Site icon المرصاد

دنیا ایک نئے انقلاب کی جانب گامزن ہے!

امتِ مسلمہ کی نجات اور اسلام کے قیام کے لیے ایک اسلامی، خودمختار، آزاد اور غلامی کی زنجیروں سے آزاد نظامِ حکومت ناگزیر ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر خلافتِ عثمانیہ کے زوال تک مسلمانوں کے پاس ایک آزاد، خودمختار اور باوقار سیاسی نظام، حکومت اور قیادت موجود تھی، جس کے زیرِ سایہ تمام مسلمان ایک قائد و رہبر کی قیادت میں امن اور خوشحالی کی زندگی گزارتے تھے۔

اگر ہم تاریخی پس منظر کا جائزہ لیں اور رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے فلسفے پر غور کریں تو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا بنیادی مقصد ایک اسلامی حکومت کا قیام تھا، تاکہ مومنین اور صحابہ کرام کو ایک محفوظ مقام میسر آئے اور وہ ایک مضبوط نظام کے تحت اجتماعی زندگی گزار سکیں۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ایسے مرکز کی بنیاد رکھی جہاں مومنین پانچ وقت کی نماز کے لیے جمع ہوں اور اپنی اجتماعی و معاشرتی مشکلات کے حل کے لیے بھی ایک مجلس موجود ہو۔ بعد ازاں مسجد کی تعمیر کا آغاز ہوا۔

آپ ﷺ نے یہود کے ساتھ معاہدے کیے اور ان معاہدوں کو قریبی قبائل تک بھی وسعت دی، اور دعوتِ اسلام کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ پھر جہاد کی فرضیت کا حکم نازل ہوا اور مومنین کی یہ تحریک آگے بڑھی۔ نبی کریم ﷺ کی قیادت میں مسلمان سرکش کفار، مشرکین اور یہود کے مقابلے کے لیے مختلف علاقوں میں گئے، اور بالآخر ایک اسلامی حکومت قائم ہوئی۔ یہ سلسلہ خلافتِ عثمانیہ تک جاری رہا، لیکن مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور غفلت کے باعث وہ اس نعمت سے محروم ہو گئے۔

اسلامی حکومتوں کے زیرِ سایہ نہ صرف مسلمان خوشحال تھے بلکہ کفار، مشرکین، یہود حتیٰ کہ جانوروں اور پرندوں کے لیے بھی ایک منظم قانون موجود تھا، تاکہ سب کو امن اور سکون میسر ہو۔ خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد یہود، نصاریٰ، مشرکین اور ملحدین متحد ہو گئے اور تقریباً دو ارب مسلمانوں کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ انہوں نے نوجوانوں کے سامنے اپنے جدید باطل نظریات پیش کیے اور مختلف ازموں کے ذریعے انہیں اپنے زیرِ اثر لے آئے اور ان پر غلبہ حاصل کر لیا۔

آج کے بہت سے پوشیدہ سیاستدان، دانشور اور علمی شخصیات اسی فکری یلغار کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے عالمی عدالتیں، اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور دیگر ادارے قائم کیے۔ بظاہر ان کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ظالم کا ہاتھ روکیں گے، مظلوم کی آواز سنیں گے اور دنیا میں انصاف قائم کریں گے، لیکن پسِ پردہ ایک ایسی قوت موجود ہے جو ان تمام اداروں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہے۔

مسلمان محکوم ہو گئے، امت کی زمینیں غصب ہو گئیں، بچوں کو آگ میں جلایا گیا، عوامی تنصیبات کو بمباری سے تباہ کیا گیا، اور مظلوم غزہ صہیونیت کے ظلم کا شکار بنی رہا، مگر اس کے باوجود یہ عالمی ادارے بے بس نظر آئے۔ تاہم الحمدللہ، کچھ بیدار نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے؛ افغانوں نے ایک یک قطبی عالمی طاقت (امریکہ) کو شکست دی، حماس نے اپنے حقوق کی بحالی اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے جدوجہد شروع کی۔

امریکہ اور اس کے حامی رجیم دنیا کی معاشی، عسکری اور سیاسی قوت کو اپنے قبضے میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے دو اہم مراکز کو اپنے زیرِ اثر رکھا ہے: ایک اسرائیل اور دوسرا پاکستان، تاکہ مشرقِ وسطیٰ، ایران اور افغانستان کی قوت کو کمزور کیا جا سکے۔ مگر الحمدللہ، ان کی بہت سی سازشیں دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں، ان کے جھوٹ ظاہر ہو چکے ہیں اور وہ ناکامی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اب دنیا ایک نئے تحول کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے، اسلامی سیاست کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور مسلمانوں میں بیداری کی لہر روز بروز مضبوط ہو رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلمان اسلامی نظام کے قیام کے لیے متحد ہوں اور ان ظالمانہ قوتوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔

Exit mobile version