داعش کو محض ایک عسکری گروہ یا سیاسی تحریک سمجھنا درست نہیں، بلکہ یہ دراصل ایک فکری و نظریاتی منصوبہ تھا جو دین کی تحریف، مذہبی جذبات کے غلط استعمال اور نوجوانوں کی ناپختہ دینی آگاہی سے منظم فائدہ اٹھانے کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ اس منحرف گروہ نے اسلام کا ایک جعلی بیانیہ تشکیل دے کر جہاد، خلافت، شجاعت اور ایثار جیسے بنیادی اور مقدس تصورات کو اس طرح ازسرِنو متعین کیا کہ تشدد، قتل اور تباہی کو دینی جواز کے تحت پیش کیا جانے لگا۔
حقیقت یہ ہے کہ داعش نے دین کو اس کے اصل جوہر سے خالی کر دیا اور اسے جرم، تسلط اور فریب کا آلہ بنا دیا۔ داعش کی بھرتی میں کامیابی کا ایک بنیادی سبب نوجوان نسل کے ایک حصے میں علمی خلا تھا۔ وہ نوجوان جنہوں نے منظم اور گہری دینی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور اسلام کے معتبر و مقدس مصادر سے خاطر خواہ واقفیت نہیں رکھتے تھے، اس گروہ کے بظاہر دینی پروپیگنڈے کے سامنے شدید طور پر متاثر ہوئے۔
اس منحرف گروہ نے قرآنِ عظیم الشان کی آیات اور نبوی احادیث کو منتخب انداز میں اور ٹکڑوں میں استعمال کیا، اور دانستہ طور پر ان کے شانِ نزول، سببِ ورود اور اخلاقی، تاریخی و عقلی سیاق سے جدا کر کے تشدد کو مقدس ثابت کیا اور عقلِ سلیم کو دبایا۔ اسی تناظر میں داعش کی انتہا پسند سوچ بعض نوجوانوں کے اذہان میں “خالص اسلام” کے نام سے راسخ ہو گئی، حالانکہ اس طرح کی تعبیر کی اسلام کی حقیقی روح، مقاصد اور اقدار سے کوئی ہم آہنگی نہیں۔
ایسی صورتِ حال میں علماء کا کردار، بطورِ فکری و دینی مرجع، بنیادی، حیاتی اور ناگزیر ہے۔ علماء کو نبوی معرفت کے وارث سمجھا جاتا ہے اور ان پر یہ علمی و شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسلام کو ایک منظم فکری نظام، عدل، اخلاق اور عقل پر مبنی دین کے طور پر متعارف کرائیں۔ کیونکہ جب بھی دین کی علمی تشریح کمزور پڑتی ہے تو انتہا پسند دھاروں کے لیے زمین ہموار ہو جاتی ہے کہ وہ دین کو سطحی، جذباتی اور مسخ شدہ تفسیروں کے ذریعے یرغمال بنا کر اپنے سیاسی اور تشدد پسندانہ مقاصد کے لیے استعمال کریں۔
اسی لیے علماء کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے فکری اور ایمانی اعتماد کو اسلام کی حقیقی اور پاکیزہ تعبیر کے ساتھ ازسرِنو زندہ کریں، ایسی تعبیر جو عقلِ سلیم، رحمانی اسلام اور انسانی وقار سے مکمل ہم آہنگ ہو اور اُن اصولوں کے مطابق ہو جن پر قرآنِ عظیم الشان اور نبوی سنت نے زور دیا ہے۔
منہجی (میتھاڈولوجیکل) اعتبار سے علماء پر لازم ہے کہ وہ نوجوان نسل کی فہم اور فکری سطح کی ضروریات کے مطابق لسانی اور بیانی وسائل اختیار کریں۔ واضح تصورات، معاشرتی مثالوں اور قرآنی و عقلی دلائل کا منظم استعمال دین کو نعروں اور محض جذباتی کیفیت سے نکال کر ایک علمی طور پر قابلِ دفاع معنوی نظام کے طور پر مستحکم کرتا ہے۔ جب نوجوان یہ سمجھ لے کہ اسلام انسانی وقار، معاشرتی عدل، ذمہ دارانہ آزادی اور اخلاقی اقدار کا دین ہے، تو وہ فطری طور پر داعش کے تشدد پسند، انتہا پسند اور انسان دشمن بیانیے کے مقابل فکری تحفظ حاصل کر لے گا۔
علماء کی تیسری ذمہ داری اور بنیادی فریضہ یہ ہے کہ اُن افراد کے لیے علمی، اخلاقی اور معاشرتی طور پر واپسی کی راہ ہموار کریں جو اس گمراہ گروہ کے فریب میں آ گئے ہیں۔ داعش کے اکثر نچلے درجے کے ارکان اپنے قائدین کی طرح شعوری دشمنی یا سوچے سمجھے حساب کتاب کے تحت نہیں، بلکہ جہالت، جذباتی اشتعال اور منحرف دینی جذبات کے باعث اس گروہ میں شامل ہوئے۔ علماء کو واضح طور پر یہ پیغام عام کرنا چاہیے کہ اسلام توبہ، اصلاح اور انسان کی ازسرِنو تعمیر کا دین ہے، باطل راستے سے لوٹ آنا ممکن، قابلِ قدر اور انسانی عمل ہے، اور نجات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔
آخر میں اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ داعش کا مقابلہ محض ایک عسکری یا سکیورٹی جنگ نہیں بلکہ سب سے بڑھ کر یہ ایک علمی، ثقافتی اور تربیتی جدوجہد ہے۔ اس فکری جہاد کی پہلی صف میں علماء کھڑے ہیں۔ اگر وہ گہری بصیرت، معاصر اور علمی زبان، تحقیقی جرأت اور فعال معاشرتی موجودگی کے ساتھ میدان میں آئیں، تو وہ نوجوان نسل کو انتہا پسندی، تشدد اور تحریف کے جال سے بچا سکتے ہیں اور اسلام کی وہ حقیقی صورت، کہ اسلام عقلِ سلیم، رحمت اور انسانی وقار کا دین ہے، علمی اور قائل کرنے والے انداز میں معاشرے کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔

