Site icon المرصاد

دعووں سے عمل تک؛ خوارج العصر کے شرمناک افعال پر ایک نظر! تیسری قسط

بلا شبہ داعشی خوارج کے ناپاک وجود سے لے کر ان کی خیالی خلافت کی آخری سانسوں تک، اور حتیٰ کہ اب جب کہ وہ منتشر ہو چکے ہیں، ان کے سب سے مؤثر ہتھیاروں میں سے ایک میڈیا کی جنگ اور دلکش نعرے سمجھے جاتے ہیں۔

خوارج کے رہنماؤں اور کمانڈروں نے اپنی تمام تقریروں اور بیانات میں ایسی باتیں کیں کہ گویا وہ امت مسلمہ کے مظلوموں کے سچے مددگار ہیں اور ان کے قیام کا واحد مقصد مظلوموں کا دفاع ہے۔ یہ وہ نعرے تھے جو ان کے زیرِ تسلط علاقوں میں زمینی حقیقت سے زمین آسمان کا فرق رکھتے تھے۔

خوارج کی خود ساختہ خلافت کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے ایک چند منٹ کی ویڈیو میں عام مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں بظاہر خوبصورت الفاظ میں کہا تھا:

"اگر ہم آگے بڑھیں اور ہماری گردنیں ایک ایک کر کے کاٹ دی جائیں، تو یہ ہمیں ایک بے گناہ مسلمان کو قصداً قتل کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ ہم خدا کی قسم، انہی کے لیے نکلے ہیں اور ان کے خون، مال، اور عزت کے تحفظ کے لیے آئے ہیں۔ ہم ان سے محبت کرتے رہیں گے چاہے وہ ہم سے نفرت کریں، ہم ان کی مدد کرتے رہیں گے چاہے وہ ہمیں تنہا چھوڑ دیں، اور ہم ان کی زندگی چاہتے ہیں چاہے وہ ہمیں قتل کرنا چاہیں۔”

عدنانی نے اپنی ان باتوں میں اگرچہ داعش کی ناپاک تحریک کے قیام کی وجہ مظلوموں کا دفاع قرار دیا اور مسلمانوں کی حمایت پر زور دیا، خواہ وہ انہیں مسترد ہی کیوں نہ کریں، لیکن عمل میں اس نے ہر دوسرے کام سے زیادہ نہتے مسلمانوں کا خون بہانے میں مہارت دکھائی۔ وہ داعش کے تمام ارکان کی موت کو ایک بے گناہ مسلمان کے خون بہانے سے بہتر سمجھتا تھا، مگر حقیقت میں ان کے نزدیک سب سے بے وقعت چیز مسلمانوں کا خون تھا۔

خوارج کے زیرِ تسلط علاقوں میں زمینی حقیقت نے ان پرفریب نعروں کا ایک بالکل مختلف چہرہ پیش کیا۔ اس وقت شام اور عراق کے بہت سے شہروں اور دیہاتوں میں وہ مسلمان جو اس گروہ کی خیالی خلافت سے بیعت نہ کرنے کے سوا کوئی گناہ نہ رکھتے تھے، ان پر مخالفت کے جرم میں تکفیر اور ارتداد کا فتویٰ لگایا گیا اور نتیجتاً ان کے سر عوامی اجتماعات میں کاٹ دیے گئے۔

افغانستان میں بھی داعشی خوارج کے جرائم عراق اور شام سے کم نہ تھے۔ انہوں نے مساجد، دینی مدارس، جمعہ کے نمازوں، اور حتیٰ کہ ہسپتالوں اور صحت کے مراکز پر حملوں کے ذریعے اس گروہ کے مکروہ چہرے اور جھوٹے نعروں کو پہلے سے بھی زیادہ رسوا کر دیا۔

اس پوری مدت میں دسیوں، سینکڑوں، اور حتیٰ کہ ہزاروں مسلمان نوجوان اس گروہ کے باطل نظریات کے ساتھ عدم تعاون کے جرم میں انتہائی وحشیانہ طریقے سے قتل کر دیے گئے اور ان کی لاشیں صحراؤں اور پہاڑوں میں پھینک دی گئیں۔

بلا شبہ، داعشی خوارج کے خون ریز اور شرمناک افعال، اس گروہ کے فریب کار بیانات اور وحشیانہ اعمال کے درمیان واضح تضاد کے زندہ گواہ ہیں۔ یہ وہ گروہ ہے جو امت مسلمہ کے مظلوموں کے دفاع کے نام پر خود سب سے بڑے ظالموں میں تبدیل ہو گیا اور بے گناہوں کا خون بہا کر امت کے وجود پر ایسا گہرا زخم بلکہ ناسور چھوڑ گیا، جو تاریخ کبھی نہیں بھلا پائے گی اور یہ سیاہ داغ ہمیشہ ان کے ماتھے پر رہے گا۔

Exit mobile version