داعش کی کاروائیوں نے عراق میں جو کچھ پیچھے چھوڑا، وہ اس فرقے کے کمانڈروں اور رہنماؤں کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو کبھی متایا نہیں جا سکتا۔ اس قسم کے واقعات کی تحقیق پر برسوں لگیں گے اور یہ میرے جیسے ایک عام انسان کا کام نہیں کہ وہ شکستہ قلم کے ذریعے اس کا حق ادا کر سکے۔
اس قسط میں میں مختصرا بیان کروں گا کہ داعش نے عراق میں کیا کچھ کیا اور اس میں داعش کے جرائم کے بارے میں عراق کی حد تک اکتفا کروں گا۔ اس کے بعد، ہم داعش کی دیگر مسلم ممالک میں موجودگی پر تحقیق کریں گے۔
داعش نے جو کچھ عراق میں کیا ذیل کی سطور میں اسے اخلاص کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے:
میں نے ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۹ء تک کی ایک تفصیلی ٹائم لائن جمع کی ہے، جو داعش کے ابھرنے سے لے کر زوال تک کی مدت پر محیط ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہر مرحلے کا عراق کے اہل سنت پر کیا اثر پڑا۔ یہ ٹائم لائن تاریخی، عسکری اور سماجی پہلوؤں کا مجموعہ ہے:
*داعش کے عراق میں ابھرنے، عروج اور اختتام کی تفصیلی ٹائم لائن:*
وقت: مئی ۲۰۱۳ء
واقعہ: فلوجہ اور رمادی کی جنگیں، نوری المالکی کی حکومت اور سنی مظاہرین کے درمیان اہل سنت کے حکومت کی جانب سے امتیازی سلوک اور حکومت کی سکیورٹی پالیسیوں کے خلاف احتجاج۔
اثرات: جہادی گروہوں کا شام سے عراق کے مغرب کی طرف آنا۔ سیاسی دراڑ مزید گہری ہوئی۔
وقت: جنوری ۲۰۱۴ء
واقعہ: فلوجہ اور رمادی کے کچھ حصوں پر «دولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام» (داعش) کا قبضہ، سنی علاقوں میں داعش کی حکمرانی کا آغاز۔
اثرات: قبائل نے ابتدا میں سوچا کہ داعش حکومت کے خلاف ان کی مدد کرے گی، لیکن جلد ہی سمجھ گئے کہ داعش کی حکمرانی قتل و وحشت کا مطلق تسلط ہے۔
وقت: جولائی ۲۰۱۴
واقعہ: موصل کا سقوط اور داعش کی نینوا، صلاح الدین اور کرکوک میں تیزی سے پیش قدمی، ۲۰۰۳ء کے بعد عراق کا سب سے بڑا سیکورٹی بحران۔
اثرات: داعش کا عراق کے دوسرے بڑے شہر پر قبضہ، زیادہ تر اہل سنت ابتدا میں خوش ہوئے، لیکن بعد میں سخت سزاؤں اور تشدد کا شکار ہوئے۔
وقت: جون – جولائی ۲۰۱۴ء
واقعہ: "خلافۃ الاسلامیہ” کا اعلان اور ابوبکر البغدادی کو بطور "خلیفہ” منتخب کرنا۔
اثرات: سنی دنیا میں وسیع پروپیگنڈا، لیکن عراق کے اہل سنت کے لیے نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی خودمختاری کی ہر علامت ختم ہو گئی اور داعش کی بے رحم حکمرانی شروع ہوئی۔
وقت: ۲۰۱۴ء کے آخری ماہ – ۲۰۱۵ء کا آغاز
واقعہ: دیالہ اور صلاح الدین میں داعش مخالف آپریشنز (حشد الشعبی رافضی اور عراقی فوج کی جانب سے)۔
اثرات: تکریت اور آس پاس کے شہروں پر دوبارہ قبضہ۔ خونریز لڑائیاں اور اہل سنت شہریوں کے جانی نقصانات۔ سنی اور شیعہ مذہبی دراڑیں مزید گہری ہوئیں۔
وقت: مئی – دسمبر ۲۰۱۵ء
واقعہ: الرمادی کی جنگ (ولایت الانبار)
عراقی فوج اور سنی قبائل کی فورسز نے عالمی اتحاد کی ہوائی مدد سے شہر پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ وسیع تباہی، سست رفتار تعمیرِ نو اور لاکھوں سنی شہریوں کا بے گھر ہونا۔
وقت: مئی – جون ۲۰۱۶ء
واقعہ: فلوجہ کی آزادی، پہلا بڑا شہر جو داعش کے ہاتھ سے نکلا۔ زیادہ تر سنی خاندان حشد الشعبی کی طرف سے انتقام اور اجتماعی گرفتاریوں کا شکار ہوئے۔
وقت: اکتوبر ۲۰۱۶ء – جولائی ۲۰۱۷ء
واقعہ: موصل کے بڑے آپریشنز، دوسری عالمی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی شہری جنگ۔
اثرات: دس لاکھ سے زیادہ شہری محاصرے میں۔ نو ماہ کی لڑائی کے بعد، موصل ۱۰ جولائی ۲۰۱۷ء کو رافضیوں کے ہاتھ آ گیا۔ داعش کو شدید دھچکا لگا۔
وقت: اگست ۲۰۱۷ء
واقعہ: تلعفر کی آزادی، نینوا ولایت سے داعش کی منظم موجودگی کا خاتمہ۔ زیادہ تر سنی خاندان داعش کے ممکنہ تعاون کے الزام میں بے گھر۔
وقت: ستمبر – اکتوبر ۲۰۱۷ء
واقعہ: الحویجہ آپریشنز (جنوبی کرکوک)
اثرات: عراق کا آخری شہری علاقہ داعش کے ہاتھ سے نکل گیا۔ دسمبر ۲۰۱۷ء میں حیدر العبادی نے داعش خلافت کے خاتمے کا اعلان کیا۔
وقت: ۲۰۱۸ء
واقعہ: الانبار کے صحراؤں اور شام عراق کی سرحد پر داعش ایک علاقائی حکومت سے گوریلا گروہ میں تبدیل ہو گئی۔ سنی قبائل کا کردار سیکورٹی آپریشنز میں محدود رہا۔
وقت: مارچ ۲۰۱۹ء
واقعہ: داعش کے آخری قلعہ (باغوز) کا سقوط
اثرات: دونوں ممالک (عراق اور شام) میں داعش کی خلافت کا رسمی خاتمہ۔ داعش کا سربراہ ابوبکر البغدادی عراق واپس آیا، لیکن ۲۰۱۹ء کے آخر میں امریکی فورسز کے آپریشن میں ادلب میں مارا گیا۔
وقت: ۲۰۲۰ء – ۲۰۲۴ء
واقعہ: داعش کی باقیات عراق کے پہاڑوں اور صحراؤں میں اب بھی کبھی کبھار حملے کرتی ہیں، لیکن کوئی علاقائی اختیار نہیں رکھتیں۔ حکومت کی توجہ سنی علاقوں کی دوبارہ تعمیر پر ہے، اگرچہ امتیازی سلوک اور بے روزگاری اب بھی جاری ہے۔
*خلاصہ؛*
۔ داعش کی طاقت اور عروج کا دور: ۲۰۱۴ء کی گرمیوں سے ۲۰۱۵ء کی گرمیوں تک
۔ علاقائی زوال کا مرحلہ: جولائی سے دسمبر ۲۰۱۷ء تک

