داعش، جو خود کو ’’اسلامی حکومت‘‘ کے نام سے متعارف کراتی ہے، درحقیقت انسانیت کے بنیادی اصولوں اور اسلام کی اصل قدروں سے بہت دور بھٹکی ہوئی ایک تنظیم ہے۔ ان کے افعال نہ شریعت کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ انسانیت کی؛ بلکہ یہ وحشت، خونریزی، جھوٹ اور ظلم کا ایک بھیانک تماشا ہے۔ اسلام کا نام صرف ایک نعرے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اسلام کی رحمت اور اس کا پاکیزہ جوہر ان کے ہاتھوں پامال ہو چکا ہے۔ جہاں کہیں بھی انہوں نے قدم رکھا، وہاں خون بہایا، شہر تباہ کیے، عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا اور انسانیت کے دامن پر شرمناک دھبّے چھوڑ دیے۔
داعش کے ظہور کا پس منظر:
داعش ۲۰۱۳ء اور ۲۰۱۴ء کے درمیانی عرصے میں عراق اور شام کی جنگوں کے ہنگامہ خیز ماحول میں ابھری۔ جنگی انتشار، حکومتوں کی کمزوریاں، مذہبی اختلافات اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت نے اس گروہ کو موقع فراہم کیا کہ وہ کچھ علاقے اپنے قبضے میں لے لے۔ ۲۰۱۴ء میں انہوں نے عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا اور ’’خلافت‘‘ کے قیام کا اعلان کر دیا۔ یہ ان کی قوت کے عروج کی ابتدا تھی، مگر اسی دور میں انہوں نے انسانیت کے خلاف سب سے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔ ان کے زیرِ قبضہ ہر شہر خون کی نہر میں بدل گیا۔
بے گناہ عوام کا قتل عام:
داعش نے معصوم انسانوں کے قتل کو خوف پھیلانے اور اپنی طاقت دکھانے کا ایک تماشہ بنا رکھا تھا۔ وہ عام شہریوں کے سر قلم کرتے، سڑکوں کے کنارے لٹکاتے، پھر انہی مناظر کی ویڈیوز اور فلمیں تیار کرکے پوری دنیا میں پھیلاتے تھے۔
موصل، رقہ، فلوجہ، دیرالزور اور دیگر شہروں میں انہوں نے صرف اس وجہ سے سینکڑوں شہریوں کو قتل کیا کہ وہ ان کے سوچ و نظریے سے متفق نہیں تھے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۴ء سے ۲۰۱۷ء تک داعش کے ہاتھوں ۳۰ ہزار سے زائد شہری مارے گئے اور تقریباً ۷۰ ہزار زخمی ہوئے۔ وہ لوگوں کے ایمان، مذہب یا نسلی تعلق کی بنیاد پر موت کا فیصلہ صادر کرتے اور پھر اس سب کو ’’خلافت‘‘ کے نام پر جائز قرار دیتے۔
خواتین اور لڑکیوں کی غلامی:
داعش کے ظلم کا سب سے دل خراش پہلو خواتین کے ساتھ اُن کا وحشیانہ رویّہ ہے۔ خاص طور پر عراق کی ایزیدی اقلیت کی خواتین اور لڑکیاں ان کی جنسی غلامی کا شکار بنیں۔
وہ خواتین کو گھروں اور بستیوں سے اغوا کرتے، پھر انہیں بازاروں میں بطور ’’لونڈیاں‘‘ فروخت کرتے تھے۔ رقہ شہر تو باقاعدہ ’’جنسی غلامی کے بازار‘‘ کے نام سے بدنام ہوچکا تھا۔
عورتوں کی قیمت طے کرنے کا معیار اُن کی عمر، رنگ اور خوبصورتی ہوتا تھا۔ بعض عورتوں کو تو کئی لوگوں کے درمیان بانٹ دیا جاتا، اور کم سن لڑکیوں کو محض ۱۲ اور ۱۳ سال کی عمر میں فروخت کر دیا جاتا تھا۔ یہ عمل نہ صرف انسانیت کی توہین تھا بلکہ دین کے تمام اصولوں سے صریح ٹکراؤ رکھتا تھا۔
متعدد آزاد ہونے والی خواتین نے بتایا کہ داعش کے جنگجو اس ظلم کو ’’جہاد النکاح‘‘ کے نام پر جائز قرار دیتے تھے، اور جو کوئی اس کی مخالفت کرتا، اُسے فوراً ’’مرتد‘‘ کہہ دیا جاتا۔
بچوں کی تربیت اور ذہنیت مسخ کرنا:
داعش جانتی تھی کہ جنگ کی بقا نسلوں کے ذہن بدلنے سے وابستہ ہے۔ اسی لیے انہوں نے بچوں کے لیے مخصوص ’’تربیتی کیمپ‘‘ قائم کیے، جہاں کم سن بچوں کو قتل، بم تیار کرنے اور انسانوں کا سر کاٹنے کی مشق کروائی جاتی تھی۔
