قوت بحیثیتِ آخری ہدف:
داعش ایک ایسا گروہ ہے جو طاقت کو خدمت کا ذریعہ نہیں بلکہ خود اپنی آخری منزل اور مقصود سمجھتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے یہ گروہ اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرتا ہے اور اس راستے میں کسی چیز سے گریز نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک اپنے حتمی ہدف اور ارمان، یعنی اقتدار کے حصول اور اس کے استحکام کے لیے نہ کسی سماجی قدر کو ملحوظ رکھتی ہے اور نہ ہی خود کو کسی اصول کی پابند سمجھتی ہے۔
اقتدار کے حصول کی اس شدید خواہش میں داعش اس حد تک جا پہنچی ہے کہ نہ فقہی ضوابط کی پابندی کرتی ہے، نہ مقاصدِ شریعت کو کوئی اہمیت دیتی ہے، نہ جنگ کے عقلی و اخلاقی قواعد کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی انسانی معاشرت کے بنیادی اصولوں کا لحاظ رکھتی ہے۔ اسی بنا پر اس کی اقتدار پسندی نہ جغرافیائی حدود تک محدود ہے اور نہ کسی قانونی دائرے میں سماتی ہے، بلکہ خوف، تباہی اور افراتفری پر قائم ہے۔
داعش کے منطق میں طاقت بذاتِ خود غایت ہے اور تکفیر سے لے کر کھلے تشدد تک ہر چیز کو اقتدار کے حصول اور اس کے تحفظ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے عزائم اور خواہشات کی تکمیل کے لیے وہ ہر حد عبور کرنے پر آمادہ ہے۔ طاقت کے سمندر سے سیراب ہونے کا یہ تصور اس قدر اس کے ذہن و نفسیات میں رچ بس چکا ہے کہ وہ ہر اس منطق اور بصیرت کو رد کر دیتا ہے جو اس کی فہم کے مطابق نہ ہو یا اس کے مطلوبہ راستے سے ہم آہنگ نہ ہو۔ یہاں تک کہ بعض اوقات وہ ایسے خیالات کے حامل مفکرین کو بھی رد کرتا ہے اور انہیں ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
جب یہ گروہ اقتدار میں آتا ہے اور طاقت کی مسند پر براجمان ہوتا ہے تو اس کا مقصد مقاصدِ شریعت، جیسے عدل، رحمت، انسانی جان کا تحفظ اور انسانی وقار کی پاسداری کا قیام نہیں ہوتا، بلکہ طاقت کو اقتدار کی مشروعیت کے لیے ایک علامتی ڈھانچے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اسی لیے داعش قائل کرنے کے بجائے خوف زدہ کرنے کا راستہ اختیار کرتی ہے اور اصلاح کے بجائے صفایا کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کے نزدیک اگر دنیا پر یا کم از کم کسی خطے پر حکمرانی قائم ہونی ہے تو وہ صرف ان کے اپنے نظریے اور تعبیر کے تحت ہونی چاہیے۔
ان کی سوچ اس قدر محدود اور ان کا تصورِ دنیا اتنا کمزور اور سطحی ہے کہ وہ اپنے سوا کسی اور تحریک یا قوت کو تسلیم ہی نہیں کرتے، خواہ وہ دوسری تحریک اسلام کے اصولوں اور شریعتِ مطہرہ کی بنیاد پر ہی کیوں نہ قائم ہو۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس گروہ کا آخری مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے، اور اس کے سوا کوئی دوسرا تصور اس کے ذہن میں پرورش نہیں پاتا۔ ان کے نزدیک اقدار کی ترتیب بدل چکی ہے؛ حتیٰ کہ دین کے اخلاقی جوہر کو دیکھنے کا ان کا زاویۂ نظر بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اقتدار اور حاکمیت کے بارے میں ان کا موقف خالصتاً گروہی اور جماعتی شکل اختیار کر چکا ہے، اور وہ اپنی جماعت کے سوا نہ کسی کو مانتے ہیں اور نہ قبول کرتے ہیں۔
درحقیقت یہ تمام اسباب اسی اقتدار پسندی کے عنصر سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اس عامل پر اس حد تک انحصار کر چکے ہیں کہ حقیقت پسندانہ تجزیہ اور درست جانچ کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں، اور دوسرے نظریات اور ماڈلز کے بارے میں ان کا زاویۂ نگاہ بالکل الٹ ہو چکا ہے۔ داعش اقتدار کے حصول کے لیے اس حد تک جانے کو تیار ہے کہ اپنے تمام اصولوں اور بنیادوں کو پامال کر دے، اور اس سلسلے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گی۔
یہ بات محض ایک کھوکھلا دعویٰ نہیں، بلکہ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے اور اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں اس کے بے شمار شواہد موجود ہیں۔ داعش، یہ بے لگام اقتدار پسند تحریک، اپنی تمام تر توجہ اسی ایک مقصد پر مرکوز کیے ہوئے ہے کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار حاصل کیا جائے، اور اس ہدف کے حصول کے لیے وہ ہر اس ذریعے کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہے جسے وہ اپنے نزدیک قابلِ جواز سمجھتی ہے۔

