Site icon المرصاد

داعش ایک بے خلیفہ خلافت| چوتھی قسط

نظریاتی زوال: داعش کی باتوں اور اعمال کا تضاد

داعش ’’اسلامی خلافت کی بحالی‘‘ اور ’’مظلوموں کے لیے حکومت‘‘ جیسے دھوکہ دہی پر مبنی نعروں کے ساتھ منظرِ عام پر آئی، لیکن عملی طور پر اس نے ایسا چہرہ پیش کیا جو ان دعوؤں سے مکمل طور پر متضاد تھا۔ یہ گروہ، جو شریعت کے نفاذ اور عدل و انصاف کا دعویٰ کرتا تھا، حقیقت میں ایک آمرانہ نظام میں تبدیل ہوگیا، جس میں رہنماؤں اور عام افراد کے درمیان طبقاتی فاصلہ دن بہ دن بڑھتا گیا۔

جبکہ داعش کے مکار ترجمان اپنی میڈیا مہمات میں عوام کو دھوکہ دینے کے لیے ’’وسائل کی منصفانہ تقسیم‘‘ کی باتیں کرتے تھے، اس گروہ کے غیر ملکی جنگجو فائیو سٹار ہوٹلوں، غصب شدہ محلات اور مخصوص طبی سہولیات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ لیکن موصل اور رقہ جیسے شہروں میں عام لوگ پانی، بجلی اور ادویات کی شدید قلت کا شکار تھے، اور ان کی کوئی پرسانِ حال نہ تھا۔

چونکہ وہ لوگ ایک ایسی خلافت کے زیرِ اقتدار زندگی گزار رہے تھے جو درحقیقت خلافت نہیں تھی، اس لیے اگرچہ وہ بظاہر زندہ تھے، مگر زندگی کی اصل روح سے محروم اور غلام بنے ہوئے تھے۔ اس تضاد کی ایک نمایاں مثال داعش کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی اقتصادی صورتحال تھی۔

یہ گروہ ’’غریبوں کی حمایت‘‘ کے وعدے پر اقتدار میں آیا، لیکن عوامی خدمات پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے اس نے اپنی تمام تر وسائل ہتھیاروں کی خریداری اور اپنے جنگجوؤں کو تنخواہیں دینے پر صرف کیے۔

داعش کے بعض غیر ملکی جنگجوؤں کی ماہانہ تنخواہیں ایک ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ عام شہریوں کے لیے ایندھن اور خوراک کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف ان علاقوں میں غربت کو مزید بڑھا دیا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں اس شدت پسند گروہ کے خلاف ناراضگی بھی پیدا کی، جس نے بالآخر بہت کم عرصے میں اس کے زوال اور شکست کی راہ ہموار کر دی۔

سماجی طور پر بھی داعش اپنی دعوؤں میں ناکام ثابت ہوئی۔ یہ گروہ جو یہ کہتا تھا کہ ’’امن و انصاف قائم کرے گا‘‘، درحقیقت ایک ایسا ظالمانہ نظام بن گیا جس میں عوام خوف کے سائے تلے زندگی بسر کر رہے تھے، اور ذرا سی مخالفت کو بھی تشدد، جبر، بلکہ سر قلم کرنے تک جیسے وحشیانہ طریقوں سے کچلا جاتا تھا۔ داعش سے منسلک میڈیا ایسے مناظر پیش کرتا تھا جیسے لوگ ’’اسلامی خلافت کے سائے‘‘ تلے پرسکون زندگی گزار رہے ہوں، مگر مقامی رپورٹس اجتماعی قتل عام، مخالفین کی اذیت رسانی اور عورتوں پر سخت قوانین کے نفاذ کی داستانیں سناتی تھیں۔ یہاں تک کہ اس گروہ کے بعض ابتدائی حامی بھی اس کے رہنماؤں کے ظالمانہ طرز عمل کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس سے دور ہوگئے۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جب کسی گروہ کے اقوال و افعال، جو خود کو ایک خودمختار ریاست سمجھتا ہے، ایک دوسرے سے ٹکرا جائیں، تو چاہے وہ گروہ کتنا ہی طاقتور، با اثر اور باوقار کیوں نہ ہو، اس کا زوال یقینی بن جاتا ہے۔ کیونکہ عوام ایسے تضاد کو برداشت نہیں کرتے۔ داعش کے ظالم جنگجو بھی اسی بحران سے دوچار تھے؛ کیونکہ رقہ میں، جو ان کے کنٹرول میں تھا، دو بالکل مختلف دنیاؤں کا منظر قائم تھا: غیر ملکی جنگجو پہلے درجے کے شہریوں کی حیثیت سے رہتے تھے، جبکہ مقامی آبادی غربت اور محرومی کا شکار تھی۔

باتوں اور عملی اقدامات کے درمیان یہ تضاد اور دوغلا پن بالآخر داعش کے نظریاتی زوال کے بڑے اسباب میں سے ایک بن گیا۔ وہ گروہ جو خود کو ’’مظلوموں کا نجات دہندہ‘‘ قرار دیتا تھا، حقیقت میں عام شہریوں کا بدترین دشمن ثابت ہوا۔ دعوؤں اور حقیقت کے درمیان موجود اس گہرے خلا نے نہ صرف داعش کی قانونی و اخلاقی حیثیت پر سوالات کھڑے کیے، بلکہ اُن لوگوں کو بھی مایوس کر دیا جنہوں نے کبھی اس گروہ سے امیدیں وابستہ کی تھیں۔

آخرکار، داعش نہ کوئی اسلامی حکومت تھی نہ خلافت، بلکہ ایک مجرمانہ تنظیم تھی، جس نے اسلام کے نام کو محض اپنے تشدد اور تسلط کے لیے استعمال کیا۔ خوش قسمتی سے، اس بدنصیب گروہ کا وقت ختم ہوا اور اس کا ظلم و ستم دنیا سے مٹا دیا گیا۔

Exit mobile version