ان معصوموں کو رحم کی جگہ انتقام اور محبت کی جگہ دشمنی کا درس دیا جاتا۔ سینکڑوں ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ دس سالہ بچوں کے ہاتھ مقتول قیدیوں کی گردنوں پر رکھے گئے تاکہ وہ خون دیکھنے کے عادی ہو جائیں۔
یوں داعش ایک نئی، بےرحم نسل تیار کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جو پورے خطّے کے لیے ایک سنگین انسانی المیہ تھا۔
دینِ اسلام کا غلط استعمال:
داعش نے اسلام کے نام کو بدترین طریقے سے استعمال کیا۔ وہ قرآن کریم کی آیات سے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اُن کی تحریف شدہ تعبیر پیش کرتے تھے۔ اسلام کی رحمت، معافی اور انسان کا احترام؛ ان سب کا ان کے نظریات میں کوئی وجود نہیں تھا۔
جو کوئی ان کی سوچ سے اتفاق نہ کرتا، اسے ’’کافر‘‘ اور ’’مرتد‘‘ قرار دیا جاتا، حتیٰ کہ وہ مسلمان بھی جو اُن کے ظلم اور تشدد کی مخالفت کرتے تھے۔
درحقیقت، اسلام دشمنی پر مبنی ان کے اعمال نے اسلام کے مخالفین کی پروپیگنڈا مشین کو اور بھی طاقت بخشی، کیونکہ دنیا اسلام کا نام داعش کے وحشت ناک مظالم کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے لگی تھی۔
تہذیبی ورثے کی تباہی:
داعش نے صرف انسانوں کا قتلِ عام ہی نہیں کیا، بلکہ دنیا کے تاریخی ورثے کو بھی نیست و نابود کر دیا۔ عراق میں انہوں نے ’’نینوا‘‘، ’’حضر‘‘، ’’نمرود‘‘ اور دیگر قدیم شہروں کی آثارِ قدیمہ اور تاریخی عمارتوں کو بموں سے اڑا دیا۔
سوریہ میں ’’پالمیرا‘‘ (تدمر) جیسے تاریخی شہر کے آثار تباہ کیے، جو انسانی تہذیب کا ایک نایاب خزانہ تھا۔ اس تباہی کا مقصد محض مادی نقصان نہیں تھا؛ بلکہ تہذیبی شناخت کو مٹانا اور تاریخ کی یادداشت سے ثقافتی سرمایہ نکال پھینکنا تھا، ان کے یہ اقدامات انسانی تاریخ میں ثقافت کشی کی ایک مثال سمجھے جاتے ہیں۔
عالمی ردعمل اور انجام:
جب داعش کے وحشیانہ جرائم دنیا پر آشکار ہوئے تو عالمی برادری یکجا ہوگئی۔ اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی اداروں اور مختلف ممالک نے مشترکہ کارروائیاں شروع کیں۔
عراق اور شام کی افواج، اور بین الاقوامی اتحادی فورسز نے بتدریج داعش کے مضبوط ٹھکانے تباہ کیے۔
۲۰۱۹ء میں شام کا علاقہ ’’باغوز‘‘ داعش کا آخری قلعہ تھا، جس کا خاتمہ کر دیا گیا۔
فکری اور نفسیاتی نقصان:
داعش نے لوگوں کی زندگیاں ہی تباہ نہیں کیں، بلکہ امتِ مسلمہ کی وحدت کو بھی پارہ پارہ کر دیا۔ ان کے اعمال کی وجہ سے دنیا کا ایک بڑا حصہ اب اسلام کو شک اور خوف کی نظر سے دیکھتا ہے، جو تمام مسلمانوں کے لیے ایک فکری سانحہ ہے۔
داعش کے تشدد نے بے گناہ انسانوں کے ذہن مسخ کیے، دین کے نام سے خوف پیدا ہوا، اور امن و رحمت کے اقدار کمزور پڑ گئے۔
آخرکار کہا جا سکتا ہے کہ داعش نے نہ صرف عالمِ اسلام بلکہ پوری انسانیت پر ایک سیاہ دھبہ چھوڑا۔
ان کے ارتکاب کیے گئے جرائم جیسے خواتین کو غلام بنانا، بچوں کی برین واشنگ، انسانوں کا قتل عام، تہذیبی ورثے کی تباہی اور دین کی تحریف؛ وہ اعمال ہیں جنہیں انسان کا ضمیر کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔
آج داعش کے مظالم کے شواہد انسانی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں اور بین الاقوامی عدالتوں کے اہم دستاویزی ثبوت ہیں۔
اس پورے واقعے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انتہا پسندی، چاہے کسی بھی نام سے ہو، انسانیت کی دشمن ہے۔ اسلام رحم، عدل اور انصاف کا دین ہے، اور داعش اس دین کی سب سے خطرناک مسخ شدہ شکل ہے۔ ہر انسان کو سمجھنا چاہیے کہ داعش کی ظالمانہ فکر اسلام کی نہیں، بلکہ جہالت، ظلم اور اقتدار کی وحشیانہ بھوک کی نمائندہ ہے۔

