داعش کی تکفیری جماعت کی فکری منطق اور زاویۂ نظر میں انسان کو نہ تو ایک مقدس مخلوق سمجھا جاتا تھا اور نہ ہی اسے خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی ’’اشرف المخلوقات‘‘ کے مقام کا حق دار مانا جاتا تھا، جس پر قرآنِ عظیم الشان نے واضح طور پر زور دیا ہے۔ اس کے برعکس، اس خارجی تکفیری نظام میں انسان محض ایک ایسا آلہ تھا جسے صرف اپنے قائدین کی طاقت اور اقتدار مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
داعش کے زیرِ نگین علاقوں میں جو اسلامی اور انسانی قدروں کے منافی جرائم سرزد ہوئے، وہ صرف عام تشدد نہیں تھے؛ بلکہ ایک سوچے سمجھے اور مربوط منصوبے کا حصہ تھے۔ ایسا منصوبہ جو نہایت چالاکی سے بنایا گیا تھا اور جس میں مغربی اسلام دشمن حلقوں کی معاونت شامل تھی، تاکہ انسان کی شخصیت اور اس کی شناخت کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
داعش نے نفسیاتی اور ثقافتی طریقوں سے، جو اسے مغربی مشیروں اور استعماری قوتوں سے حاصل ہوئے تھے، لوگوں کو ان کی تہذیبی اور تاریخی جڑوں سے کاٹنے کی کوشش کی، ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ انسانوں کے نام مٹا کر انہیں صرف نمبروں میں تبدیل کر دیا جائے۔ قیدی، عورتیں، بچے؛ سب کو بلا تفریق نمبروں کے ذریعے شناخت دی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ قدیم تاریخی شہروں کے بھی نئے نام رکھ دیے گئے۔ یہ وہ ابتدائی اقدامات تھے جن کا مقصد انسان کو اس کی فطری شناخت سے محروم کرنا تھا —وہ شناخت جسے قرآنِ کریم نے اشرف المخلوقات اور فرشتوں کی سجدہگاہ قرار دیا ہے— اور اسے اپنی سرزمین سے وابستگی اور اپنے ماضی سے تاریخی تعلق کے احساس سے جدا کرنا تھا۔
داعش انسان کے مقدس وقار کی بھی کوئی قدر نہیں کرتی تھی۔ وہ لوگوں کو قتل کرتی، ان کی لاشوں کو سرِبازار لٹکاتی اور کٹے ہوئے اعضاء کو ’’پیغام‘‘ کے طور پر استعمال کرتی تھی۔ اس رویے کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ’’تم اپنی جان کے مالک نہیں ہو، اصل مالک اور حاکم ہم ہیں۔‘‘ یہ اسلامی اصولوں اور انسانی اقدار کی کھلی توہین تھی، کیونکہ اسلام انسان کے جسم کو حرمت دیتا ہے اور حتیٰ کہ مقتول کے جسد کو بھی قابلِ احترام سمجھتا ہے۔
وقت اور تاریخ بھی داعش کے ہاتھ میں ایک کھیل بن گئے تھے۔ انہوں نے اپنی الگ تقویم تیار کی، تاریخی آثار مسمار کیے اور ہر وقت ’’آخرالزمان‘‘ کی باتیں کرتے رہتے۔ مقصد یہ تھا کہ انسان کو ماضی کے سہارا دینے والے ستون سے محروم کیا جائے اور اس کے مستقبل کی امید بھی چھین لی جائے؛ تاکہ وہ صرف داعش کے وقتی احکام کے مطابق سوچے اور جئے۔ یہ ثقافتی جنگ کی وہ شکل تھی جس میں ماضی، حال اور مستقبل تینوں کو ایک فاسد نظام کے تسلط میں لایا جا رہا تھا۔
داعش کا ایک اور پہلو غلامی کو دوبارہ زندہ کرنا تھا۔ وہ عورتوں اور بچوں کو بازاروں میں بیچتے، اُن کی قیمتیں مقرر کرتے اور انسانوں کی خریدوفروخت کے لیے رسیدیں تک جاری کرتے۔ داعشی سوچ کے مطابق انسان کوئی باعزت وجود نہیں بلکہ خرید و فروخت کی ایک شے ہے۔
عام مقامات داعش کے دور میں مستقل خوف کے مناظر بن گئے۔ وہ میدان جو پہلے خوشی، میل جول اور اجتماع کا مرکز ہوتے تھے، سزائے موت کے چوراہوں میں بدل دیے گئے۔ اسکول جیلوں کا روپ دھار گئے اور گلی کوچے ہر لمحہ پھانسی کے سائے تلے لرزاں رہتے۔ اس مسموم فضا میں تشدد روزمرہ معمول بن گیا اور لوگ خوشی کے بجائے خوف کے ساتھ جینے پر مجبور ہو گئے۔
داعش کے یہ تمام اقدامات اتفاقی نہیں تھے۔ وہ ایک منظم منصوبے کے تحت انسانیت اور انسانی حرمت کے مفہوم کو بدلنے کی کوشش کر رہے تھے؛ یوں ظاہر کرتے کہ عزت و وقار صرف انہی کا حق ہے اور باقی انسانوں کا وجود ہی بےمعنی ہے۔ یہ اسلام کی حقیقی روح سے کھلی بغاوت ہے، کیونکہ اسلام ہر انسان کو قدر و منزلت دیتا ہے اور کسی انسان کو دوسرے انسان کی ملکیت نہیں سمجھتا۔
اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ انسانی وقار ہمیشہ خطرے میں ہے۔ داعش کی تکفیری جماعت پروپیگنڈے اور تشدد کے ذریعے انسان کو اس کی شناخت اور انسانیت سے کاٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسی خباثت پر مبنی اور شیطانی نظریات کے خلاف جدوجہد ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ جنگ فکری اور تہذیبی ہے اور اس کا مقابلہ صرف بصیرت، علم اور آگاہی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

