بیسویں اور اکیسویں صدی کی سب سے بڑی صلیبی جنگ، ”دہشت گردی“ کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ان کی دولت کی لوٹ مار، اسلامی اقدار کے خاتمے اور افکار پر قبضے کے لیے لڑی گئی۔ اس کا ظاہری نعرہ امن اور انسانی حقوق تھا، مگر اس کے حقیقی مقاصد وقت گزرنے کے ساتھ تمام مسلمانوں پر عیاں ہو گئے۔
یہ جنگیں اب بھی جاری ہیں۔ ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں خوف پھیلایا گیا، ہزاروں اور لاکھوں مسلمان لاپتہ کر دیے گئے، دسیوں ہزار قید کیے گئے اور کروڑوں شہید کر دیے گئے۔ اس کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا پر قبضہ ہوا، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی گئی اور مسلمانوں کے درمیان ایسی ریاستیں قائم کی گئیں جو پہلے کبھی موجود نہ تھیں۔
مسلمانوں سے ان کی دولت چھینی گئی اور اس پر خوب ہاتھ صاف کیا گیا۔ سب سے پہلے امت کے ہر حصے میں اپنی مرضی کی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا گیا، پھر ایسے رہنما مسلط کیے گئے جو اپنا ایمان بیچنے میں ماہر اور تجربہ کار تھے۔ دوسرا قدم یہ اٹھایا گیا کہ موجودہ مسلمان حکمرانوں کے درمیان اختلاف اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کی گئی، امت کو پارہ پارہ کر دیا گیا اور ایسا زہر پھیلایا گیا کہ ان کے جانے کے کئی دہائیاں بعد تک بھی امت سکون نہ پا سکے۔
صلیبی اور یہودی آقاؤں کے لیے ایسے غلام لشکر ہر قسم کی خدمت اور سجدہ ریزی کے لیے تیار ہیں جو منہ سے ”لا الٰہ الا اللہ“ کا مقدس کلمہ پڑھتے ہیں اور ان کے سربراہ خود کو امت کا رول ماڈل اور مقدسات کا محافظ سمجھتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ تمام تر طاقت اور قوت کے مالک ہونے کے باوجود بھی اپنا ایمان بیچ کھاتے ہیں۔ ان کی بے ضمیری اس قدر شدید ہو چکی ہے کہ ان کے آقاؤں کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کھلی دشمنی اور جنگ بھی ان کے ضمیر کو جھنجھوڑ نہیں سکی۔
کفار کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف چلائی جانے والی اس جنگ میں نام نہاد اسلامی ممالک میں سے ایک پاکستان کی ریاست اور طاغوتی اسٹیبلشمنٹ کی ناپاک اور کرائے کی فوج بھی شریک ہے جو صلیبی درندوں، خاص طور پر مغرب کی ہر قسم کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہتی ہے۔ ہندوستان اور خراسان کی سرزمین پر رہنے والے مسلمانوں کے خلاف اس نے وہی کردار ادا کیا جو مشرق وسطیٰ کے دل میں اسرائیل نے مسلمانوں کے خلاف کیا۔
انگریزوں کی طرف سے اس رجیم کی بنیاد رکھنے کے بعد سے یہ کرائے کی فوج ہمیشہ مسلمانوں کا خون پیتی اور ان کے ناموس کی بے حرمتی کرتی رہی ہے۔ اس کرائے کی فوج کی لڑی جانے والی جنگوں کی سب سے سستی قیمت وہ مظلوم اور بے بس عورتیں تھیں جن کے پاس نہ ہتھیار تھے، نہ وہ سیاست میں ملوث تھیں اور نہ ہی انہوں نے اس کی طاقت کو کوئی خطرہ پہنچایا تھا، مگر پھر بھی وہ ان کی سیاسی تجارت اور فروخت کے سودوں سے محفوظ نہ رہ سکیں۔
