خوارج کے بدنام زمانہ گروہ کے ظہور سے لے کر آج تک، ان کے اہم نعروں اور دعووں میں سے ایک الہی شریعت کے نفاذ کا نعرہ تھا؛ ایک ایسا نعرہ جو صرف ان کی باتوں میں سنا جاتا تھا، لیکن ان کے اعمال میں اس کی کوئی علامت نظر نہیں آتی تھی۔
خوارج کا گھٹیا اور ناپاک عمل شریعت کا قیام نہیں تھا، بلکہ شریعت کی توہین اور بے حرمتی تھی۔ اس فتنے کے علمبرداروں نے الہی احکام کی غلط تشریح، خود غرضانہ اطلاق اور مصلحت پسندانہ استعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حدود کو خوف، زور اور خونریزی کا ذریعہ بنا دیا تھا۔
اس نعرے کے پردے میں، داعشی خوارج نے بہت سے حرام خون کو اپنے لیے حلال سمجھا اور اسلامی شریعت کی غلط تشریحات کے مطابق اپنے زیر قبضہ علاقوں میں بے رحمانہ قتل عام کیا۔ انہوں نے بے شمار بے گناہ مسلمانوں کو بے بنیاد بہانوں کی بنا پر تلوار کی دھار کا شکار کر دیا۔
اسلامی شریعت کے نفاذ کے نعرے کے تحت، داعشی خوارج کو بہت سے مادی اور پراپیگنڈہ فوائد حاصل ہوئے۔ اسی سلسلے میں، ہم اس مضمون کے اس حصے میں ان کے جھوٹے دعووں اور شرمناک کارروائیوں کے چند اہم پہلوؤں کا جائزہ لیں گے:
*1. امت کے نوجوانوں کو گمراہی کی طرف راغب کرنا:*
داعشی خوارج نے شریعت کے نفاذ کے نعرے کے تحت، مختلف ممالک، خاص طور پر مغربی علاقوں کے نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کیا۔ یہ وہ نوجوان تھے جن سے امت کے روشن مستقبل کی امیدیں وابستہ تھیں، لیکن وہ اس فتنے کی گمراہی کا شکار ہو گئے۔
*2. اسلامی شریعت کو بدنام کرنا:*
اس منحرف گروہ نے شریعت کے نام اور احکام سے ناجائز فائدہ اٹھایا، اسلام کے مقدس احکام کو مسخ کیا اور کوشش کی کہ دنیا کی نظروں میں اسلام کا غلط تصور پیش کیا جائے۔ ان کی کارروائیاں الہی دین کی رحمت اور انصاف کے بجائے تشدد اور وحشت کا تصور پیش کرتی تھیں۔
*3. ظلم اور جرائم کو شریعت کے اطلاق کے نام پر جواز دینا:*
داعشی خوارج نے اپنے رہنماؤں اور اراکین کے تمام جرائم کو دینی رنگ کی چادر اوڑھائی اور اسے شریعت کا نفاذ قرار دیا۔ حالانکہ ان کے اعمال اور الہی شریعت کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہوتا تھا۔
حقیقت میں، داعش نے شریعت کے نام پر جو کچھ کیا، وہ دینی قوانین کو کھلم کھلا مسخ کرنا اور الہی عدل کی توہین تھی۔ داعشی خوارج نے شریعت کے نفاذ کے نعرے کے تحت اسلامی قانون کو سب سے شدید نقصان پہنچایا؛ انہوں نے نہ صرف اسلام دشمنوں کو مزید مضبوط کیا، بلکہ امت کے درمیان خوف، بے اعتمادی اور تقسیم بھی پیدا کی۔
آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ الہی قانون کے نفاذ کے جھوٹے دعوے کے ساتھ، داعشی خوارج نے نہ صرف اسلامی شریعت کے حصول کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا، بلکہ اپنی جہالت بھری تعبیروں اور غلط رویوں کے ذریعے اسلامی عدل کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے شعائر کے ناجائز استعمال سے امت کے سادہ لوح نوجوانوں کو دھوکہ دیا اور اسلام دشمنوں کی لوگوں کو اسلام سے خوفزدہ کرنے کی مہم میں مدد فراہم کی۔

