داعش کے زوال کے عوامل، میدان جنگ میں شکست:
ایک دن داعشیوں نے خود کو ایک "ناقابل شکست ریاست” سمجھا جو اسلامی دنیا کا مقدر بدل دے گی، لیکن یہ افسانہ محض جھوٹ کے سوا کچھ نہ تھا اور شدید فوجی طوفانوں کے سامنے اس کا وجود برقرار نہ رہ سکا۔ داعش کے خلاف وسیع فوجی آپریشنز کے آغاز کے ساتھ ہی یہ گروہ جلد ہی بکھر گیا۔ داعش کے وجود پر پہلا بڑا وار ۲۰۱۷ میں موصل کا زوال تھا۔
یہ شہر، جو کبھی داعش کی دعوی کردہ خلافت کا مالیاتی اور علامتی دارالحکومت سمجھا جاتا تھا، نو ماہ کی جنگ کے بعد اس کا عراقی فوج اور بین الاقوامی اتحاد کے ہاتھوں سقوط ہوا اور اس شہر میں داعش کی جڑیں اکھڑ گئیں۔ موصل کا زوال نہ صرف ایک عسکری شکست تھی، بلکہ داعش کے فرضی وقار پر ایک مہلک ضرب تھی۔ شہر کی تباہی کے مناظر اور داعش کے جنگجوؤں کی فرار نے ان کے ناقابل شکست افسانے کو ختم کر دیا۔ وہ جو جہاد اور مزاحمت کے نعرے لگاتے تھے اور جھوٹے نعروں کے شور سے آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے، جب میدان جنگ میں آئے تو زیادہ دیر تک مقابلہ نہ کر سکے اور مزاحمت کی بجائے بھاگنے کو ترجیح دی۔
داعش کی عسکری حکمت عملی، جو غیر متناسب جنگ اور خفیہ آپریشنز پر مبنی تھی، نئے فوجی حربوں کے مقابلے میں اپنی کارکردگی کھو بیٹھی۔ اتحادی افواج نے سیٹلائٹ معلومات، ٹارگٹڈ فضائی حملوں اور مقامی مزاحمتی گروہوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے داعش کو آہستہ آہستہ نیست و نابود کر دیا۔ شام میں بھی اتحادی فضائی حمایت کے ساتھ شامی جمہوری فورسز کے آپریشنز ۲۰۱۷ میں داعش کے انتظامی دارالحکومت (رقہ) کے سقوط کا باعث بنے۔ ان پے در پے شکستوں نے نہ صرف داعش کے علاقوں کو کم کیا، بلکہ ان کے جنگجوؤں کے حوصلے کو بھی شدید کمزور کر دیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ آخری مہینوں میں داعش کے جنگجوؤں کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی۔ زیادہ تر اعلیٰ کمانڈرز موت تک مزاحمت کی بجائے اپنی جان بچانے کے چکر میں تھے۔ کچھ نے اپنی شکل اور شناخت بدل کر فرار اختیار کیا، جبکہ عام سپاہیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر میدان میں بھیجا گیا۔ اس دوہرے رویے نے قائدین اور عام سپاہیوں کے درمیان گہری خلیج کو عیاں کر دیا۔ ایک فرار ہونے والے داعشی سپاہی نے اس بارے میں کہا: "جب مجھے پتا چلا کہ ہمارا کمانڈر کئی ہفتے پہلے اپنے خاندان کے ساتھ بھاگ گیا، تب مجھے معلوم ہوا کہ سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔”
عسکری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ داعش بالآخر اپنی حکمت عملی کا شکار ہو گئی۔ اس گروہ نے دہشت گردانہ حربوں اور شہری جنگ پر انحصار کرتے ہوئے ابتدائی طور پر کامیابیاں حاصل کیں، لیکن وہ کبھی بھی منظم فوجوں کی روایتی حکمت عملیوں کے مقابلے میں مزاحمت نہ کر سکی۔ اعلیٰ کمانڈرز کے قتل کے بعد، مؤثر عسکری قیادت کے فقدان نے دوبارہ منظم کیے جانے کے ہر امکان کو ختم کر دیا۔
یہ گروہ دوبارہ منظم ہونے میں ناکام رہا اور یہ خلافت اسی طرح بے خلیفہ رہ گئی۔ آخر کار، وہ جو کبھی "خلافت کی فوج” کے نام سے متعارف کرائی گئی تھی، ایسے منتشر گروہوں میں تبدیل ہو گئی جو صحراؤں میں چھپ گئے۔
داعش کی عسکری شکست صرف ایک حکمت عملی کی فتح نہیں تھی، بلکہ ایک بڑے فریب کے خاتمے کی علامت تھی۔ ابدی خلافت کا افسانہ، جس نے کبھی ہزاروں فریب زدہ نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچا تھا، میدان جنگ کے حقائق کے سامنے بے رنگ ہو گیا۔ اس شکست نے ثابت کیا کہ کوئی بھی گروہ، چاہے وہ کتنے ہی پر فریب نعروں اور مکارانہ پروپیگنڈے کے ساتھ آئے، عالمی عزم اور عوامی مزاحمت کے سامنے پائیدار نہیں رہ سکتا۔
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ تھا کہ تشدد، قتل اور لوٹ مار کبھی بھی حقیقی حکمرانی کا متبادل نہیں بن سکتے، اور ہر وہ نظام جو فریب اور خوف کی بنیاد پر قائم ہو، اس کا زوال ناگزیر ہے۔

