Site icon المرصاد

داعش: جہاد کے نام پر عقیدے میں انحراف

اسلام میں جہاد ایک واضح اور مقدس تصور ہے، جس کے صریح شرعی احکام، متعین حدود اور بلند مقاصد ہیں۔ ان مقاصد میں حفاظتِ دین، جان و انسانی وقار اور عدل کا قیام شامل ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں داعش جیسے گروہوں نے اس بلند اور مقدس تصور کو مسخ کر دیا ہے اور جہاد کے نام پر تشدد، قتل و غارت اور تباہی کو جائز ٹھہرایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نام پر یہ بدنامِ زمانہ گروہ (داعش) آج جو کچھ کر رہا ہے وہ جہاد نہیں، بلکہ دین کے لبادے میں عقیدے میں ایک کھلا انحراف ہے۔ اسلامی شریعت میں جہاد مخصوص شرائط، متعین مقاصد اور جائز قیادت کا پابند ہے، اور اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے گناہ انسانوں کا قتل، مسلمانوں کی تکفیر اور معاشروں کی تباہی، جیسا کہ اس گروہ نے گزشتہ برسوں میں کیا، کو جہاد کہا جائے۔

داعش نے جہاد کو اپنے سیاسی اور فکری اہداف کے حصول کا ایک ذریعہ بنا لیا ہے اور اسے اخلاق، عقل اور شریعت کے مقاصد سے الگ کر دیا ہے۔ اس جماعت کے بعض افراد، جو داعش کی اصل حقیقت اور ماہیت سے ناواقف ہیں، آیات و احادیث کے منتخب اور جزوی حوالوں کے ذریعے دین کی ایک سطحی اور انتہاپسندانہ تعبیر پیش کرتے ہیں۔

دنیا کو یہ بات سمجھانا ضروری ہے کہ وہ تشدد اور دہشت گردی کے واقعات، جن کے نتیجے میں عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی جانیں جاتی ہیں، ہمارے دین میں کوئی جگہ نہیں رکھتے اور اس سے مکمل طور پر بے تعلق ہیں۔ ایسے اعمال کے مرتکب افراد کی دینی علما کی جانب سے کھل کر مذمت ہونی چاہیے اور اس قسم کے شدت پسند اور انتہاپسند افکار کا ہر ممکن طریقے سے سدِباب کیا جانا چاہیے۔

خلاصہ یہ کہ داعش کے مسئلے کی اصل جڑ دین کے فہم میں عقیدے اور منہج کا انحراف ہے۔ یہ گمراہ گروہ تکفیر کو وسیع، بے قاعدہ اور انتہاپسندانہ انداز میں استعمال کرتا ہے، یہاں تک کہ تقریباً نوّے فیصد مسلمانوں اور اسلام کے صحیح العقیدہ علما کو کافر قرار دیتا ہے۔ یہ نہایت آسانی سے مسلمانوں کے خون کو مباح سمجھتے ہیں، اور اپنے ظہور کے آغاز سے آج تک ان کی پوری توجہ مسلمانوں کی تباہی پر مرکوز رہی ہے، اور اس سب کو وہ اپنے لیے جہاد سمجھتے ہیں۔

یہ اعمال واضح طور پر اسلام کے ابتدائی دور کے خوارج سے مشابہت رکھتے ہیں، وہی گروہ جنہیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ افراط اور راہِ حق سے نکلنے والے قرار دیا تھا۔ داعش کے اقدامات نہ صرف ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قتل اور بے گھر ہونے کا سبب بنے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر اسلام کی مقدس شبیہ کو بھی نقصان پہنچایا ہے اور امتِ مسلمہ میں تفرقہ اور کمزوری کی فضا پیدا کی ہے۔

داعش نے جہاد کے مقدس نام کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اسلام سے سب سے بڑی خیانت کی ہے۔ حقیقی جہاد شریعت کے دائرے میں ہوتا ہے، نہ کہ انتہاپسندی، تکفیر اور خونریزی میں۔ دینی شعور کو مضبوط کرنا اور اسلام کے صحیح، متوازن اور خالص فہم کی طرف واپسی ہی ایسے خطرناک انحرافی گروہوں سے مقابلے کی واحد مؤثر راہ ہے۔

Exit mobile version