اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”اور یہ مناسب نہیں کہ تمام مومن یک زبان ہو کر (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہوں، پس کیوں نہ نکلے ان میں سے ہر گروہ میں سے ایک جماعت کہ دین میں خوب سمجھ حاصل کریں اور اس لیے کہ جب واپس اپنی قوم کی طرف آئیں تو انہیں ڈرائیں (نصیحت کریں) تاکہ وہ (گناہ سے) بچیں۔“ (سورۃ التوبہ: ۱۲۲)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔“ (ابن ماجہ)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”خود کو دین سکھاؤ اور دوسروں کو بھی سکھاؤ، میراث اور زکوٰۃ کے مسائل سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، قرآن مجید سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ، کیونکہ میں تم میں سے جانے والا ہوں، عنقریب علم اٹھا لیا جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے، یہاں تک کہ دو آدمی ایک دینی مسئلے میں اختلاف کریں گے مگر کوئی ایسا نہ ملے گا جو ان کے درمیان فیصلہ کر سکے۔“ (مشکوٰۃ شریف، کتاب العلم)
اگر کوئی شخص رات کے وقت کسی اونچی جگہ پر چڑھ جائے اور نیچے گھروں پر نظر ڈالے تو دیکھتا ہے کہ ہر گھر میں چراغ جل رہے ہیں، روشنی پھیلی ہوئی ہے، زندگی رواں دواں ہے، مگر اچانک اس کی نگاہ ایک اندھیرے گھر پر پڑتی ہے جس میں نہ چراغ ہے نہ روشنی۔ یہ گھر، باوجود اس کے کہ دوسروں کے درمیان ہے، برا لگتا ہے اور انسان کا دل بھی اس پر دکھتا ہے؛ کیونکہ وہ نور اور خوبصورتی سے محروم ہے۔
یہ منظر بالکل اسی معاشرے کی مثال ہے جس کے ہر گھر میں دین کا علم، ہدایت اور تقویٰ ہو، شرعی علوم کے عالم موجود ہوں، دین کے چراغ جل رہے ہوں؛ مگر ایک گھر انہ ان تمام نعمتوں سے محروم ہو، دین سے بے خبر، جہالت کے اندھیروں میں چھپا ہوا اور اللہ کے نور کی برکت سے خالی ہو۔
سچ یہ ہے کہ ایسے گھر کی بدبختی نہ صرف معاشرے کے لیے فکر کی بات ہے بلکہ ہر حساس دل کے لیے ایک دردناک حقیقت ہے؛ کیونکہ علم و ہدایت کا نہ ہونا ظاہری اندھیرے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
دینی تعلیم کی ضرورت کیوں اتنی شدید ہے؟
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مدینہ منورہ میں کسی اونچی جگہ پر تشریف لے گئے اور فرمایا:
”کیا تم وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں؟“
ہم نے عرض کیا: نہیں!
آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو وہ تمام فتنے دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں کے درمیان بارش کی طرح برس رہے ہیں۔“ (مشکوٰۃ شریف، ص ۴۶۲)
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قیامت تک آنے والے فتنوں سے آگاہ فرمایا اور بتایا کہ ان فتنوں کے مقابلے میں ہمیں بیدار رہنا ہے اور علم کے ذریعے نجات کی راہیں تلاش کرنی ہیں۔
"فتنہ” عربی زبان میں ہر اس آزمائش کو کہتے ہیں جو انسان کے عقل، ارادے اور دین کو خطرے میں ڈالے اور حق سے بھٹکنے کا باعث بنے، چاہے وہ باطل افکار کی شکل میں ہو یا نفسانی خواہشات کی شکل میں۔ انسان علم کی مدد سے ہی ان فتنوں سے خود کو اور اپنے اہل و عیال کو بچا سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”نیک عمل میں جلدی کرو قبل اس کے کہ ایسے فتنے آ جائیں جو رات کے اندھیرے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے، آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر، شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر، اپنا دین دنیا کے بدلے بیچ ڈالے گا۔“ (مسلم)