انہوں نے لال مسجد سے سینکڑوں دینی طالبات کو انتہائی بے عزتی کے ساتھ امریکیوں کے حوالے کیا، بلوچ اور پختونخواہ کی دسیوں مسلمان بہنیں اب تک لاپتہ ہیں۔ ان مظلوم عورتوں میں سے ایک با عفت مسلمان بہن کی داستانِ مظلومیت، جو درد اور ظلم سے بھری پڑی ہے، آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی پاکستان کی شہری اور کراچی کی رہائشی تھیں۔ انہوں نے اعلیٰ تعلیم امریکہ سے حاصل کی، بائیولوجی میں بیچلر اور نیورو سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ واپس کراچی آ گئیں اور عام زندگی گزار نے لگیں۔
۲۰۰۳ء میں عافیہ صدیقی کو ان کے تین چھوٹے بچوں سمیت کراچی میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اچانک اغوا کر لیا۔ پہلے پاکستانی انٹیلی جنس کے تاجروں نے انہیں اغوا کیا، پھر انہی کے ذریعے امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ پاکستانی انٹیلی جنس کے پاس کتنے دن، مہینے یا سال رہیں اور کب امریکیوں کو سونپی گئیں، مگر یہ معلوم ہے کہ امریکیوں نے انہیں بگرام فوجی اڈے پر منتقل کر دیا۔
ڈاکٹر عافیہ سالہا سال لاپتہ رہیں۔ خاندان اور رشتہ دار تلاش میں تھک گئے، فوج اور انٹیلی جنس لاعلمی کا اظہار کرتے رہے، مگر مسلمانوں کی یہ قیدی بہن وقت کے فرعونوں کے بگرام اڈے پر اپنے بچوں سمیت قید تھی۔ وہ وہاں قیدی نمبر ۶۵۰ کے نام سے رجسٹرڈ تھیں۔ ان کی موجودگی اس وقت ثابت ہوئی جب بگرام سے کچھ مجاہدین رہا ہوئے اور انہوں نے ایک پاکستانی مسلمان بہن کی قید کی خبر دوسرے مسلمانوں تک پہنچائی۔ بالآخر سول حقوق کے کارکنوں اور عالمی اداروں نے آواز اٹھائی اور ۲۰۰۸ء میں وہ افغانستان کے شہر غزنی میں ”ظاہر“ ہوئیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ ان کے القاعدہ سے روابط تھے اور خطرناک دستاویزات ان کے پاس تھیں، جس کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
اس وقت وہ اپنے پاؤں پر کھڑی بھی نہیں ہو سکتی تھیں، مگر امریکیوں نے الزام لگایا کہ ڈاکٹر عافیہ نے ایک امریکی فوجی سے ہتھیار چھین کر فائرنگ کی، حالانکہ کوئی امریکی زخمی یا ہلاک نہ ہوا۔ الٹا عافیہ خود زخمی ہوئیں اور انہیں غزنی سے بگرام اور پھر امریکہ منتقل کر دیا گیا۔
۲۰۱۰ء میں نیویارک کی ایک سیاسی عدالت نے انہیں، جو اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو سکتی تھیں، امریکی فوجیوں کو قتل کی کوشش کے الزام میں ۸۶ سال قید کی سزا سنا دی۔ وہ اس وقت امریکہ کے فیڈرل میڈیکل سینٹر میں قید ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
عافیہ ایک تعلیم یافتہ، باعزت اور دعوتِ دین دینے والی مسلمان خاتون تھیں، مگر سیاسی تجارت نے انہیں کافروں کے وحشی زندانوں تک پہنچا دیا۔ عافیہ صدیقی کا کیس یہ ثابت کرتا ہے کہ ”دہشت گردی“ کے نام پر مرتد اور کرائے کے نظام نے مسلمان بہنوں کی سیاسی تجارت کی۔ وہ فوج جس نے عورتوں کو سیاسی سودوں کا حصہ بنایا، یہ اس کی بے دینی کے ساتھ ساتھ بے غیرتی اور ناموس فروشی پر بھی کھلا ثبوت ہے۔

