پاکستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں پاکستنی ریاست اور داعش کی پاکستانی شاخ کے درمیان تعلقات ایک بار پھر عالمی اور داخلی سطح پر بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں متعدد ایسے واقعات اور شواہد سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کہ پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیاں، آئی ایس آئی اور ایم آئی، اپنی مخصوص اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے داعش خراسان جیسے دہشت گرد عناصر کو بطور آلہ استعمال کرتی رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں “محمد اقبال ولد محمد شامدار” نامی ایک شخص کی ہلاکت اور اس سے برآمد ہونے والی دستاویزات نے ان خفیہ روابط کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ انکشاف کہ ایک شخص بیک وقت آئی ایس آئی کے لیے بھی کام کر رہا تھا اور داعش کو رسد فراہم کرنے کا ذمہ دار بھی تھا، آئی ایس آئی کے خلاف ان دیرینہ الزامات اور بیانیوں کی تصدیق سمجھا جا رہا ہے جن کے مطابق پاکستان میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کی جڑیں کسی نہ کسی شکل میں ریاستی سرپرستی سے جڑی ہوئی ہیں۔
المرصاد کی رپورٹ کے مطابق ان دستاویزات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ خفیہ اداروں کے بعض افراد مختلف ناموں سے داعش کے بنیادی ڈھانچے میں سرگرم ہیں، جن کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اس کی سرگرمیوں کا رخ اپنی خواہشات اور مفادات کے مطابق موڑنا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک اور کڑی شیخ ادریس رحمہ اللہ کی شہادت اور چند ماہ قبل اسلام آباد میں اہلِ تشیع کی عبادت گاہ پر ہونے والا خودکش حملہ بھی ہے، جنہیں تجزیہ کار داعش اور پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے درمیان بڑھتے تعاون اور داخلی اختلافات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب بھی پاکستانی فوج کو کسی مخصوص گروہ یا شخصیت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، یا وہ کسی بڑے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بننے لگتی ہے، تو اسے داعش جیسے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
پاکستان پر طویل عرصے سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کو اپنی “خارجہ پالیسی کے ایک ہتھیار” کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ خطے میں داعش کو فعال رکھنا بھی اسی پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے تاکہ پاکستان عالمی برادری، خصوصاً مغربی ممالک، کو یہ باور کرائے کہ خطہ شدید خطرات سے دوچار ہے، اور اس بنیاد پر سکیورٹی امداد اور سیاسی مراعات حاصل کر سکے۔ جیسا کہ سابق صدر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں افغانستان کے حوالے سے امریکی مقاصد کے لیے پاکستانی فوج کا یہی طرزِ عمل دیکھا گیا تھا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا کی وادیٔ تیراہ کی صورتحال پاکستانی فوج اور داعش کی پاکستانی شاخ کے باہمی تعاون کی ایک عملی مثال سمجھی جاتی ہے۔ شدید سردی کے موسم میں مقامی آبادی کو “آپریشن” کے نام پر زبردستی گھروں سے بے دخل کرنا، وہاں داعشی عناصر کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آنا، اور اس کے بعد داعش کی سرگرمیوں میں اضافہ، ایک منظم ریاستی منصوبے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع اور تجزیہ کاروں کے مطابق لوگوں کو اس مقصد کے تحت زبردستی بے دخل کیا گیا تاکہ وہاں داعشی خوارج کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا سکیں اور انہیں منظم کیا جا سکے۔
اسی وجہ سے مقامی آبادی کی بے دخلی کے بعد اس علاقے میں داعش کی سرگرمیوں اور حملوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے مقامی قبائل کے درمیان شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اگرچہ پاکستانی فوجی رجیم اور داعش کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی موجود نہیں، لیکن “مفادات اور عملی اقدامات” میں واضح ہم آہنگی دیکھی جا سکتی ہے۔ دونوں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تشدد اور دینی شخصیات کے قتل کو جائز سمجھتے ہیں۔
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں داعش کے تربیتی مراکز کو بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے نشانہ بنایا جانا اور تباہ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ داعش کو اب خیبر پختونخوا سے دیگر علاقوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ خطے کے ممالک کے خلاف ایک نیا محاذ کھولا جا سکے۔ پاکستانی فوج کے ان اقدامات کا ایک مقصد یہ بھی قرار دیا جاتا ہے کہ دنیا کو یہ دکھایا جائے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے، جبکہ پسِ پردہ انہی پرتشدد عناصر کو پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تمام شواہد اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ خطے کا امن اور استحکام مخصوص مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، جہاں داعش جیسی خونخوار تنظیمیں اور پاکستان کی فوجی و خفیہ ریاستی مشینری ایک ہی سکے کے دو رخ بنتی جا رہی ہیں۔ اسلام آباد میں اہلِ تشیع کی عبادت گاہ پر حملے سے لے کر وادیٔ تیراہ اور اورکزئی کے واقعات تک، یہ سب پاکستانی فوج کی اسی خطرناک اور متنازع پراکسی پالیسی کے مختلف پہلو ہیں۔

