Site icon المرصاد

داعش نامی وبا! اٹھائیسویں قسط

صوبہ دیالہ میں داعش کے جرائم

پچھلی قسطوں میں ایک اہم نکتے کا ذکر کیا گیا: جہاں کہیں ابن ملجم کے پیروکاروں کے قدم پہنچے، وہاں اہل سنت کے قتل اور جرائم کے سوا کچھ نہیں بچا۔ یہی داغ اس گمراہ اور ناپاک فرقے کی پیشانی پر لگا ہے۔

ان علاقوں میں سے ایک عراق کا صوبہ دیالہ تھا، جہاں داعش نے پہنچ کر بے شمار جرائم کیے۔ اگرچہ داعش اس صوبے پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر سکی، لیکن وہ جرائم کے ارتکاب سے باز نہ آئی۔ اس حصے میں، ہم سب سے پہلے دیالہ کے جغرافیائی محل وقوع کا ذکر کریں گے اور پھر ان واقعات کا ذکر کریں گے جو داعش نے وہاں انجام دیے۔

دیالہ کا جغرافیائی محل وقوع:
صوبہ دیالہ مشرقی عراق میں واقع ایک اہم سرحدی صوبہ ہے، جس کی درج ذیل خصوصیات ہیں:

مقامی محل وقوع:
دیالہ مشرقی عراق میں واقع ہے، جس کے مغرب میں بغداد، شمال میں صلاح الدین، شمال مغرب میں کرکوک، شمال مشرق میں نینوا، جنوب میں واسط، اور مشرق میں ایران سے سرحد ملتی ہے۔

قدرتی خصوصیات:
اس صوبے میں شمال اور مشرق میں حمرین جیسے پہاڑ ہیں۔ اس کے علاوہ زرخیز میدان، وسیع باغات، نہریں، اور زرعی زمینیں بھی موجود ہیں۔ شمال اور مشرق کے پہاڑی سرحدی علاقے اور بلند مقامات خفیہ نقل و حرکت اور اچانک حملوں کے لیے قدرتی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

قومی اور مذہبی تنوع:
دیالہ کی آبادی مخلوط ہے: شیعہ، سنی، کرد، اور ترکمان۔ بعض علاقوں جیسے خانقین اور جلولا میں کرد رہتے ہیں، مرکزی اور جنوبی علاقوں میں سنی آباد ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں شیعہ رہتے ہیں۔ یہ قومی و مذہبی ڈھانچہ دیالہ کو تنازعات کا مرکز بناتا ہے، اور داعش نے اس سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔

اسٹریٹجک اہمیت:
دیالہ بغداد کے قریب واقع ہے اور بغداد سے شمالی صوبوں اور ایران کی طرف جانے والی اہم سڑکوں پر مشتمل ہے۔ اس خصوصیت نے اس صوبے کو اسٹریٹجک اور سیکیورٹی کے لحاظ سے اہمیت دی ہے۔

داعش نے دیالہ کے کچھ علاقوں پر کس طرح کنٹرول حاصل کیا؟

داعش نے کئی مراحل میں دیالہ میں داخل ہو کر کچھ علاقوں پر قبضہ کیا، لیکن بعد میں عراقی فوج اور دیگر گروہوں نے لڑائی کے ذریعے اسے پسپا کیا۔

اہم مراحل درج ذیل ہیں:

2014 کے ابتدائی مہینوں میں داعش نے شمالی اور مرکزی دیالہ پر حملے کیے۔ اس نے دریا کے کناروں اور باغات پر قبضہ کیا اور بہریز (بعقوبہ کے قریب) پر حملہ کیا۔ کچھ دنوں تک اس نے علاقے کے کچھ حصوں پر کنٹرول برقرار رکھا۔ جواباً، عراقی حکومتی افواج اور ایران کی حمایت یافتہ رافضی گروہوں نے آپریشن شروع کیے تاکہ داعش کو بغداد اور کرکوک کی طرف بڑھنے سے روکا جا سکے۔

2014 کے وسط اور آخری مہینوں میں داعش نے جلولا اور السعدیہ جیسے شہروں پر مکمل یا جزوی کنٹرول حاصل کیا۔ مقدادیہ کے شمالی باغات کو بھی اسٹریٹجک علاقے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نومبر 2014 میں کرد پیشمرگہ فورسز، عراقی فوج، اور شیعہ گروہوں کے مشترکہ آپریشنز کے ذریعے ان علاقوں کو دوبارہ آزاد کرایا گیا۔ جلولا اور السعدیہ جیسے شہر داعش کے کنٹرول سے آزاد ہوئے۔

Exit mobile version