Site icon المرصاد

داعش نامی وبا! پچیسویں قسط

الرمادی شہر کی اَن کہی کہانیاں:
اسلامی ممالک اور اہلِ سنت کے خلاف داعش کے جرائم اتنے وسیع ہیں کہ ان کی تفصیل بیان کرنا انسانی بس سے باہر ہے۔ عراق میں اس گروہ کے وحشت ناک دور کے دوران، ۲۰۱۴ء اور ۲۰۱۵ء کے درمیان، الرمادی شہر میں بڑے پیمانے پر اور بے رحمانہ جرائم کیے گئے، جن کا مقصد اس شہر کے سماجی و شہری ڈھانچے کو تباہ کرنا اور خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

پچھلی قسطوں میں ہم نے ذکر کیا تھا کہ الرمادی عراق کے مغرب میں الانبار صوبے کا مرکز ہے۔ یہ شہر عراق کے اہم اسٹریٹجک مقامات میں شمار ہوتا ہے، جو بغداد اور شام کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے، اور ہمیشہ تنازعات کا مرکز رہا ہے۔

۱۷مئی ۲۰۱۵ء (۲۷ ثور ۱۳۹۴ھ شـ) کو داعشی گروہ کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد عراقی فوج سے الرمادی شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ مکمل سقوط سے پہلے یہ شہر کئی ماہ سے داعش کے محاصرے میں تھا اور لڑائیاں ۲۰۱۴ء کے آخر میں شروع ہوئی تھیں۔

رمادی میں داعش کے مظالم اور جرائم کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱۔ اجتماعی سزائے موت اور صحرائی قتل
الرمادی شہر پر قبضے کے بعد داعش نے درجنوں شہریوں، سرکاری ملازمین، فوجی اور پولیس افسران کو حکومت سے تعاون کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کچھ افراد کو موت کی سزائیں شہر کے مرکزی چوک میں دی گئیں جبکہ کچھ افراد کو الرمادی کے گرد و نواح کے صحراؤں میں قتل کیا گیا۔ عراقی خبر رساں ذرائع کے مطابق جون ۲۰۱۵ء میں ایک واقعے میں سو سے زیادہ شہری اور اہلِ سنت کے نوجوان داعش کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر قتل کر دیے گئے، جو اس المیے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔

۲۔ عام شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا:
داعش نے کئی علاقوں میں گھروں اور شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تاکہ فضائی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔ ۲۰۱۵ء کے آخر میں خبر رساں ذرائع نے بتایا کہ ۱۵۰۰ سے زیادہ عام شہریوں کو جان بوجھ کر ان عمارتوں میں رکھا گیا تھا جنہیں داعشی کمانڈ مراکز کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔
۳۔ عوامی املاک اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی:
داعش نے قبضے کے بعد اسکولوں، اسپتالوں، مساجد، پلوں اور دیگر مراکز کی تباہی شروع کردی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، الرمادی کے شہری بنیادی ڈھانچے کا ۸۰ فیصد سے زیادہ حصہ تباہ کردیا گیا تھا۔

۴۔ تشدد اور جسم کے اعضا کاٹنا:
وہ افراد جو داعش کے احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے یا جن پر بلا وجہ حکومت سے تعاون کا الزام لگایا جاتا تھا، ان کے اعضا کاٹ دیے جاتے تھے۔ ۲۸ دسمبر ۲۰۱۵ء کو عراق کے اس وقت کے وزیرِ اعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا کہ الرمادی شہر مکمل طور پر داعش کے قبضے سے آزاد ہو چکا ہے اور رافضی افواج نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

الرمادی کے آزاد ہونے کے بعد رافضی حشد اور ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جو کچھ کیا، وہ اہلِ سنت کے مظلوم بچوں اور عورتوں سے انتقام لینے والے لامتناہی ظلم تھے۔ کٹی ہوئی لاشیں، بے جان جسم اور اجتماعی قبریں اس المیے کی شدت کے ٹھوس ثبوت ہیں۔

Exit mobile version