Site icon المرصاد

داعش: بے لگام سامراجیت! پہلی قسط

حقیقت یہ ہے کہ ہم تاریخ کے اوراق میں دیکھتے آئے ہیں کہ گزشتہ زمانوں اور ادوار میں بڑی بڑی جماعتیں اور طاقتور قوتیں ابھریں، ترقی کی، اور ایک مدت تک معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھے رکھی۔

اسی تناظر میں، کچھ لوگ عجلت میں اور اس سماجی، فکری اور سیاسی ماحول کو ملحوظِ خاطر رکھے بغیر، جس میں اس فکر اور تحریک نے جنم لیا، قلم اٹھاتے ہیں اور ایسے مضامین لکھ دیتے ہیں جو نہ تحقیقی معیار پر پورا اترتے ہیں اور نہ ہی علمی قدر و قیمت رکھتے ہیں، بلکہ اس قسم کی تحریریں خود ہی ایک شناختی اور تحقیقی بحران کا سبب بن جاتی ہیں۔

سکے کے دوسرے رخ پر، کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے خاموشی اختیار کر لی اور تاریخ کے اس مرحلے کو ان کہے اور ان لکھے چھوڑ دیا۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان اور صاحبِ قلم پر لازم ہے کہ وہ حالات کا درست تجزیہ کرے اور اسی زمانے کے عینی حقائق کی بنیاد پر ان کا مطالعہ اور جائزہ لے۔

داعش کی فکر نے بھی ایک معین وقت میں اپنا نقاب اتارا اور اپنے ظہور کا اعلان کیا۔ ایسے وقت میں کہ بہت سے مصنفین اور تجزیہ نگار حیرت و پریشان رہ گئے کہ کیا کہیں، کیونکہ اس کا ظہور اور عروج اس قدر تیز تھا کہ سب کو حیران کر گیا۔ درحقیقت، تحریک کو نوجوان نسل کی حمایت ملنے کے اسباب میں سے ایک اہم سبب اس کا تیز رفتار عروج ہی تھا۔

ان تحقیقات کی بنیاد پر جو ہم نے انجام دیں اور ان تجزیاتی زاویوں کو سامنے رکھتے ہوئے جو ہم نے مصنفین کی تحریروں پر لاگو کیے، ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ عمل بنیادی طور پر سامراجی فکر کے تحت سیاست اور معیشت کی دنیا میں داخل ہوا تھا، اور اس کے فکری ڈھانچے میں معیشتوں کے استحصال اور زمینوں و علاقوں پر قبضے کے عناصر نہایت مہارت سے بُنے گئے تھے۔

لہٰذا اگر ہم اس تحریک کو تجزیہ اور تحقیق کے زاویے سے دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس کے قیام کے اسباب و عوامل، اس کے زوال کے محرکات، اور اس کے تشدد اور انتہاپسندی کے اسباب کا جائزہ لینا ہوگا، تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ یہ نظریہ کس طرح ایک عمل (پراسیس) میں ڈھلا، اور کس طرح قلیل مدت میں وقت کے ساتھ ساتھ علاقائی ماحول پر قابض ہونے میں کامیاب ہوا، اور آخر وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے اس بے لگام سامراج کو شکست اور زوال سے دوچار کیا۔

اسی لیے، اس تحریری سلسلے میں ہم اس تحریک کی انتہاپسندی کے عوامل پر گفتگو کریں گے، اور ان عوامل کے مطالعے کے ساتھ ساتھ اس نظریے کی اصل نوعیت اور فکری جوہر پر بھی توجہ دیں گے۔

ہم ان اسباب کا جائزہ لیں گے جنہوں نے اس عمل میں انتہاپسندی اور تشدد کو جنم دیا۔ یہاں اس نکتے پر سنجیدگی سے توجہ دینا ضروری ہے کہ ہر معلول کا کوئی نہ کوئی علت ضرور ہوتی ہے، اور کسی بھی واقعے کو صرف اس کی ظاہری شکل دیکھ کر نہیں پرکھنا چاہیے، بلکہ اس کے پسِ پردہ عوامل کا بھی گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ یعنی ہر واقعے کو دقیق اور ہمہ جہت انداز میں جانچنا لازم ہے، تاکہ علت اور معلول دونوں کو سمجھا جا سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ انتہاپسندی اور تشدد ایک انسانی اور عالمی مظہر ہے، اور اس کا تعلق کسی خاص دین، نظریے، قوم یا ملت سے مخصوص نہیں۔

یہ کہ داعش اور اس جیسے دیگر گروہ اپنے تشدد کو دین کی ایک مخصوص تعبیر سے جوڑتے ہیں، دراصل دینی تعلیمات کے بارے میں ان کے نادان اور سطحی فہم کا نتیجہ ہے۔

لہٰذا اگر ہم اس گمراہ کن تحریک کی انتہاپسندی کے عوامل کا جائزہ لینا چاہتے ہیں، تو ضروری ہے کہ ان عوامل کو دو سطحوں پر پرکھا جائے: انفرادی اور اجتماعی۔

۱- داخلی عوامل، جنہیں” العوامل الذاتیہ” بھی کہا جاتا ہے، جیسے تعصب اور ڈوگماٹزم (تنگ نظری)۔
۲- بنیادی عوامل، جنہیں” العوامل الموضوعیہ” بھی کہا جاتا ہے، جیسے ظلم اور جبر کا موجود ہونا۔

یہ عوامل درحقیقت انتہاپسندی اور تشدد کے دیگر اسباب کے لیے راستے ہموار کرتے ہیں، یعنی جب یہ عناصر کسی گروہ یا تحریک میں موجود ہوں، تو دیگر انتہا پسندانہ عوامل کی طرف بڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔

دوسرے لفظوں میں، یہ عوامل انتہاپسندی کے دیگر اسباب کے ظہور کے عمل کو تیز اور ممکن بنا دیتے ہیں۔

Exit mobile version