داعش کے خلاف کلامی اور فقہی بنیادوں پر تنقید
۲: داعش کے خلافت کے دعوے پر تنقید اور اجماعِ امتِ مسلمہ سے اس کا تضاد
داعش کا خلافت کا دعویٰ موجودہ دور میں اسلامی تصورات میں سب سے بڑی تحریف تھا۔ یہ تکفیری گروہ، جو خود کو "دولت اسلامیہ” کہتا تھا، حقیقت میں قرونِ اولیٰ کے خوارج کی پیروی کرتا تھا، جو دینی نصوص اور تصورات کی منحرف تشریحات کے ذریعے مسلمانوں کا خون بہانا جائز سمجھتے تھے۔ فقہی اور تاریخی اصولوں اور مبادیات کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ داعش کے خلافت کے دعوے کا کوئی شرعی، عقلی یا منطقی جواز نہیں تھا اور یہ محض اس گروہ کے جرائم کو جواز فراہم کرنے کا ایک آلہ تھا۔
اہل سنت کی فقہ میں، جس کی پیروی کا داعش دعویٰ کرتی تھی اور کرتی ہے، خلافت کے منصب تک رسائی کے لیے انتہائی دقیق اور واضح شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ انصاف کی شرط، جو خلافت اسلامیہ کے مسلمہ اصولوں میں سے ایک ہے، تنہا ہی داعش کے دعوے کو باطل کرنے کے لیے کافی ہے۔ ایک ایسی جماعت جو عام شہریوں کے قتل، غلامی، مساجد اور مقدس مقامات کی تباہی، اور مخالفین پر تشدد میں ملوث تھی اور ہے، وہ اسلامی انصاف کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟ قدیم زمانوں سے لے کر اہل سنت کے عظیم علماء، جیسے ماوردی اور تفتازانی، نے عقیدے اور کلامی معاملات میں واضح کیا ہے کہ خلیفہ کو عادل ہونا چاہیے اور ظلم سے اجتناب کرنا چاہیے، جبکہ داعش نے اپنے بے مثال جرائم اور تشدد کے ذریعے اسلامی انصاف کے تمام اصول پامال کیے۔
اجماعِ امت مسلمہ کا معاملہ بھی داعش کے دعوے کی ایک اور بڑی کمزوری تھی۔ اسلامی تاریخ میں خلفاء ہمیشہ اہل حل و عقد کی بیعت کے ذریعے اقتدار تک پہنچتے تھے، لیکن داعش نے اہل حل و عقد کے طور پر کسے پیش کیا؟ ایک محدود اور خود ساختہ کونسل، جسے بڑے سلفی علماء نے بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہادی شخصیات جیسے ابو قتادہ فلسطینی نے بھی داعش کے خلافت کے دعوے کو مسترد کیا۔ اس کے برعکس، امت مسلمہ کا حقیقی اجماع الازہر کے علماء، عالم اسلام کے بڑے مفتیوں اور اسلامی حکومتوں پر مشتمل تھا، جنہوں نے داعش کو ایک تکفیری اور منحرف گروہ قرار دیا۔
عملی طور پر داعش کے اقدامات نے بھی یہ ثابت کیا کہ یہ گروہ خلافت اسلامیہ کے حقیقی تصور سے ذرا بھی مطابقت یا مشابہت نہیں رکھتا۔ اسلامی تاریخ میں خلافت ہمیشہ امت مسلمہ کے اتحاد کی علامت رہی ہے، لیکن داعش نے اپنے نظریات اور عقیدے کے مخالف مسلمانوں کی تکفیر کے ذریعے عالم اسلام میں سب سے بڑی تقسیم پیدا کی۔ دوسری طرف، خلافت کے لیے ایک مستحکم علاقے اور ایک فعال حکومتی نظام کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ داعش اپنے عروج کے دور میں بھی اپنے زیر کنٹرول علاقوں پر چند سال سے زیادہ حکومت نہ کر سکی۔
یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ اسلامی تاریخ کے حقیقی خلفاء ایک عظیم تہذیب کو ترقی یافتہ انتظامی اور عدالتی نظاموں کے ساتھ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ داعش اور ابتدائی خوارج کا موازنہ بھی بہت مفید ہے۔ جس طرح خوارج نے اسلام کے چوتھے خلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ک حکمیت قبول کرنے کی وجہ سے تکفیر کی، اسی طرح داعش نے بھی ہر اس شخص کو مرتد قرار دیا جو اس کے نظریات سے اختلاف کرتا تھا، اور اس عمل نے عالم گیر مسلم مزاحمت کو جنم دیا، جس نے داعش کو ایک تخریبی اور اسلامی اصولوں کے خلاف گروہ کے طور پر تسلیم کیا۔
آخر میں، اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ داعش نے خلافت کے جھوٹے دعوے کے ذریعے نہ صرف اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی، بلکہ اسلام کی ساکھ کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا۔ آج، حتیٰ کہ اس گروہ کے سابق حامیوں نے بھی اس کے انحرافات کا اعتراف کیا ہے۔
علمائے اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے انحرافات کو واضح کرنے کے ذریعے نوجوان مسلمانوں کے مخلصانہ جذبات کا نئے گروہوں کی جانب سے استحصال ہونےسے بچائیں۔ اسلام رحمت اور انصاف کا دین ہے، نہ کہ تشدد اور تکفیر کا، جیسا کہ داعش نے دعویٰ کیا۔

