داعش اور خوارج کے افکار کا موازنہ: تکفیر، تشدد اور اسلام مخالف انحرافات کا تجزیہ ٰ
داعش، جو ایک تباہ کن اور تکفیری گروہ ہے، پہلی ہجری صدی کے خوارج کے افکار کی ایک نئی شکل ہے۔ دونوں تحریکیں اسلامی تصورات کی غلط تعبیر کے ذریعے، خاص طور پر مسلمانوں کی تکفیر اور فرقہ وارانہ تشدد کو جواز فراہم کرنے کے ذریعے، اسلام کے اصلی چہرے کا ایک مسخ شدہ تصویر پیش کرتی ہیں۔ یہ مضمون دونوں گروہوں کا جائزہ تین محوروں یعنی تکفیر، تشدد اور مقدس اسلامی تعلیمات سے انحراف کے تناظر میں لیتا ہے۔
تکفیر کے حوالے سے:
خوارج نے جنگ صفین کے بعد، "لا حکم الا لله” (حکم صرف اللہ کا ہے) کے نعرے کے تحت، نہ صرف چوتھے اسلامی خلیفہ کو کافر قرار دیا بلکہ ہر اس شخص کو کافر اور قتل کے قابل سمجھا جو ان سے اختلاف کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی متشدد اور ظاہری تفسیر کے ساتھ، ہر اس مسلمان کو کافر سمجھا جو کوئی بڑا گناہ کرتا تھا۔ یہ نظریہ "بڑے گناہوں کے ارتکاب کا نظریہ” کے نام سے مشہور ہوا۔ داعش نے بھی اسی منطق کے تحت، ہر اس مسلمان کو، چاہے وہ شیعہ ہو یا اہل سنت، جو ان کے ہم خیال نہ تھا، کافر قرار دیا اور ان کا قتل جائز سمجھا۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں گروہوں نے تکفیر کو مخالفین کے جسمانی وجود کو ختم کرنے کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
تشدد کے دائرے میں:
خوارج اسلامی تاریخ میں پہلا گروہ تھا جس نے دوسرے مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد کا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کیا۔ انہوں نے نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ عورتوں، بچوں اور عام شہریوں کے قتل تک کو جائز سمجھا۔ داعش نے بھی اسی راستے کی پیروی کی اور اس نے خوفناک جرائم کیے، جیسے قیدیوں کے سر قلم کرنا، عورتوں کو لونڈی بنانا، اور عام شہریوں کے اجتماعی قتل۔ دونوں گروہوں نے جہاد کے آیات کی مسخ شدہ تفسیر سے فائدہ اٹھایا تاکہ اپنے تشدد کو جواز فراہم کریں، حالانکہ اصلی اسلام میں جنگ کے دوران عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے واضح اصول موجود ہیں۔
انحراف کے حوالے سے:
خوارج نے، اگرچہ قرآن مجید کی پیروی کا دعویٰ کیا، لیکن عملی طور پر اسلام کے بنیادی اصول جیسے رحمت، بصیرت اور رواداری کو نظر انداز کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: "وہ دین سے اس طرح نکلتے ہیں جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔” داعش نے بھی، اگرچہ شریعت کے نفاذ کا دعویٰ کیا، لیکن وہ اسلامی اخلاقی اصولوں کے سب سے بڑے ناقض ثابت ہوئے۔ دینی علماء کے قتل اور اسلامی تصورات کی تحریف نے یہ واضح کیا کہ یہ گروہ نہ صرف اسلام کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ اسلامی اقدار کا اصل دشمن ہے۔
نتیجہ:
خوارج اور داعش دونوں نے دینی نصوص کی مسخ شدہ تفسیر کے ذریعے نہ صرف اسلام کو نقصان پہنچایا بلکہ انسانیت کو بھی بڑا نقصان دیا۔ ان تاریخی شکلوں کی شناخت ہمیں اس بات میں مدد دیتی ہے کہ ہم ایسی انحرافی تحریکوں سے فکری طور پر مقابلہ کریں۔
داعش کے کلامی اور فقہی بنیادی ڈھانچوں پر تنقید:
۱: داعش اور جہاد کے تصور کی تحریف اور دہشت گردی کو جواز دینے کے لیے اس کا غلط استعمال
داعش نے اسلام میں جہاد کے مقدس تصور کی کھلی تحریف کی، نہ صرف اسلام کے ساتھ خیانت کی بلکہ اس الہی فریضے کی ایک بدصورت اور غیر انسانی تصویر پیش کی۔ جہاد، جو اسلام میں انصاف، مظلوم کی حمایت اور انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں پر مبنی ہے، اس تکفیری گروہ نے اسے بے گناہ لوگوں کے قتل، مخالفین کے دہشت گردانہ خاتمے اور وحشت پھیلانے کے ایک ہتھیار میں بدل دیا۔ یہ عظیم تحریف وہی طریقہ ہے جو خوارج نے اسلام کے ابتدائی دور میں اپنایا تھا، اور آج داعش ان کے فکری باقیات کے طور پر اسی انحرافی راستے پر گامزن ہے۔
