خوارج کو اپنی سرزمین سے باہر دھکیل دیا۔
عراق میں ہزاروں نوجوانوں نے مختلف شہروں سے ’’وطن کے دفاع‘‘ کی آواز پر لبیک کہا۔ ان کے پاس جدید ہتھیار نہیں تھے، مگر پرانی بندوقوں، ایمان سے بھرے دل اور فولادی عزم کے ساتھ انہوں نے شدت پسند خوارج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ’’امرلی‘‘ شہر کی مزاحمت ایک ناقابلِ فراموش مثال ہے؛ وہاں کے لوگ ۸۰ دن داعش کے محاصرے میں رہے لیکن جھکے نہیں۔ امرلی کی ایک خاتون نے اپنی یادداشت میں لکھا:
’’جب کھانا ختم ہو گیا تو ہم نے درختوں کے پتے کھائے، لیکن اپنے شہر کا جھنڈا کبھی نیچے نہیں کیا۔‘‘
یہی مزاحمت کی روح تھی جس نے بالآخر داعش کو عراقی شہروں سے نکال باہر کیا۔
شام میں بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔ شمالی شام میں عوامی دفاعی فورسز، جو کردوں، عربوں اور دیگر اقلیتوں پر مشتمل تھیں، داعش کے درندوں کے مقابلے میں ایک مضبوط قلعہ بن گئیں۔ ’’کوبانی‘‘ شہر کی آزادی، جو ۱۳۴ دن کی شدید لڑائی کے بعد حاصل ہوئی، ایک اہم موڑ ثابت ہوا جس نے یہ دکھا دیا کہ مقامی عوام، حتیٰ کہ براہِ راست بیرونی مدد کے بغیر بھی، شدت پسند خوارج کو شکست دے سکتے ہیں۔
قابلِ ذکر نکتہ یہ تھا کہ جنگ کے دوران عوامی حکمتِ عملی میں تبدیلی آئی۔ ابتدا میں داعش اپنی سفاکیت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا کرتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ یہی خوف غصے میں بدل گیا۔ عراق کے سنی اکثریتی علاقوں میں، جہاں کبھی کچھ لوگ داعش کو ’’مرکزی حکومت کے خلاف محافظ‘‘ سمجھتے تھے، عوام کو اندازہ ہوا کہ اس گروہ کا مقصد تباہی، بربادی اور موت کے سوا کچھ نہیں۔ ۲۰۱۵ء میں ’’انبار‘‘ کے قبائل کی داعش کے خلاف بغاوت اس تبدیلی کی واضح مثال تھی۔
شام میں بھی عوامی گروہ مذہبی اور نسلی اختلافات کے باوجود متحد ہوئے اور سب نے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ دیرالزور شہر کی تین سالہ مزاحمت، جو مکمل طور پر داعش کے محاصرے میں تھا، نے اس گروہ کی ناقابلِ شکست ہونے کا افسانوی دعویٰ ہمیشہ کے لیے توڑ دیا۔ اس شہر کے لوگ کم ترین وسائل کے ساتھ، ایسے حالات میں کہ پینے کا پانی تک میسر نہیں تھا، کبھی بھی خوارج کے آگے نہیں جھکے۔
ان عوامی مزاحمتوں نے دنیا کو ایک بڑا سبق دیا کہ کوئی بھی دہشت گرد گروہ، چاہے وہ کتنا ہی مسلح اور ظالم کیوں نہ ہو، عوام کی اجتماعی قوت کے سامنے قائم نہیں رہ سکتا جو اپنے گھر اور زندگیوں کے دفاع کے لیے تیار ہو۔ داعشی خوارج نے شاید دہشت اور وحشت کے زور پر وقتی طور پر بڑی زمینیں قبضے میں لے لی تھیں، لیکن وہ عوام کے دل جیتنے میں ناکام رہے۔ آخرکار، یہی عام مرد اور عورتیں تھیں جنہوں نے اپنی بہادری سے داعش کو سب سے کاری ضرب لگائی اور ثابت کیا کہ عوامی مزاحمت، انتہا پسندوں کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔

