خلافت کے تصور کی نفسیاتی کشش:
ایک ایسی دنیا، جہاں میڈیا بہت تیزی سے حقیقت اور فریب کے درمیان سرحدیں مٹا رہا ہے، داعش نے شیطانی مہارت کے ساتھ ان ذرائع کا استعمال ایک متوازی (جعلی) دنیا بنانے کے لیے کیا؛ ایک ایسی دنیا جہاں تشدد نہ صرف معمول بن چکا تھا، بلکہ اُسے ’’تقدس‘‘ کی شکل دی گئی تھی۔ اس پراپیگنڈے کا مرکز خلافت کا وہ دھوکہ دہ تصور تھا، جو کھوٹے سونے کی طرح چمک رکھتا تھا۔
مگر اس کے باطن میں سوائے تشدد، قتل، لوٹ مار اور تباہی کے کچھ نہ تھا۔ داعش نے عراق اور شام کے سنی نوجوانوں میں پائے جانے والے محرومی اور تنہائی کے احساس سے فائدہ اُٹھا کر، ’’خلافت‘‘ کے اس جعلی تصور کو ایک جذباتی اور نفسیاتی سہارا بنا دیا، اور سب کو اس بے خلیفہ خلافت پر بیعت کرنے کی دعوت دینے لگے۔
داعشیوں نے نہ صرف تشدد، قتل اور لوٹ مار کے لیے تلواریں اٹھائیں، بلکہ ہاتھ میں اٹھائے کیمروں کے ذریعے ان تلواروں کو دیومالائی علامتوں میں تبدیل کر دیا؛ وہ علامتیں جو ان کے خیال میں عظمتِ رفتہ کے حصول کی نوید تھیں۔ مگر یہ ایک بے بنیاد فریب تھا، جس نے کچھ نادان اور کم عقل لوگوں کو تھوڑی مدت کے لیے اپنے گرد اکٹھا کیا، اور انہیں تشدد، قتل، لوٹ اور تباہی کا سبق سکھایا۔
خوش قسمتی سے، کچھ ہی عرصے بعد سیاہ بادل چھٹے، سورج نمودار ہوا اور حق و باطل دن کی روشنی اور رات کے اندھیرے کی طرح واضح ہوئے اور آخرکار: ’’جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ‘‘(حق آ گیا اور باطل مٹ گیا)۔
لیکن یہ ’’خلافت‘‘ درحقیقت تھی کیا؟ کیا واقعی یہ ایک حقیقی خلافت تھی؟ کیا وہ اسلام کی بنیاد پر ایک منظم ریاست قائم کرنے کی جستجو میں تھی؟
اس سوال کا جواب ہم ہزاروں قطعی دلائل کی روشنی میں بلا تردّد دے سکتے ہیں کہ: نہیں!
شاید ان دیوصفت داعشیوں نے اپنے ظاہری دعوؤں میں ایک اسلامی حکومت کے قیام کا نعرہ لگایا ہو، لیکن ان کے افعال اور رویّے سب کچھ عیاں کر دیتے ہیں۔ داعش کی جس "خلافت” کی بات ہوتی ہے، وہ محض ایک کھوکھلا، بے بنیاد ڈھانچہ تھا، جو تین غیر مستحکم ستونوں پر کھڑا تھا:
تشدد بطور قانون، خوف بطور حکومتی آلہ اور فریب بطور نفسیاتی ایندھن۔
داعش نے پروفیشنل ویڈیوز کی بھرمار کے ذریعے، چاہے وہ قتل و اعدام کے مناظر ہوں یا الرقہ کے بازاروں میں دکھائی جانے والی روزمرہ زندگی کی تصاویر؛ یہ کوشش کی کہ ایک تضاد تخلیق کرے:
ایک طرف بے پناہ ظلم و بربریت اور دوسری طرف ایک پاکیزہ، پُرامن اسلامی معاشرے کا آئیڈیل خاکہ۔
یہ شعوری دوغلہ پن دراصل وہی نفسیاتی ہتھیار تھا جس سے اجتماعی ذہن کو نشانہ بنایا گیا:
قربانی بننے کا خوف اور کسی تعلق، کسی جماعت کا حصہ بننے کی شدید خواہش؛ دونوں کو یکجا کرکے فرد کو اس جال میں پھنسایا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جنگ کی پیدا کردہ تباہی کو بھی اس بیانیے میں ’’الٰہی آزمائش‘‘ قرار دیاگیا؛
گویا جو بم عوام کے سروں پر برستے تھے، وہ داعشی جرائم کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان کے ’’مقدّر‘‘ کا حصہ تھے۔
اس پورے تماشے میں سوشل میڈیا کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ داعش نے ٹوئٹر، ٹیلیگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک عالمی نیٹ ورک تشکیل دیا، جہاں دنیا کا ہر مایوس اور تنہا نوجوان اچانک خود کو ’’خلافت کا سپاہی‘‘ محسوس کر سکتا تھا۔
انہوں نے مذہبی اصطلاحات اور انقلابی نعروں کو اس طرح ملایا کہ مخاطب ذہن کو ایک خطرناک تضاد کو قبول کرنے پر مجبور کردیا: ’’تعمیر کے لیے قتل کرنا‘‘۔
انہوں نے عورتوں کو بھی اپنے پروپیگنڈے کا ہتھیار بنایا؛ ان ماؤں کی تصاویر جو اپنے بچوں کو کھلونوں کے بجائے ہتھیاروں سے روشناس کروا رہی تھیں، اس تاثر کو پھیلانے کے لیے تھیں کہ ’’وحشت بھی ایک معمول ہو سکتا ہے‘‘۔
مگر حقیقت یہ تھی کہ یہ ’’خلافت‘‘ نہ کبھی حقیقی تھی اور نہ ہی پائیدار، یہ تو اپنے عروج کے لمحوں میں بھی موم کی مانند تھی جو حقیقت کی حرارت سے پگھلنے لگ گئی تھی۔
اس کا اقتصادی ڈھانچہ لوٹ مار اور اسمگلنگ پر مبنی تھا، رہنما زیرِ زمین زندگی گزارتے تھے، اور اس کی واحد ’’قانونی‘‘ حیثیت خوف و وحشت کی حکمرانی تھی۔
داعش کا سقوط صرف ایک انتہاپسند تنظیم کے خاتمے کا نام نہیں، بلکہ ایک عظیم فریب کے چہرے سے نقاب الٹنے کا لمحہ تھا۔
وہ خلافت جو عوامی مزاحمت کی ابتدائی لہروں کا سامنا بھی نہ کر سکی، بالآخر ریزہ ریزہ ہو گئی۔
مگر اس کا سب سے گہرا زخم ذہنی و نفسیاتی سطح پر باقی رہا؛ وہ نسل جو اس فریب تلے پروان چڑھی، آج ایک بہت بڑے سوال کے سامنے کھڑی ہے:
ہم کیسے ان لوگوں کو، جنہیں برسوں تک یہ سکھایا گیا کہ ’’قتل مقدس عمل ہے‘‘، دوبارہ انسانیت سے جوڑ سکتے ہیں؟
اس سوال کا جواب جنگ کے میدان میں نہیں، بلکہ ایک طویل فکری و نفسیاتی معرکے میں پنہاں ہے،
ایسا معرکہ جس کا مقصد: ’’خلافت‘‘ کے نام پر پھیلائے گئے فریب سے ذہنوں کو نجات دینا ہے۔

