خونریز اتحاد؛ اسلامی وحدت کے دعوؤں کی روشنی میں داعش کے فرقہ وارانہ انحرافات کا تجزیہ
گذشتہ بحث کا تسلسل:
اسلام میں فقہی اختلافات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں اور یہ دین کی وسعت اور لچک کی علامت ہیں۔ اسلام نے تمام فقہی مذاہب اور فروعی اختلافات کی اجازت دی ہے اور مسلمانوں سے یہ تقاضا کیا ہے کہ وہ فروعی اختلافات کے باودجود باہمی احترام ساتھ مل جل کر زندگی گزاریں۔ لیکن داعش نے ان اختلافات کو تکفیر، قتل و غارت اور ظلم کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کیا۔
اسلام نے ’’اجماع‘‘ اور ’’اجتہاد‘‘ کو اختلافات کے حل کے ذرائع کے طور پر متعارف کرایا ہے، مگر داعش نے ان دونوں اصولوں کو رد کر کے خود کو دین کے بارے میں واحد فیصلہ کن مقتدر کے طور پر پیش کیا۔ یہ رویہ اس اسلامی روح سے مکمل انحراف ہے جس نے ہمیشہ اس اصول پر زور دیا ہے کہ: ’’الشُّرَعَاءُ إِخْوَةٌ فِي الدِّينِ‘‘ (تمام مذاہب کے پیروکار دین میں بھائی ہیں)۔
اس جماعت اور اس کے پیروکاروں نے قرآنِ عظیم کی ان آیات کو جو اتحاد کی تعلیم دیتی ہیں، اپنے گمراہ کن مقاصد کے لیے غلط استعمال کیا۔ انہوں نے آیتِ کریمہ:
’’وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘
ترجمہ: اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔
کو ہر قسم کے اختلاف کو کچلنے کا بہانہ بنایا۔
حالانکہ عظیم اسلامی مفسرین، بالخصوص امام فخرالدین رازی رحمہ اللہ، ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ’’وحدت‘‘ کا مطلب ایک ہی فکر یا ایک ہی فقہی رائے اختیار کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب اختلافات کے باوجود پرامن بقائے باہمی ہے۔ داعش نے اس مفہوم کو سراسر مسخ کر دیا۔
ان کے اس انحرافی رویے نے نہ صرف اسلام کو مغربی دنیا کے سامنے مسخ شدہ اور بدصورت بنا کر پیش کیا ہے بلکہ بے شمار سادہ لوح مسلمانوں کو بھی اسلام کے بارے میں شک اور بدگمانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ داعش اپنے پروپیگنڈے میں مسلسل ’’اسلامی خلافت‘‘ اور ’’اسلامی امت کے دشمنوں‘‘ کا ذکر کرتی رہی، مگر عملی طور پر اس نے سب سے زیادہ خونِ مسلم کو بہایا۔ بین الاقوامی اداروں کی جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس گروہ کے 80 فیصد سے زائد شکار خود مسلمان تھے۔ حالانکہ اسلامی تاریخ میں، خانہ جنگیوں کے دوران بھی مسلمانوں کی جان کی حرمت ہمیشہ ملحوظ رکھی گئی ہے۔ لیکن داعش نے ان اصولوں کو یکسر پامال کیا اور سطحی تاویلات کی آڑ میں معصوم مسلمانوں کی جان لینا معمول بنا لیا۔
سماجی سطح پر، داعش کی تکفیری جماعت نے مختلف قومیتوں اور مذاہب کے درمیان تقسیم پیدا کر کے معاشرے میں تفرقے کا بیج بویا۔ انہوں نے بین المذاہب شادیوں پر پابندی لگائی، سماجی روابط کو محدود کیا، اور بعض علاقوں میں مختلف فرقوں کے لیے علیحدہ مقامات تک قائم کیے۔ حالانکہ اسلام مختلف تہذیبوں اور قومیتوں کے یکجا ہونے کا خیر مقدم کرتا ہے۔
ان پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کے درمیان بداعتمادی اور خوف کی فضا پیدا ہوئی۔ بے شمار خاندان اس خوف سے کہ کہیں ارتداد کا الزام نہ لگ جائے، اپنے پڑوسیوں سے گفتگو کرنے سے بھی کترانے لگے۔ یہ صورتحال اس مثالی اسلامی معاشرے کی تصویر کے بالکل برعکس ہے، جو محبت اور اخوت پر استوار ہے۔
اس سارے منظرنامے کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ داعش اور اس سے منسلک گروہوں نے نہ صرف امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے کوئی خدمت انجام نہیں دی بلکہ تفرقہ پیدا کر کے اسلام دشمن قوتوں کی مداخلت کے دروازے کھول دیے۔ داعش نے اسلام کو تحریف کا شکار بنایا اور تکفیر، تشدد اور خوف جیسے ہتھیاروں کے ذریعے اسلامی معاشرے کو اندر سے کمزور کیا۔
اصل نکتہ یہ ہے کہ آج ہمیں سب سے بڑھ کر اس امر کی ضرورت ہے کہ قرآنِ عظیم اور سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اسلامی وحدت کے حقیقی مفہوم کو ازسرِنو متعارف کروایا جائے۔ وہ وحدت جو یکساں فکر یا رائے رکھنے کا نام نہیں، بلکہ باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ اسلام عدل، رحمت اور اخوت کا دین ہے، نہ کہ وہ تشدد، تکفیر اور تفرقہ جو داعش نے پیدا کیا۔