اصلی اسلامی نصوص میں جہاد کے سخت شرائط اور پابندیاں ہیں جنہیں داعش جان بوجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔ معزز اسلام اپنے پیروکاروں کو جہاد اور باطل سے مقابلے کے دوران واضح طور پر کہتا ہے:
"لا تَغُلّوا وَلا تَغْدِرُوا وَلا تُمَثِّلُوا وَلا تَقْتُلُوا وَلِیداً”
زیادتی نہ کرو، خیانت نہ کرو، مثلہ نہ کرو اور بچوں کو نہ مارو۔
لیکن داعش نے ان تمام اسلامی اور انسانی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کے قتل کو آسان سمجھا اور فخر کے ساتھ ان جرائم کو نشر کیا۔ یہ وحشیانہ رویہ نہ صرف جہاد نہیں بلکہ تمام اسلامی معیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تمام مذاہب کے عظیم فقہاء نے جہاد کو صرف مخصوص شرائط اور جنگ کے اسلامی اخلاقیات کے سخت احترام کے ساتھ جائز قرار دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے زور دیا کہ جہاد صرف اسلامی سرزمین کے دفاع کے لیے یا عادل امام کے حکم سے جائز ہے۔ لیکن داعش، بغیر کسی شرعی جواز کے، خود کو دنیا کے ہر کونے میں جہاد کے نام پر قتل کرنے کا حق دار سمجھتی ہے۔ یہ وہی خوارج کی انحرافی فکر ہے جو خود کو اسلامی معاشرے میں ہر خلیفہ سے برتر سمجھتے تھے اور ہر اس شخص کو قتل کے قابل سمجھتے تھے جو ان سے اختلاف کرتا تھا۔
داعش قرآن کریم کی بعض آیات سے، جو اسلام کے ابتدائی دور کی جنگی حالات سے متعلق ہیں، غلط فائدہ اٹھا کر اپنے جرائم کو جواز دینا چاہتا ہے۔ لیکن اسلام کے اصلی علماء نے بارہا زور دیا کہ ان آیات کی تفسیر تاریخی سیاق و سباق اور اسلام کے عمومی اصولوں کے مطابق کی جانی چاہیے۔ بے گناہ انسانوں کا قتل، مقدس مقامات کی تباہی اور لوگوں میں خوف و دہشت پھیلانا (جو داعش اور خوارج کی اہم خصوصیات ہیں) کسی بھی اسلامی مکتب فکر میں قابل قبول نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ جنگ کے سخت حالات میں بھی، اسلام عام شہریوں کے قتل، عوامی مقامات کی تباہی اور جانوروں کو اذیت دینے کی ممانعت کرتا ہے۔
اس تکفیری اور انتہا پسند گروہ نے شریعت کے نفاذ کے دعوے کے ساتھ، حقیقت میں اسلام کے ساتھ سب سے بڑی خیانت کی ہے۔ وہ نہ مجتہد ہیں اور نہ دینی عالم، بلکہ ایک جاہل اور متعصب گروہ ہے جو چند کتابوں کے مطالعے کے بعد خود کو فتویٰ دینے کا اہل سمجھتا ہے۔ اہل سنت کے عظیم علماء اور دنیا کے بڑے مفتیوں نے بارہا زور دیا کہ داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے اعمال جرائم ہیں۔ جیسے خوارج اسلامی تاریخ میں منحرفین کے طور پر پہچانے گئے، اسی طرح داعش بھی موجودہ دور میں ایک انحرافی اور اسلام دشمن گروہ کے طور پر جانی جاتی ہے۔
نتیجہ:
ہمیں اس بات پر زور دینا چاہیے کہ اسلام میں اصلی جہاد وہ ہے جو حق اور انصاف کے دفاع کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ بے جا قتل و غارت اور زمین پر فتنہ پھیلانے کے لیے۔ داعش نے اس عظیم تصور کی تحریف کے ذریعے نہ صرف یہ کہ اسلام کی خدمت نہ کی بلکہ اسلام کے چہرے کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا۔ دنیا کے مسلمانوں کو چوکنا رہنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ تباہی اس خونخوار گروہ کا، خوارج کی طرح، مقدر ہے اور اصلی اسلام، جو رحمت اور انصاف کا دین ہے، کبھی بھی اس طرح کے وحشیانہ اعمال کی تائید نہیں کرتا۔

