Site icon المرصاد

دہشت گردی کہاں سے پنپ رہی ہے؟

دو روز قبل المرصاد نے ایک خبر شائع کی کہ خیبرپختونخوا کی اورکزئی ایجنسی میں محمد اقبال نامی ایک شخص نامعلوم افراد کے ہاتھوں مارا گیاـ محمد اقبال پاکستانی انٹلی جنس کا اہم رکن اور داعشی عناصر کے ساتھ مسلسل روابط اور تعلق رکھتا تھاـ مطلب بیک وقت وہ آئی ایس آئی اور داعش دونوں کا رکن تھاـ

ایک طرف وہ داعشی کارندوں کی سہولت کاری، ان کی تربیت، اہداف کی نشان دہی اور ان پر عمل درآمد کرواتا تھا تو دوسری طرف وہ یہ سب کچھ آئی ایس آئی کی ہدایات کی ہدایات کے مطابق انجام دے رہا تھا۔

آپ اسے انٹیلی جنس اداروں اور داعشی کارندوں کے درمیان ایک پل سے تعبیر کرسکتے ہیں، البتہ یہ صرف ذریعہ نہیں بلکہ وہ بذات خود ایک قسم کا لیڈر تھا جو خود ہی آئی ایس آئی کے لیے منصوبے بناتا، پھر وہی منصوبے ان گروہوں کو دیتا اور پھر انہیں منصوبوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا

حال ہی میں خیبر پختونخوا کے ایک نامور عالم دین اور ہزاروں طلبہ کے استاد، متعدد مدارس کی زینت اور ملک بھر کے ممتاز شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس صاحب کو دن دہاڑے سر بازار گولیاں مار کر شہید کردیا گیا اور ان کی شہادت کے فورا بعد داعشی خوارج نے ان کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی۔ ساتھ ہی پاکستانی حکومت نے غیر رسمی ذرائع کے ذریعہ اس دردناک واقعے کو اپنے سیاسی مقاصد اور مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، لیکن محمد اقبال کا قتل اور ساتھ میں اس کے دوطرفہ روابط سے بڑا ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے۔

جو داعشی عناصر ،ملک کے اندر اور دنیا بھر میں فساد پھیلا رہے ہیں؛ کوئی مسلمان ان سے محفوظ نہیں، وہ وحشت و بربریت کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، ظلم و درندگی کے نئے انداز ایجاد کر چکے ہیںـ اور اللہ کے نیک اور صالح بندوں پر وہ آفت بن کر گررہے ہیں۔ مساجد ومدارس کی تباہی و تخریب کو انہوں نے اپنا مشن بنا لیا ہے، اہل دین افراد ان کے خاص الخاص نشانے پر ہیں۔ انسانیت سے انہیں خصوصی طور پر نفرت ہےـ انسانوں کو زندہ جلانا، بموں پر بٹھا کر اڑانا اور ان کے جسد خاکی کو بھسم کرنا ان کا خاص شیوہ ہےـ معصوم بچوں کا قتل و اغواء اور انہیں گمراہ کرنا انہوں نے اپنا منظم مشن بنایا ہوا ہےـ خواتین کی عصمت دری، بے دردی سے قتل اور ان سے انسانیت سوز سلوک تو زبان زد عام و خاص ہےـ

الغرض جو داعشی درندگی ووحشت اور ظلم وسفاکیت کی بولتی تصویر بنے ہیں اس محمد اقبال نامی شخص کے بارے میں سامنے آنے والے انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ ہولناکی کے اس جتھے کو پاکستانی ریاست اور انٹلی جنس اداروں کی شہہ حاصل ہے اور یہ کہ داعشی خوارج براہِ راست انہیں سے ہدایات حاصل کرکے سیاہ ترین کارنامے سرانجام دے رہے ہیں۔

