اسلام کی طویل تاریخ میں ایسے گروہ ابھرے ہیں، جنہوں نے دین کے غلط تعبیر اور گمراہ کن فہم کی وجہ سے اسلام کے رحمانی چہرے کو مسخ کر دیا اور امت مسلمہ کے درمیان تفرقہ اور فتنہ کا بیج بویا۔ یہ گروہ، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اسلام کے دشمنوں کے شیطانی مقاصد پورے کرنے کی کوششیں کرتے رہے اور امت کے اندر اختلاف، تشدد اور عدم اعتماد کا ماحول پیدا کیا۔
اسلام کی ابتدائی صدیوں میں اس فکری انحراف کی واضح مثال خوارج کا گروہ تھا؛ وہ لوگ جو ظاہری طور پر بہت متدین نظر آتے تھے، عبادتیں کرتے تھے، قرآن عظیم الشان پڑھتے تھے، مگر گہرے روحانی مفہوم سے محروم تھے۔ یہ نادانی اس بات کا سبب بنی کہ وہ دین کے لباس میں دین کے خلاف کھڑے ہو گئے اور ظاہری تقدس کے پیچھے فتنہ اور تشدد کا بیج بویا۔
موجودہ دور میں بھی اسی فکری انحراف کے دامن سے ایک اور گروہ نے جنم لیا، جس نے خود کو «داعش» کا نام دیا۔ یہ گروہ خوارج کی طرح خشک، سطحی اور تکفیری فکر سے بھرا ہوا تھا، جو امت مسلمہ کے خون بہانے، تباہی اور عدم استحکام کا اور ایسے سانحات کا سبب بنا جن کی گنتی کے لیے طویل عرصے کی ضرورت ہے۔
اس سلسلے میں، "دعووں سے عمل تک؛ خوارج العصر کے شرمناک افعال پر ایک نظر” کے مقالات کے تسلسل میں، ہم اس مذموم گروہ کے ایک دیرینا اور بار بار دہرائے جانے والے دعویٰ پر روشنی ڈالتے ہیں؛ ایک ایسا دعویٰ جو عمل سے خالی ہے اور خوارج کی اصلی نشانیوں میں شمار ہوتا ہے۔
داعشی خوارج نے اپنی ناپاک خلافت کے آغاز سے ہی، اپنے لیڈروں اور سرغنہ ارکان کی ویڈیوز اور آڈیو پیغامات میں ہمیشہ یہ دعویٰ کیا کہ گویا وہ امت کے تمام علماء سے زیادہ دینی مسائل سے واقف ہیں اور ان کے علماء امت کے دیگر علماء کے مقابلے میں اعلیٰ علم رکھتے ہیں۔
مگر اس دعوے اور حقیقت میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور یہی وجہ بنی کہ وہ امت کے اندر ان لوگوں کے طور پر پہچانے گئے جن کے عمل ان کی باتوں کے برخلاف ہیں؛ ایک ایسی بات جس نے ان کے اصلی چہرے کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح کر دیا۔
یہ غلط فکر خوارج کے فتنہ کے پھیلنے کا سبب بنی۔ انہوں نے دینی نعروں کے سایہ میں اور غلط فہم کی بنیاد پر، عام مسلمانوں اور خاص طور پر ربانی علماء کو بے جا بہانوں سے کافر قرار دیا اور اپنے گمراہ پیروکاروں کو علماء کی شہادت پر ابھارا۔
جی ہاں! علماء کی تکفیر اور ان کے قتل کا فتویٰ دے کر، داعشی خوارج ایک طرف تو اپنے مغربی آقاؤں کی چاپلوسی کرنا چاہتے تھے اور دوسری طرف حق کی آواز کو خاموش کرنا چاہتے تھے، وہی آواز جو درست استدلال، گہرے فہم اور حقیقی اسلامی بصیرت کی مدد سے خوارج کے چہرے سے نقاب اٹھاتی تھی اور ان کی اصلی حقیقت کو امت کے سامنے ظاہر کرتی تھی۔
حقیقت میں، علم اور معرفت کا دعویٰ داعشی خوارج کی طرف سے صرف ایک بہانہ تھا اپنے گہرے جہل کو چھپانے کے لیے۔ یہ وہ لوگ تھے جو خود کو قرآن عظیم الشان کے حافظ اور دین کے عالم سمجھتے تھے، مگر جیسا کہ اسلام کے مبارک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کے بارے میں فرمایا:
«یقرؤون القرآن لا یجاوز حناجرهم»
قرآن عظیم الشان پڑھتے ہیں، مگر وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھتا۔ (بخاری و مسلم)
یہ مبارک حدیث خوارج کی فکری اور روحانی حالت کا سب سے دقیق نقشہ پیش کرتی ہے؛ ایسے لوگ جو ظاہری طور پر دین کے رنگ میں رنگے ہیں، مگر باطن میں حقیقی فہم، تقویٰ اور الٰہی بصیرت سے خالی ہیں۔ انہوں نے قرآن عظیم الشان کو ہدایت اور عمل کی بجائے تحریف اور دھوکہ کا آلہ بنا لیا تھا۔ ان کی باتیں جہالت، تعصب اور خود غرضی سے بھری ہوئی تھیں، نہ کہ ایمان اور بصیرت کی روشنی سے۔
اس لیے، جہاں کہیں یہ گروہ ابھرا، تباہی، خونریزی، علماء سے دشمنی اور عقیدہ کے انحراف کی نشانیاں چھوڑیں۔ ہر شہر جو ان کے قبضے میں آیا، ان کا پہلا ہدف علم اور علماء کا خاتمہ تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حقیقی علم جہالت کا دشمن اور بیداری کی روشنی ہے۔
داعشی خوارج نے قرآن عظیم الشان اور سنت کی سطحی تفسیر سے فائدہ اٹھایا، ان مسلمانوں کو جو ان کے ساتھ شامل نہ ہوئے کافر قرار دیا اور ان کا قتل عبادت سمجھا۔ یہ رویہ نہ صرف اسلام کی پاکیزہ روح کا استہزاء تھا، بلکہ اس نے امت کی وحدت، ترقی اور عزت کے راستوں کو بھی بند کر دیا۔

