اسلامی تاریخ میں ہمیشہ ایسی گمراہ تحریکیں ابھری ہیں جنہوں نے دین کے نام پر ناجائز فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے خوبصورت نعرے بلند کیے، مگر عمل میں انہی نعروں کے خلاف چلے۔ قرونِ اولیٰ کے خوارج اس فریب کی واضح مثال ہیں، وہ لوگ جو قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ساتھیوں کا خون بہاتے تھے اور اسلام کے نام پر مسلمانوں پر تلواریں اٹھاتے تھے۔
آج ہمارے دور میں بھی داعشی خوارج کی جماعت اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ یہ گمراہ لوگ خود کو "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر” کے علم بردار کہتے ہیں، لیکن حقیقت میں معاصر تاریخ کے بدترین منکرات اور گھناؤنے جرائم انہی کے ہاتھوں سرزد ہوئے ہیں۔
داعش نے اپنی جھوٹی خلافت کے دور میں، اور حتیٰ کہ آج جب اس کا جسمانی وجود بہت محدود ہو چکا ہے، بارہا دعویٰ کیا کہ وہ شریعت کے نفاذ اور منکرات کی روک تھام کے لیے اٹھی ہے۔ لیکن اگر اس گروہ کے کارناموں پر نظر ڈالی جائے تو خونریزی، دھماکوں، لوٹ مار اور تباہی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ حالانکہ اسلام میں منکرات کی روک تھام حکمت، اخلاق اور انصاف کے ساتھ ہونی چاہیے۔ لیکن ان لوگوں نے دین کے نام پر ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی جانیں لیں، مساجد اور دینی مدارس کو تباہ کیا، خواتین اور بچوں کو بے گھر کیا، اور دنیا کے سامنے اسلام کے پاکیزہ چہرے کو بدنام کیا۔
بلا شبہ، پاکیزہ اسلام منکر کو شرک، ظلم، فساد اور خونریزی کی شکل میں جانتا ہے۔ لیکن داعش نے معیارات کو بدل کر مظلوم مسلمانوں کو نشانہ بنایا اور حتیٰ کہ ان مخلص مجاہدین کو مرتد قرار دیا جنہوں نے اپنی جان دین کی نصرت کے لیے قربان کی۔ یہ انحراف اور گمراہ کن تعریفات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ لوگ اپنے دعووں کے برعکس، قرآن مجید اور سنت کے روح سے محروم ہیں۔ انہوں نے دین کو صرف اقتدار کی ہوس اور دشمنوں کی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا۔
جس طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے دور میں خوارج نے "لا حکم إلا للہ” کے نعرے کے تحت امامِ برحق کے مقابلے میں صف آرائی کی، اسی طرح آج کے داعشی بھی "نہی عن المنکر” کے بہانے امت مسلمہ اور مجاہدین فی سبیل اللہ کے مقابلے میں صف آراء ہیں۔
بلاشبہ، ماضی اور موجودہ خوارج میں بہت سی مماثلتیں ہیں، جیسے کہ:
1. مسلمانوں کی تکفیر کرنا۔
2. بے گناہوں کا خون بہانا۔
3. دین کو دنیاوی مقاصد کے لیے استعمال کرنا۔
4. دین کے نام پر بدترین منکرات کا ارتکاب۔
ان بڑے منکرات میں جو داعشی خوارج نے کیے، درج ذیل شامل ہیں:
1. مساجد میں نمازیوں کا قتل۔
2. دینی علماء اور عوامی شخصیات کا قتل۔
3. قرآنی اور تعلیمی اجتماعات میں دھماکے۔
4. دشمنوں کے خفیہ ایجنڈوں کی تکمیل۔
نتیجتاً، پوری یقین دہانی کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ خوارج قرونِ اولیٰ کے خوارج کے اس ناپاک سلسلے کی توسیع ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دین کا لبادہ اوڑھا، مگر تلوار مسلمانوں کی گردن پر رکھی۔
انہوں نے نہ صرف منکرات کی روک تھام نہ کی، بلکہ خود منکرات اور فساد کا سرچشمہ بن گئے۔ امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ بیدار رہے اور یہ سمجھے کہ پاک اسلام کا راستہ قرآن مجید، سنت، اور مسلمانوں کے جماعت کا راستہ ہے، نہ کہ جاہل تندخو اور موجودہ دور کے خوارج کا راستہ۔

