داعش نے جدید دور میں میڈیا کی طاقت کو گہرائی سے سمجھا اور وہ نفسیاتی جنگ کو اپنے پروپیگنڈا ہتھیار کے ذخیرے میں ایک بے مثال ہتھیار میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس گروہ نے، جو قرون وسطیٰ کے خوارج کی ذہنیت سے جڑا ہوا تھا، نے ہوشیاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ جدید مواصلاتی آلات کو لوگوں میں خوف پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ میڈیا داعش کے لیے صرف اطلاعات پہنچانے کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ وہ آکسیجن تھا جو ان کی تکفیری نظریاتی سانسوں کو زندہ رکھتا تھا اور اس نظریے کو دنیا کے دور دراز علاقوں تک پہنچاتا تھا۔
خونخوار داعشیوں نے مسخ شدہ مواد کی تیاری اور جدید فلم سازی کی تکنیکوں کے استعمال سے ایک خوفناک مگر عجیب طور پر پرکشش تصویر پیش کی۔ یہ انتہا پسند گروہ، جو اچھی طرح جانتا تھا کہ تصاویر ذہنوں میں رہتی ہیں اور باتیں گزر جاتی ہیں، نے اعلیٰ معیار کی ویڈیوز بنانے پر بھاری سرمایہ کاری کی، جو ہالی ووڈ کے خصوصی اثرات سے لیس تھیں۔ ان کے کلپس نہ صرف خوفناک اور دہشت ناک کارروائیوں کی رپورٹس تھے، بلکہ ان کے دعویٰ کردہ خلافت کے تحت طاقت، نظم و ضبط اور مثالی زندگی کی ایک منصوبہ بند تصویر بھی پیش کرتے تھے۔
یہ ویڈیوز، جن میں جوش دلانے والی موسیقی سے لے کر علامتی تصاویر تک، نفسیاتی سائنس کے عناصر استعمال کیے گئے تھے، ان کمزور ذہنوں کو مخاطب کرتی تھیں جو یا تو مغرب میں شناخت کی تلاش میں تھے، یا نام نہاد مثالی زندگی کی تلاش میں، یا پھر تشدد کی طرف مائل شخصیات تھے۔
داعش کی میڈیا حکمت عملی دو بنیادی محوروں پر قائم تھی: پرکشش مواد کے ذریعے نئے ارکان کو راغب کرنا اور دشمنوں کے دلوں میں خوف پھیلانا۔ پہلے حصے میں، انہوں نے جذباتی مواد کی تیاری اور مسخ شدہ مذہبی علامتوں کے استعمال سے اپنے مخاطب میں "عالمی امت” سے تعلق کا احساس پیدا کیا۔ ان کا پیغام سادہ مگر اثر انگیز تھا: "تم بھی اس داستان کے ہیرو بن سکتے ہو۔” لیکن دوسرا حصہ—خوف پھیلانا—داعش کے وحشیوں کا اصل فن تھا۔
اس گروہ نے غیر انسانی اور پرتشدد مناظر کو عام کیا، جیسے سر قلم کرنا، جلانا، اور ڈبونا؛ وہ نہ صرف اپنی وحشت کا مظاہرہ کرتے تھے، بلکے اپنی دعویٰ کردہ ناقابل شکست طاقت کو بھی پیش کرتے تھے۔ ہر کلپ اس طرح بنایا جاتا تھا کہ اس کا ایک واضح پیغام ہو، جیسے: "مزاحمت بے فائدہ ہے۔”
قابل ذکر بات یہ ہے کہ داعش نے مغربی میڈیا کی مثالوں سے بھی ہوشیاری سے استفادہ کیا۔ وہ جانتے تھے کہ عالمی میڈیا اپنے ناظرین کو راغب کرنے کے لیے چونکا دینے والی اور حیران کن خبروں کا محتاج ہے۔ اس لیے، انہوں نے تشدد کو اس انداز اور مقدار میں پیش کیا کہ نہ وہ اتنا زیادہ ہو کہ ناظر اس سے بے حس ہو جائے، اور نہ ہی اتنا کم کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ اس دقیق حساب کتاب نے عالمی میڈیا کو غیر ارادی طور پر داعش کے پروپیگنڈا مشین کا حصہ بنا دیا۔ حتیٰ کہ جب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹوئٹر (ایکس) نے ان کے اکاؤنٹس بند کیے، تو وہ فوری طور پر متبادل میڈیا ذرائع جیسے ٹیلیگرام کی طرف چلے گئے اور وہاں نجی چینلز کے ذریعے اپنے حامیوں سے رابطہ رکھتے۔
ان خوف پھیلانے والے پروپیگنڈوں کے پیچھے نفسیات "خوف اور پناہ” کے اصول پر مبنی تھی، وہی تکنیک جو ہٹلر نے بھی پہلے استعمال کی تھی۔ داعش پہلے اپنے خوفناک اعمال سے گہرا خوف پیدا کرتا، پھر خود کو اس خوف سے نجات کا واحد پناہ گاہ پیش کرتا: "ہم سے ڈرو اور ہمارے پاس آؤ۔” یہ عجیب دوہرا رویہ نہ صرف خوفناک تھا بلکہ پرکشش بھی، جو اس بات کی عکاسی کرتا تھا کہ داعش کو جدید انسان کی نفسیاتی کمزوریوں کی گہری سمجھ تھی۔ وہ جانتے تھے کہ خوف نہ صرف بھاگنے کا باعث بن سکتا ہے، بلکہ ایک غیر صحت مند وابستگی بھی پیدا کر سکتا ہے۔
آخر میں، بدقسمتی سے داعش کا میڈیا ایک ایسی تصویر بنانے میں کامیاب ہوا جو ایک ہی وقت میں نفرت انگیز بھی تھی اور پرکشش بھی، وحشی بھی تھی اور منظم تھی۔ یہ ارادی تضاد وہی تھا جس نے دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ آج، اگرچہ داعش جسمانی طور پر کمزور ہو چکی ہے اور زوال کی طرف جا رہی ہے، لیکن ان کا پروپیگنڈا ورثہ اب بھی اس دور کی انتہا پسندی کی میڈیا کے غلط استعمال کا ایک بے مثال نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تجربے نے یہ بھی دکھایا کہ معلومات کے دور میں، ایک خوفناک وائرل کلپ ایک ٹینک سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

