Site icon المرصاد

داعش یا آئی ایس آئی کا مہرہ؟

شیطانی فوج اور اس کے شیطانی کرتوت۔ ویسے تو پاکستانی فوجی رجیم ابتدا ہی سے اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جفا اور خیانت کی بنیاد پر قائم ہوئی، اور یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں علمائے کرام کی شہادتوں کے ساتھ یہ شیطانی چہرہ پہلے سے کہیں زیادہ بے نقاب ہو گیا ہے، یہاں تک کہ ہر صاحبِ شعور اور آزاد فکر رکھنے والا شخص اس کے فریب اور سازشوں کو سمجھنے لگا ہے۔

چند روز قبل پانچ مئی ۲۰۲۶ء بمطابق ۱۸ ذوالقعدہ ۱۴۴۷ھ کو اس نے علمائے دین کے لشکر سے ایک اور عالم، شیخ ادریس رحمہ اللہ کو شہید کر دیا۔ اس ظالم اور جابر رجیم کا یہ ظلم اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستان کے حقانی علماء اور عوام اپنے وجود، دین، وطن اور لاپتہ بچوں کے دفاع، آزادی اور بقا کے لیے خود میدان میں نہیں اتریں گے۔ پاکستانی فوج اور مختلف حکومتیں وقتاً فوقتاً اسلام کے نام اور مذہبی امور کو اپنے ظالمانہ نظام کی بقا کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں، اور اس حالیہ حملے میں بھی بعض شواہد کی بنیاد پر یہی مذموم مقصد کارفرما دکھائی دیتا ہے۔

شیخ ادریس رحمہ اللہ کی شہادت کے چند گھنٹے بعد داعش کے شیطانی لشکر نے ایک بیان جاری کیا کہ ہم نے شیخ ادریس رحمہ اللہ کو افغانستان کی سرحد کے قریب قتل کیا ہے۔ آج فنِ بیان کے علوم و ذرائعِ ابلاغ پہلے سے کہیں زیادہ ترقی کر چکے ہیں اور انسان بھی پہلے سے زیادہ باخبر اور باشعور ہیں، کیونکہ یہ وہ دور ہے جس میں مصنوعی ذہانت تک وجود میں آ چکی ہے۔ لیکن پاکستانی فوجی رجیم اور اس کی خفیہ ایجنسیاں اس قدر احمق اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کہ انہیں اپنے بیانات اور الفاظ کے انتخاب تک کا شعور نہیں رہا کہ کون سی بات کب، کیسے اور کیوں کہنی چاہیے۔

ان کی اس حماقت والے قرائن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیخ صاحب رحمہ اللہ کو داعش نے نہیں بلکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی (ISI) اور فوجی حکام نے نشانہ بنایا، جبکہ داعش کو محض ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

پاکستانی فوجی رجیم اور خفیہ ایجنسی ایک طرف داعش کی پالنے پوسنے، تربیت دینے، محفوظ رکھنے اور ان سے روابط کے الزامات سے خود کو بری ظاہر کرنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری طرف امارت اسلامیہ افغانستان پر داعش کی سرپرستی اور تعاون کا الزام ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس طرح وہ پاکستان کے مسلمان عوام کو افغانستان کے اسلامی نظام سے بدظن کرنا چاہتے ہیں، اور ساتھ ہی اپنے بیرونی سرپرستوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ داعش کے مقابلے کے لیے انہیں مزید مالی اور عسکری مدد کی ضرورت ہے، تاکہ اپنے کمزور اور سڑتے ہوئے نظام کو کچھ عرصہ مزید سہارا دے سکیں۔

داعش کے نام سے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی یہ دعویٰ اس طرح کے الفاظ میں کرتی ہے: “ہم نے افغانستان کی سرحد کے قریب”۔ یہ الفاظ قابلِ توجہ ہیں۔ “ہم”، “افغانستان کی سرحد” اور “قریب”۔ ہم یعنی داعش “افغانستان کی سرحد کے قریب” مطلب داعش کی پرورش و تربیت اور خاص طور پر شیخ صاحب کی شہادت کا الزام افغان حکومت پر تھوپنے کے لیے۔ اس طرزِ بیان کے ذریعے ایک طرف کارروائی کو داعش سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف افغانستان کو بالواسطہ طور پر اس واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ پاکستان کے عوام کو افغان حکومت کے خلاف بدگمان کیا جا سکے اور عالمی سطح پر یہ تاثر دیا جائے کہ داعش کا خطرہ اب بھی افغانستان سے ابھر رہا ہے۔

لیکن پاکستان کے مسلمان عوام اور حقانی علمائے کرام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ امارت اسلامیہ افغانستان نے داعش کو ابتدا ہی میں پہچان لیا تھا۔ اسی طرح شیخ صاحب کی شہادت کے مقام چارسدہ اور فرضی سرحد کے درمیان فاصلے کو بھی ہر شخص جانتا ہے۔ دنیا بھی ٹیکنالوجی کے ذریعے چند لمحوں میں معلوم کر سکتی ہے کہ چارسدہ اور فرضی سرحد کے درمیان تقریباً ۱۲۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ داعش کی زبان بھی آئی ایس آئی کے کنٹرول میں ہے اور اس کی بندوق بھی جس طرف چاہیں وہ گھما لیتے ہیں۔
۔
لہٰذا پاکستان کی بوکھلائی ہوئی احمق فوج اور خفیہ ایجنسیاں ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی ہیں، لیکن اللہ جل جلالہ نے قرآنِ کریم میں ایسے لوگوں کی حقیقت یوں بیان فرمائی ہے:

*﴿مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ ٱلَّذِى ٱسْتَوْقَدَ نَارًۭا فَلَمَّآ أَضَآءَتْ مَا حَوْلَهُۥ ذَهَبَ ٱللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِى ظُلُمَٰتٍۢ لَّا يُبْصِرُونَ﴾ [البقرۃ: 17]*
ترجمہ: ان (منافقوں) کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی، پھر جب اُس آگ نے اردگرد کو روشن کر دیا تو اللہ نے اُن کی روشنی (بینائی) چھین لی اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا، جہاں وہ کچھ نہیں دیکھتے۔

Exit mobile version