آج مسلمان ایک انتہائی خطرناک حالت میں ہیں اور مندرجہ بالا حدیث کے زندہ نمونے ہیں؛ کیونکہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں فتنے رات کے اندھیرے کی طرح چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ جیسے انسان کو دنیاوی زندگی کے لیے فطری ضروریات درکار ہیں تاکہ فانی زندگی صحیح طریقے سے گزر سکے، اس سے کہیں زیادہ اسے دینی علم کی ضرورت ہے تاکہ ہمیشہ رہنے والی آخرت کی زندگی خوشی اور سکون سے گزر سکے؛ کیونکہ انسان عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، کامیابی کا راز بھی عبادت ہی میں ہے اور بغیر علم کے عبادت کامیابی کا باعث نہیں بن سکتی۔
ہمیں چاہیے کہ ایک بار پھر پہلے کی طرح علم سے محبت کو زندہ کریں۔ پچھلے ادوار میں علمی ترقی بے انتہا تھی، ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق دین کا طالب علم تھا۔ جب کوئی عالم کسی شہر میں داخل ہوتا تو دکاندار بھی دکانیں بند کر کے سیکھنے کے لیے چلے جاتے، ایک عالم کے درس میں ہزاروں لوگ قلم دوات لے کر بیٹھتے، دینی تعلیم کے لیے الگ دن اور دنیاوی کاموں کے لیے الگ دن مقرر ہوتے، علمی شوق اس قدر عام تھا کہ ایک مسئلہ یا ایک حدیث کے لیے لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک سفر کرتے، سخت ترین مشکلات برداشت کرتے؛ کوئی بھوک کی شدت سے درختوں کے پتے کھاتا، کسی کے پاؤں سے خون بہتا، کوئی غربت کی وجہ سے اپنے کپڑے تک بیچ دیتا، مگر ان سب مشکلات کے باوجود دینی علم کے پیچھے تڑپتے پھرتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ پوری دنیا علم سے منور ہوئی، چالیس سال کی عمر میں علماء حضرات نے بڑی بڑی تالیفات کیں اور ان کی علمی ترقی سے نہ صرف مسلمانوں نے بلکہ کفار نے بھی فیض اٹھایا۔
مگر ہم آج ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہمارا دینی علم صفر کے قریب ہے، تفصیلی علم تو دور کی بات، ایمان کے اجمالی اور ضروری مسائل سے بھی بے خبر ہیں، نماز، حج، روزہ، زکوٰۃ جیسے دین کے بنیادی ارکان بھی غلط طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔ ہمارا پورا معاشرہ علمی قحط سالی کا شکار ہے، تجارت سے لے کر انفرادی و اجتماعی زندگی تک ہر چیز غیر اسلامی طریقے پر چل رہی ہے۔
آج لوگ دنیاوی معاملات میں ماہر ہیں مگر دین میں اندھے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”اللہ اس شخص سے نفرت کرتا ہے جو دنیا کے معاملات کا تو ماہر ہو مگر دین کے معاملات سے بالکل بے خبر ہو۔“ (ابن حبان)
خلاصہ:
ہمیں اپنی نسلوں کو جہالت سے بچانا ہوگا؛ کیونکہ جہالت تمام بدبختیوں کی ماں ہے۔ فساد ہو، اختلاف ہو، گناہ ہو یا فتنہ، سب کی جڑ جہالت ہی ہے۔ جہالت وہ دروازہ ہے جس سے شیطان انسان تک پہنچتا ہے۔
ہندوستان میں "ندوۃ العلماء لکھنؤ” کے مجلہ "تعمیر حیات” میں رواں سال کی تیسری اشاعت میں ایک رپورٹ کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ آج کل صرف ۳ یا ۴ فیصد مسلمان ہی دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو اس آیتِ کریمہ کے مقابلے میں بہت کم ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”ہر قوم سے ایک گروہ ضرور نکلے تاکہ دین میں تفقه حاصل کرے۔“
مجلہ میں مزید لکھا ہے کہ جس امت کے تقریباً ۹۷ فیصد لوگ صرف دنیاوی کاموں میں مصروف ہوں اور صرف ۳ فیصد تعلیم حاصل کر رہے ہوں، اس امت کا انجام کیا ہوگا؟ (کیا اصلاح ہوگی یا گمراہی؟)
تو آئیے! ہم خود بھی دین سیکھیں اور اپنی اولاد کو بھی سکھائیں، حلال حرام کی پہچان کریں تاکہ اپنا ایمان بچا سکیں اور عبادت درست طریقے سے کر سکیں۔ اگر ہماری اولاد تعلیم سے محروم رہی تو وہ وقت دور نہیں جب نام کے مسلمان ہوں گے مگر سوچ، لباس اور فیشن کافروں جیسا ہوگا۔ تعلیم ہماری آنے والی نسلوں کا ہتھیار ہے، اگر یہ ہتھیار ان کے ہاتھ میں نہ ہوا تو نفس اور شیطان انہیں گمراہ کر دیں گے اور دین دشمن انہیں بھٹکا دیں گے۔

