Site icon المرصاد

داعش کے ظہور کا تاریخی اور فلسفیانہ مطالعہ؛ نظریے سے عمل تک! | دسویں قسط

خونریز اتحاد: اسلامی وحدت کے دعوؤں کے تناظر میں داعش کے فرقہ وارانہ انحرافات کا تجزیہ
اسلامی اتحاد دینِ اسلام کے بنیادی ستونوں میں شمار ہوتا ہے، جو چیلنجوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے باہمی اتحاد، اخوت اور یکجہتی پر زور دیتے ہوئے اسلامی معاشرے کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں بار بار اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور تفرقہ و اختلاف سے منع کیا گیا ہے۔

موجودہ دور میں بے شمار سیاسی، سماجی اور ثقافتی چیلنجوں کے باوجود مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہوچکی ہے۔ اتحاد نہ صرف ایک دینی اصول کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی ایک ناگزیر ضرورت ہے، جو فتنوں اور دشمنوں کی سازشوں کے ظہور کو روک سکتا ہے۔ اسی لیے اسلامی وحدت کے حقیقی مفہوم کو سمجھنا آج کے اہم مسائل میں سے ایک ہے جس پر سنجیدہ توجہ درکار ہے۔

بدقسمتی سے داعش جیسے خوارج اور دیگر تکفیری گروہوں نے، جو بظاہر امتِ مسلمہ کے اتحاد کا دعویٰ کرتے ہیں، عملی طور پر عالمِ اسلام کے اتحاد اور ہم آہنگی کو سب سے بڑا دھچکا پہنچایا۔ انہوں نے نہ صرف قرآن کے اس حکم ’’وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا‘‘ کو نظرانداز کیا بلکہ الٰہی تعلیمات اور اسلامی اصولوں کو مسخ کرتے ہوئے ’’اتحاد‘‘ کے نام پر اپنا اسلام دشمن منصوبہ نافذ کیا۔

یہ تکفیری گروہ، جو اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں ایک آلہ بن چکے تھے، انہوں نے مذہبی مفاہیم میں ایسی غلط فہمیاں پیدا کیں کہ اسلامی اصول تک پامال کر ڈالے۔ انہوں نے اپنے گمراہ کن پروپیگنڈے سے امتِ مسلمہ کو اندرونی طور پر کمزور کیا۔ داعش اور اس سے وابستہ گروہوں نے ’’اسلامی خلافت کے سائے تلے اتحاد‘‘ کا نعرہ لگا کر درحقیقت مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور نفاق کو ہوا دی اور اسلام کو مغرب کے سامنے ایک بھیانک چہرے کے ساتھ پیش کیا۔

قرآنِ مجید میں ’’امت‘‘ کا تصور تمام مسلمانوں کے لیے، مذہبی، ثقافتی یا نسلی تفریق کے بغیر استعمال ہوا ہے۔ اسلام وہ دین ہے جو امت کے اتحاد پر زور دیتا ہے۔ سورہ آل عمران میں ارشاد ہے:
’’إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ‘‘
مگر داعش نے اس الٰہی تصور کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو اپنی داعشی جماعت کی حدود تک محدود کر دیا۔

اس تکفیری گروہ کے رہنماؤں اور افراد کے نزدیک صرف وہی لوگ ’’سچے مسلمان‘‘ سمجھے جاتے تھے جو ان کے نظریے سے مکمل اتفاق کرتے، جبکہ باقی سب کو ’’مرتد‘‘ یا ’’امت کے دشمن‘‘ قرار دیا جاتا تھا۔ حالانکہ اسلام نے ہمیشہ ’’اسلامی اخوت‘‘ پر زور دیا ہے اور ’’اختلاف کے باوجود اتحاد‘‘ کو ایک فطری حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

داعش کی فکر کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کے درمیان مصنوعی طبقات پیدا کیے۔ یہ تباہ کن گروہ اس عقیدے پر قائم تھا کہ صرف اس کے افراد و متعلقین ہی اسلام کے حقیقی پیروکار ہیں، اور جو کوئی بھی ان کی انتہاپسند سوچ سے اتفاق نہ کرے وہ محرومی بلکہ موت کا سزاوار ہے۔

ایسا تعصب قرآن کے اس اصول کے سراسر منافی ہے:
’’إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَاكُمْ”
اسلام میں کسی شخص کی حیثیت تقویٰ اور اخلاقیات سے متعین ہوتی ہے، نہ کہ کسی تکفیری گروہ کے ساتھ وفاداری سے۔ اس رویے کے ذریعے داعش نے نہ صرف اسلامی اقدار کو چیلنج کیا بلکہ امتیازی نظام قائم کر کے امتِ مسلمہ کے دلوں میں نفاق کے بیج بو دیے۔

Exit mobile version