داعش کا خونی معاشی نظام: ایک تکفیری گروہ کے مالی ڈھانچے کا جائزہ
داعش نے لوٹ مار پر مبنی ایک معاشی ڈھانچہ تشکیل دے کر غیر انسانی مالی نظام کی ایک واضح مثال پیش کی۔ یہ تکفیری گروہ جو خود کو اسلام کا محافظ سمجھتا تھا، عملاً غیر قانونی سرگرمیوں کا ایک وسیع جال بچھا چکا تھا اور ایسے مالیاتی ڈھانچے قائم کیے تھے جو ہر اسلامی اور انسانی قدر کے سراسر خلاف تھے۔
اپنی طاقت کے عروج پر داعش نے عراق اور شام کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لیا اور خطے کی ایک بڑی اسمگلر بن گئی۔ یہ گروہ روزانہ ہزاروں بیرل تیل نکالتا اور خٖفیہ بازار(Black Market) میں فروخت کرتا۔ حیرت انگیز امر یہ تھا کہ اس اسمگل شدہ تیل کا ایک حصہ انہی ریاستوں کو فروخت کیا جاتا جن کے ساتھ داعش بظاہر حالتِ جنگ میں تھی۔ یہ کھلا تضاد ظاہر کرتا ہے کہ اس تکفیری گروہ کے رہنماؤں کے نزدیک نظریہ محض مالی مفادات کے لیے ایک پردہ تھا۔
داعش کی آمدنی کا دوسرا بڑا ذریعہ زیرِ قبضہ شہروں کے بینکوں اور مالی اداروں پر حملے تھے۔ موصل جیسے بڑے شہروں پر قبضے کے دوران اس گروہ نے تیزی سے بینکوں کی دولت لوٹ لی، اور یہ رقوم فوراً ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کی خرید پر خرچ کیں تاکہ دہشت اور تشدد کا سلسلہ جاری رہ سکے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ داعش کسی اسلامی ریاست کی بجائے ایک منظم مالی و عسکری مافیا تھی۔
داعش کا ایک اور اقدام جس نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا، تاریخی و ثقافتی نوادرات کی تباہی اور فروخت تھا۔ یہ گروہ میوزیمز اور آثارِ قدیمہ پر حملے کرتا، قیمتی نوادرات یا تو برباد کردیتا یا انہیں بھاری قیمتوں پر بین الاقوامی دلالوں کو فروخت کرتا۔ یہ ثقافتی جرم نہ صرف انسانیت کے ورثے پر حملہ تھا بلکہ اس بات کا ثبوت بھی کہ داعش کے لیے دولت اور طاقت کے سوا کوئی قدر نہیں تھی۔
زیرِ تسلط علاقوں میں داعش آمدنی کے حصول کے لیے کسی ذریعے سے پیچھے نہیں ہٹتی تھی۔ غریب عوام پر بھاری ٹیکس لگانا، تاوان کے لیے اغوا کرنا اور حتیٰ کہ خواتین و بچیوں کو جنسی غلاموں کے طور پر بیچنا بھی شامل تھا۔ یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ایک گروہ اسلام کے نام پر مکمل طور پر اسلامی اور انسانی اقدار کے خلاف عمل کر سکتا ہے۔
لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ایسا معیشتی ڈھانچہ کئی سال کیسے قائم رہا؟ اس کا جواب عالمی برادری کی خاموشی اور پوشیدہ حمایتوں میں تلاش کرنا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ خطے کے کچھ ممالک براہِ راست یا بالواسطہ اس گروہ کی مدد کر رہے تھے۔ بینکاری نظام کے ذریعے رقوم کی منتقلی اور مقامی تاجروں کے ہاتھوں اسمگل شدہ تیل کی خرید و فروخت نے داعش کے مالیاتی نظام کو قائم رکھا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تباہ کن و تکفیری گروہوں کی معیشت دراصل خطے کے پیچیدہ سیاسی کھیل کا حصہ تھی۔
اس غیر انسانی مالی نظام کا جائزہ واضح کرتا ہے کہ داعش اسلامی ریاست نہیں تھی بلکہ ایک منظم جرائم پیشہ گروہ تھا جس کی ماہانہ آمدنی کروڑوں ڈالر تک پہنچتی تھی۔ یہ ہر موقع سے دولت کمانے کے لیے فائدہ اٹھاتے، محصور عوام کو پانی اور بجلی بیچنے سے لے کر انسانی اعضا کی تجارت تک، ایسی لعنت کے خلاف مؤثر جدوجہد کے لیے عالمی عزم ضروری ہے، جس سے نہ صرف اس کے مالی وسائل کاٹ دیے جائیں بلکہ اس کے فکری و سیاسی بنیادیں بھی ختم کی جائیں۔
یہ تلخ تجربہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کس طرح ایک گروہ دین کے لبادے میں سب سے سفاک مالی و انسانی جرائم انجام دیتا ہے اور معصوم عوام کی دولت لوٹ لیتا ہے۔

