Site icon المرصاد

داعش کی قیادت کس طرح شام سے صومالیہ منتقل ہوئی؟ پہلی قسط

داعشی گروہ، جس کا پہلے مرکز شام یعنی موجودہ سوریہ میں تھا، موجودہ معلومات کے مطابق اس نے اپنا مرکز صومالیہ منتقل کر لیا ہے۔ یہ منتقلی گہری مشاورت اور تجزیوں کے بعد عمل میں آئی۔ بعض معتبر ذرائع کے مطابق اس منتقلی میں عراقی داعشیوں نے اہم کردار ادا کیا، تاکہ انٹرنیٹ پر چلنے والی شامی قیادت، جو عراقیوں کو زیادہ وقت اور قیادت نہیں دیتی تھی، اسے شامی داعشیوں سے افریقی داعشیوں کی طرف منتقل کر دیا جائے۔

یہ منتقلی کیوں ہوئی؟
پہلا سبب:

داعش کی ابتدا اور تنظیمی ڈھانچہ عراقی داعشیوں نے قائم کیا تھا، اور قیادت بھی انہی کے پاس تھی۔ اگرچہ ابو بکر البغدادی نے اپنے نام نہاد خلافت کا مرکزی علاقہ شام کی سرزمین کو بنایا، لیکن اس جعلی خلافت کی مرکزی انتظامیہ اور وزارتوں کے اہم عہدوں پر عراقی ہی مقرر تھے۔ یہ تنظیمی ڈھانچہ 2017ء تک اچھی طرح چلتا رہا، اس کے بعد شام میں موجود اہم عراقی داعشیوں کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شامی جاسوسوں کے ذریعے ختم کر دیا، تاکہ یہ عہدے ان شامی جاسوسوں کو مل جائیں جنہوں نے اس گروہ میں گہرا اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا۔

اس کوشش نے کسی حد تک نتیجہ دیا، لیکن ابھی بہت کام باقی تھا، کیونکہ البغدادی کے قریبی اور وفادار رہنما ابھی موجود تھے۔

شام میں داعش کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی تھی، اور وہ اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر حالات ان کے قابو سے باہر ہو چکے تھے۔ اسی دوران ابو بکر البغدادی بھی منظر سے ہٹ گیا اور میدان میں عراقی بہت کم رہ گئے۔ شامی اور عراقی داعشیوں نے مل کر داعش کا پورا تنظیمی ڈھانچہ تبدیل کر دیا، کئی وزارتیں/دیوان ختم کر دیے، بعض کو ضم کر دیا، کچھ عمومی شعبے ختم کیے اور کچھ برقرار رکھے۔

اس نئے ڈھانچے میں اہم عہدے، جیسے سکیورٹی کی وزارت یا "دیوان العام”، شامیوں کو ملے، کیونکہ یہ ادارہ عسکری امور چلاتا تھا، ذمہ داران کے خفیہ ٹھکانوں کے تحفظ کے اقدامات کرتا تھا، اور دیگر شعبہ جات کے سربراہان/گورنروں سے رابطے میں رہ کر پوری نام نہاد خلافت پر کنٹرول رکھتا تھا۔

دوسرا سبب:
اس نئے ڈھانچے میں آدھا حصہ عراقیوں اور آدھا شامیوں کو ملا۔ وقت کے ساتھ عراقی ایک ایک کر کے مارے جاتے رہے، یہاں تک کہ 2023ء میں ترکیہ نے اپنی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس گروہ کے رہنما اور خود ساختہ خلیفہ کو شام کے ایک گاؤں میں نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا، جبکہ اس کے ترجمان ابو عمر کو زندہ گرفتار کر لیا۔

اس واقعے کے بعد داعش نے تقریباً تین ماہ تک مشاورت اور بحث جاری رکھی۔ عراقی داعشی صومالیہ کی طرف منتقلی کے حامی تھے، جبکہ شامی داعشیوں کا اصرار تھا کہ خلیفہ شام سے ہی ہونا چاہیے۔ چونکہ نگرانی اور کنٹرول کا بڑا حصہ افریقی گروہوں کے پاس تھا، اس لیے افریقہ کی پانچ شاخوں نے صومالیہ میں شیخ عبدالقادر مؤمن کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ خراسان اور پاکستانی شاخوں نے بھی ان کی بیعت کا اعلان کیا، صرف شامی داعشی اس پر آمادہ نہیں تھے، لیکن طویل مذاکرات کے بعد انہوں نے بھی بیعت قبول کر لی۔

شیخ عبدالقادر مؤمن نے ابتدائی طور پر اپنے لیے ایک عراقی داعشی، شیخ ابو حذیفہ نامی شخص کو ترجمان مقرر کیا۔ اسی طرح تعلیمی/ادارتی نگرانی کے شعبے کے لیے ایک شامی داعشی کو مقرر کیا گیا، جسے 2024ء میں امریکیوں نے ہلاک کر دیا۔

تیسرا سبب:
شامی اور عراقی داعشیوں کے اختلافات کا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ 2025ء میں شام کی وزارتِ داخلہ کی افواج اور بین الاقوامی اتحادی فورسز نے صوبہ حلب کے مشرقی شہر الباب میں مشترکہ سکیورٹی آپریشن کیا، جس میں داعش کے چار ارکان مارے گئے۔ اس کارروائی میں داعش کا ایک اعلیٰ رہنما، جو گروہ کا سرکاری ترجمان اور عراقی شہری تھا، زندہ گرفتار کیا گیا۔

اس حملے کے بعد ترکیہ اور شام کی سرحد کے قریب اتحادی افواج نے ایک رات آپریشن کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس میں عمران نامی ایک شامی داعشی مارا گیا۔ عراقی ذرائع ابلاغ نے اس وقت خبر دی کہ یہ انٹیلی جنس معلومات عراق کی سکیورٹی فورسز نے اتحادی افواج کو فراہم کی تھیں۔

Exit mobile version