اور یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہ داعشی خوارج اور آئی ایس آئی کے درمیان رابطوں کا انکشاف ہو رہا ہے، بلکہ پہلے بھی متعدد بار بلکہ بار ہا ایسا ہوا ہے۔ کراچی سے لے کر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں تک صرف گزشتہ ایک سال میں بارہا ایسا ہوا کہ داعشی خوارج کو نامعلوم افراد نے کچھ اس طرح سے ٹارگٹ کیا کہ ان کی ساری معلومات اور ڈیٹا بھی دنیا کے سامنے آ گیا۔ ان کے روابط بے نقاب ہوئے اور پاکستانی انٹلی جنس اور سرکاری اہلکاروں کی ان کے لیے ہدایات غرض تمام تفصیلات سامنے ایک کے بعد ایک بے نقاب ہوتی رہیں، بلکہ کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ سرکاری اداروں نے کسی داعشی ٹولے کو گرفتار کیا اور اس طرح گرفتار کیا کہ وہ رنگے ہاتھوں کسی قتل میں ملوث پکڑے گئے تو بعد میں سرکاری افسران نے رابطہ کر کے ان کی رہائی کا حکم دیا اور بتایا کہ یہ اپنے ہی بندے ہیں، خبردار جو ان پر ہاتھ اٹھایاـ یہ بات اس قدر عام ہوگئی ہے کہ پاکستان بھر کی سیاسی قیادت اور نمایاں سیاست دانوں نے بھی اپنی تقریروں اور عوامی جلسوں میں اس کا کھلم کھلا اظہار شروع کر دیا ہے۔ـ

سوال مگر یہ ہے کہ ریاستی ادارے یہ طرفہ تماشا کیوں لگا رہے ہیں؟ ایک طرف وہ بدامنی کا رونا رورہے ہیں، سارے ہمسایہ ممالک کو مورد الزام ٹھراتے ہیں، عوام کو بہکانے کے لئے جو منہ میں آئے وہی کہہ دیتے ہیں، یہ دہشت گرد اور وہ دہشت گرد کی صدائیں تھمنے کا نام نہیں لیتیں اور دوسری طرف پس پردہ وہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ وحشی اور بدنامِ زمانہ گروہ کو اپنے گود میں پال رہے ہیں۔ انہیں پناہ گاہیں اور مراکز مہیا کر رہے ہیں۔

وادی تیراہ کے باشندے علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ ہم سے گھر خالی کروا کر داعشی خوارج کو دئیے جارہے ہیں۔ آخر اس سب کا مقصد کیا ہے؟ کیا پاکستان کی انٹلی جنس ایجنسیاں اس طرح اپنے ملک میں بدامنی پھیلا کر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کررہی ہیں؟

کیا اس طرح اور ان لوگوں کے ذریعے ان افراد کو میدان سے ہٹانا چاہ رہی ہے جن حالات کی حقیقت سے آگاہ ہیں، کلمہ حق بلند کر سکتے ہیں اور لوگوں کو حقیقی صورتحال سے آگاہ کر سکتے ہیں کیا پاکستان کے ریاستی ادارے اس طرح سے اپنی ان عیاشیوں کو مزید پروان چڑھارہے ہیں جو عوام کا خون پسینہ نچوڑ کر حاصل کرتے ہیں؟

کیا پاکستان کی ایجنسیاں اس طرح پہلے ان لوگوں کے ذریعہ بدامنی کروا کر پھر دنیا کا رخ اپنی طرف موڑنا چاہتی ہیں تاکہ وہ مطلوم ثابت ہو اور الزام دوسروں پر لگ سکے؟

کیا یہ ادارے ان بدنام زمانہ اور مکروہ جتھوں سے دوسرے ممالک میں امن وامان کو خراب کروا کر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا کر یہ مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اجرت لے کر وہاں جائیں اور اپنے پلے ہوئے گماشتوں کو پیسوں کے بدلے کنٹرول کر لیں؟ یہ سب وہ سوالات ہیں جو ان واقعات کی روشنی میں پیدا ہوتے ہیں اور جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں ایک جانب پاکستانی فوجی رجیم حلق پھاڑ کر چیخ رہی ہے کہ دہشت گردی کا عفریت سر پر سوار ہے اور اس کے لئے ایران، افغانستان اور بھارت پر الزام لگاتی ہے اور انہیں اس جرم میں شریک قرار دیتی ہے، یہاں تک کہـ اپنی ہی عوام کو چاہے وہ بلوچ، پشتون، سندھی اور پنجابی ہی کیوں نہ ہوں، قتل تک کرواتی ہے اور جیلیں ان سے بھرتی ہے۔

مگر جب حقائق سامنے آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ جو دہشت گرد ہیں اور جنہوں نے پاکستان سمیت پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالا ہوا ہے، ان کے سروں پر انہیں اداروں کا دست شفقت ہے، تو انسان حیران رہ جاتا ہے کہ جس دہشت گردی کا رونا سب رو رہے ہیں وہ پنپ کہاں رہی ہے؟ یہ حل طلب سوالات ہیں اور ان کی مخاطب پوری قوم ہےـ

Exit mobile version