داعشی خوارج نے اپنے وجود کے اولین لمحات سے لے کر آج تک ہمیشہ دنیا اور آخرت کی فلاح و کامیابی کے نعرے بلند کیے۔ ان کے قائدین سے لے کر ادنیٰ درجے کے ارکان تک، جو چمکدار اور فریب دینے والی پروپیگنڈہ ویڈیوز میں نظر آتے تھے، سب امت مسلمہ کی دنیا اور آخرت کی فلاح کی باتیں کرتے رہے، مگر یہ سب محض دعوے تھے، عمل نہیں۔
ہاں! اگرچہ داعشی خوارج نے میٹھی، دل لبھانے والی اور خیر خواہی سے بھرپور باتیں کیں اور خود کو اصلاح و بھلائی کے داعی ظاہر کیا، لیکن عملی طور پر انہوں نے بالکل الٹا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے نہ صرف امت کی دنیا کو ایسے کھنڈر میں بدل دیا جو رہنے کے قابل نہ رہی، بلکہ ان لوگوں کی آخرت بھی تباہ کر دی جو ان کے ساتھ جا ملے تھے۔
داعش نے جہاں بھی مسلم سرزمینوں پر قدم رکھا، خلافت کے قیام کے کھوکھلے دعووں اور دنیا سے جنگ کے اعلان کے نام پر، بہت جلد شہروں اور دیہات کو کھنڈرات میں بدل دیا اور مسلمانوں کے گھر اور آبادیاں ویران کر دیں۔ عراق اور شام کے متعدد شہر اس حقیقت کے زندہ گواہ ہیں؛ جیسے عراق کا موصل اور شام کا رقہ، جو اگرچہ داعش کے عذاب سے نجات پا چکے ہیں، لیکن آج بھی ان میں اس نفرت انگیز گروہ کی تباہ کاریوں کے آثار واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
شہروں کی بربادی اس المیے کا صرف ظاہری پہلو تھی۔ جس چیز نے داعش کو امت مسلمہ کے نزدیک مزید قابلِ نفرت اور مردود بنا دیا، وہ ان کا فاسد عقیدہ اور اسلامی مقدس احکام کی غلط، مسخ شدہ اور انتہاپسندانہ تشریحات تھیں۔ یہی وہ اسباب تھے جن کی بنا پر داعش نے نہ صرف امتِ مسلمہ کی دنیا برباد کی بلکہ ان کی آخرت پر بھی کوئی رحم نہ کیا۔
داعش نے منظم اور وسیع پروپیگنڈہ مہمات اور دینی شعائر کے غلط اور آلاتی استعمال کے ذریعے بہت سے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کیا اور ان کے جذبات کو بھرتی کے آلے کے طور پر استعمال کیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو جان بوجھ کر یا انجانے میں خوارج کے فتنہ کے جال میں پھنس گئے اور اپنی زندگیاں اس فتنہ کی آگ کو مزید بھڑکانے کے لیے ایندھن بنا بیٹھے
۔
داعشی خوارج نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیا کہ انہیں مسلمانوں کی دنیا اور آخرت کی فلاح سے کوئی سروکار نہیں۔ جہاں کہیں بھی اس گروہ نے قدم رکھا، وہاں امن و امان ختم ہو گیا، لوگوں کی روزی روٹی چھن گئی اور معمول کی زندگی ایک تلخ اور خوفناک خواب میں بدل گئی۔ وہ مسلمان جو کل تک اپنے گھروں میں سکون سے رہتے تھے، یا تو بے گھر ہو گئے یا داعش کے جھوٹے دعوؤں کے ملبے تلے دم توڑ گئے۔
لیکن المیہ یہیں ختم نہیں ہوا، انہی اعمال کے ذریعے داعش نے اپنے پیروکاروں کی آخرت کو بھی کھیل تماشا بنا دیا۔ وہ سادہ لوح نوجوان جو اللہ تعالیٰ جل جلالہ کی رضا، قربِ الٰہی اور جنت کی امید میں ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے، انہیں ایسے راستے پر دھکیل دیا گیا جو خونریزی، ظلم، زیادتی اور اللہ جل جلالہ کے بندوں کے حقوق پامال کرنے سے بھرا ہوا تھا، ایسا راستہ جس میں نہ عبادت کی خوشبو تھی اور نہ ہدایت کا نور دکھائی دیتا تھا۔
داعشی خوارج نے اسلام کے نام پر مسلمانوں کے قتل اور بے قاعدہ، بے رحمانہ تکفیر کے ذریعے نہ صرف امت کی دنیاوی زندگی کو تنگ کیا بلکہ اپنے پیروکاروں کے کندھوں پر بھاری اور ناقابلِ معافی گناہوں کا بوجھ بھی ڈال دیا۔ انہوں نے تعمیر کے بجائے تخریب کی اور ہدایت کے بجائے لوگوں کو ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔
آخرکار، داعش سے جو کچھ باقی بچا وہ نہ خلافت تھی اور نہ فلاح، بلکہ ایک جلی ہوئی دنیا اور ایک تباہ شدہ آخرت، ان لوگوں کے لیے جو ان کے چمکدار مگر فریب دینے والے نعروں کا شکار ہوئے۔ یہ ایک تلخ اور دردناک حقیقت ہے جس کی بھاری قیمت امت مسلمہ نے ادا کی۔

