اگر ہم داعش کے اقدامات کا سرسری جائزہ ہی لیں تو بھی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تحریک یا خود ساختہ حکومت کامیابی کی روح اور جوہر سے کوسوں دور ہے اور اپنے بیان کردہ مقاصد سے بھی بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ اگر ہم داعش کو ایک تحریک کے طور پر دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ تحریک اپنی بنیادی محرک قوت، یعنی پیروکاروں اور نظریاتی حامیوں سے خالی ہو چکی ہے، اور ایسے ویران ہو گئی ہے جیسے کوئی شہر اپنے باشندوں کے چلے جانے سے ویران ہو جاتا ہے۔
لیکن اگر ہم داعش کو ایک دولت (ریاست) کے طور پر دیکھیں، جیسا کہ انہوں نے خود کو "الدولة الاسلامیة فی العراق والشام” کا نام دیا، تو یہ بھی واضح ہے کہ وہ سلطہ رکھنے کے کسی بھی بنیادی معیار پر پورا نہیں اترتے۔
دولت (ریاست) کی تعریف کیا ہے؟
اگر ہم سیاسی علوم کے نقطہ نظر سے اس موضوع کا جائزہ لیں اور ان کتابوں کو دیکھیں جو ریاست کے بارے میں لکھی گئی ہیں، تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ریاست ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ ہے جو حاکمیت رکھتا ہو، ایک مخصوص جغرافیائی علاقے پر اختیار رکھتا ہو، اور قانون، نظم و ضبط، سیکیورٹی، اور عوامی خدمات کی فراہمی کے ذریعے اپنی سرگرمیاں انجام دیتا ہو۔
ایک پرانی تعریف کے مطابق، ریاست ایک قانونی-سیاسی ڈھانچہ ہے جو مستقل وجود رکھتا ہو، جائز اختیار رکھتا ہو، اور اپنے اندرونی و بیرونی تعلقات کو منظم کرتا ہو۔ اس مختصر تعریف سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ داعش دولت (ریاست) کی تعریف سے بہت دور جا چکی ہے۔
جو تعریف ہم نے اوپر بیان کی، اس کے مطابق داعش سلطہ سے بہت دور ہے، کیونکہ نہ تو اس کے پاس کوئی جغرافیائی علاقہ ہے اور نہ ہی اسے کسی ملک یا علاقے کے کسی حصے پر مکمل طور پر سلطہ حاصل ہے کہ اپنے قوانین کو وسیع پیمانے پر نافذ کر سکے۔
دولت (ریاست) کے بنیادی اجزاء:
ایک نظام یا دولت یا ریاست کے قیام کے لیے درج ذیل بنیادی عناصر یا اجزاء کا موجود ہونا ضروری ہے، جن کی بنیاد پر وہ اپنے ڈھانچے اور حکومت کی تشکیل کر سکتا ہے:
مخصوص جغرافیائی علاقہ:
ہر تحریک یا نظام جو حکومت بنانے کے لیے اٹھتا ہے، اسے سب سے پہلے ایک مخصوص علاقہ پرسلطہ حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ اس جغرافیائی حدود کے اندر اپنے قوانین اور منصوبے نافذ کر سکے۔ علاقہ ریاست کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے، جسے ایک مخصوص علاقے پر اختیار حاصل ہونا چاہیے تاکہ وہ اس کی حدود کے اندر قانون نافذ کر سکے، قوانین بنائے، اور انہیں عملی جامہ پہنائے۔
آبادی:
ایک ریاست کے پاس انسانی آبادی ہونی چاہیے، یعنی ایسے باشندے جو ریاست کے قوانین کے تابع ہوں اور اس کی حمایت کریں، نہ کہ زور، خوف، یا فوجی تسلط کے ذریعے ان پر حکومت کی جائے۔
حکومت:
ایک منظم ڈھانچہ کا ہونا جو ریاست کے سیاسی، معاشی، سیکیورٹی، اور سماجی امور کو سنبھالے، لازمی اور ضروری ہے۔ وہ ریاست جو حکومت نہ رکھتی ہو، کبھی بھی اپنی آبادی اور علاقے پر اپنی حاکمیت قائم نہیں کر سکتی۔
حاکمیت:
اندرونی اور بیرونی امور میں مکمل خود مختار فیصلے کرنے کی صلاحیت، بغیر کسی دوسری طاقت کے تابع یا انحصار کے۔ اگر ہم اس اصول پر غور کریں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ داعش کبھی بھی ایک خود مختار ڈھانچہ نہیں تھی، بلکہ دوسری طاقتوں کے تابع تھی اور ان کے ذریعے چلائی جا رہی تھی، جو کہ ایک واضح حقیقت ہے۔
مذکورہ بالا مواد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ہم داعش کو ایک تحریک کہیں تو یہ ایک بے روح اور بے اثر تحریک ہے، اور اگر اسے ایک ریاست سمجھیں تو یہ ان تمام شرائط سے عاری ہے جو ایک ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ داعش کی فکری اور عملی بنیادوں کو دیکھتے ہوئے، یہ گروہ صرف ایک خوف پھیلانے والی، وحشی، اور کھلی دہشت گرد تنظیم ہے، اور بس۔

