داعش کا مالیاتی نظام؛ اسلامی معیشت سے واضح ٹکراؤ
تکفیری خارجی گروہ (داعش) نے اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر حقیقت میں ایک وحشیانہ اور بے رحم معاشی نظام پیش کیا، جس کا اسلام اور اس کی قدروں سے نہ کوئی روحانی، اخلاقی اور نہ ہی قانونی تعلق تھا۔ یہ گروہ، جو خود کو ’’اسلامی ریاست‘‘ کہلاتا تھا، دراصل عوام کو اذیت دینے، لوٹنے اور محتاج بنانے میں مصروف رہا۔ اس نے خطے کے غیر مستحکم حالات سے فائدہ اٹھا کر ایک غیر انسانی مالیاتی و معاشی نیٹ ورک قائم کیا، جو تشدد، استحصال اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر مبنی تھا، جبکہ اسلام عدل، رحمت اور امن کا دین ہے۔
داعش نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ گویا دینِ اسلام کی نمائندگی کر رہا ہے، اپنے لیے ایک مالیاتی نظام متعارف کرایا، حالانکہ اس کا معاشی و مالیاتی نظام اسلامی معاشی اصولوں سے کسی بھی پہلو سے مطابقت نہیں رکھتا تھا بلکہ حقیقت میں اسلامی معاشی نظام کے ساتھ بنیادی تضاد رکھتا تھا۔
داعش کے زیر تسلط علاقوں میں ٹیکس کا نظام صرف عوام پر دباؤ ڈالنے اور عسکری وسائل فراہم کرنے کا ذریعہ تھا۔ اس گروہ نے ظالمانہ اور غیر قانونی ٹیکس عائد کیے جیسے ’’جہاد‘‘، ’’تجارت‘‘ اور حتیٰ کہ ’’تعلیم‘‘ پر ٹیکس، جن کا عملاً کوئی شرعی جواز موجود نہ تھا۔ یہ ٹیکس صرف عوام کی معیشت کو تباہ کرنے اور انہیں جبری اطاعت پر مجبور کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس طرح کا مالیاتی رویہ نہ صرف ’’لا إکراه فی الدین‘‘ کے اصول سے متصادم تھا بلکہ ظالمانہ اور غیر اخلاقی ٹیکس پالیسیوں کی ایک بدترین مثال تھی، جس کا واحد مقصد عوام کا مسلسل استحصال تھا، حالانکہ اسلام ہمیشہ مالیاتی عدل، عوامی حقوق کے احترام اور ٹیکس کے معاملات میں جبر سے گریز کا حامی رہا ہے۔
مزید برآں، داعش نے بینکوں اور مالیاتی نظام پر قبضہ کر کے اپنے اثر و رسوخ کو معیشت کے میدان میں بھی پھیلا دیا۔ موصل اور رقہ کے بینک نہ صرف لوٹے گئے بلکہ انہیں دھونس، دھمکی اور مالیاتی کنٹرول کے آلات میں بدل دیا گیا۔ اس گروہ نے اپنے وفادار منیجروں کو مقرر کر کے تمام مالی لین دین اور حوالہ جات کو اپنی نگرانی میں لے لیا اور ان پر ایک مخصوص شرح ’’ٹیکس‘‘ کے نام پر وصول کی۔ یہ طریقہ کار شفافیت، عدل اور امانت داری جیسے اُن اصولوں کے بالکل برعکس تھا جو اسلامی معیشت میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دراصل ایک مافیائی مالیاتی نظام کی مثال تھی، جس کا واحد مقصد اپنے کارندوں کو مضبوط کرنا اور عوام کو کمزور بنانا تھا۔
سب سے بھیانک پہلو یہ تھا کہ داعش نے انسانوں کو تجارتی مال کے طور پر استعمال کیا۔ انسانی اسمگلنگ، جنسی غلامی اور عورتوں اور بچوں کی خرید و فروخت، داعش کے سیاہ بازاروں میں اس گروہ کی اخلاقی تباہی کی عکاسی کرتی تھی۔ داعش نے مذہبی اقلیتوں جیسے یزیدی خواتین اور دیگر ہزاروں عورتوں کو اغوا کیا اور انہیں غلامی کے بازاروں میں فروخت کیا۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی بدترین پامالی تھا بلکہ اسلام کے اُس بنیادی تصور کی بھی کھلی تحریف تھی، جو ’’انسانی کرامت کے تحفظ‘‘ پر زور دیتا ہے۔ اسلام میں انسانوں کی خرید و فروخت حرام ہے اور ایسے افعال کے لیے کسی قسم کی شرعی توجیہ موجود نہیں۔
اسی طرح، داعش نے قدرتی وسائل، خاص طور پر تیل سے غیر قانونی استفادہ کر کے ماحول کو تباہ کیا اور قومی دولت کو تخریب کار گروہوں کے حوالے کر دیا۔ یہ اس وقت ہو رہا تھا جب اسلام آنے والی نسلوں کے لیے وسائل کے تحفظ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے منصفانہ استعمال جیسے اصولوں پر زور دیتا ہے۔ لیکن داعش نے کسی اخلاقی یا دینی ذمہ داری کا لحاظ کیے بغیر عوامی وسائل کی لوٹ مار جاری رکھی اور تیل کو کالے(خفیہ) بازاروں میں فروخت کر کے خطے کی معیشت کو دباؤ میں رکھا۔
اس کے برعکس، اسلامی معاشی نظام عدل، شفافیت، امانت داری اور انسانی حقوق کے تحفظ پر قائم ہے۔ اسلام میں ظلم، غصب اور استحصال کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام ہر قسم کی غربت اور معاشی جبر کے خلاف ہے اور ہمیشہ توازن، خوشحالی اور سماجی تحفظ کے قیام کی کوشش کرتا ہے۔ داعش نے اپنی تمام کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف اسلام کی نمائندگی نہیں کی بلکہ اسلامی اصولوں سے کھلی دشمنی کی اور فکری و اخلاقی انحرافات کی ایک علامت بن گئی۔
لہٰذا یہ نہایت ضروری ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ان انحرافات کو بے نقاب کریں اور اُن دیگر گروہوں کو، جو داعش کی فکر سے ہم آہنگ ہیں، دینی مفاہیم کے غلط استعمال سے روکیں؛ کیونکہ اسلام رحمت، عدل اور بخشش کا دین ہے، نہ کہ تشدد، لوٹ مار اور غلامی کا، جیسا کہ داعش نے عملاً کیا۔

