جیسا کہ ہم سب اس وقت دو بڑی جنگوں کے عینی شاہد ہیں، جن میں ایک مشرقِ وسطیٰ (اسرائیل + امریکا/ایران جنگ) اور دوسری جنوبی ایشیا (امارت اسلامیہ اور پاکستانی فوجی رجیم کے درمیان جنگ) ہے۔ یہ دونوں جنگیں ایسے دو ممالک کی طرف سے شروع کی گئی ہیں جن میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے چند کو بطورِ مثال ذکر کرتے ہیں:
1. پاکستانی ریاست 1947ء میں قائم ہوئی اور اسرائیلی ریاست 1948ء میں۔
2. پاکستان اور اسرائیل دونوں کی رجیم انگریزوں کی مدد سے قائم کی گئی ہیں۔
3. پاکستان اور اسرائیل دونوں دوسروں کی زمینوں پر قائم کیے گئے ممالک ہیں۔
4. پاکستان اور اسرائیل دونوں کی رجیم فوجی آمریت پر مبنی ہیں۔
5. پاکستانی فوجی رجیم اور اسرائیلی فوجی رجیم دونوں علاقے کے مسلمانوں پر ظلم کرتی ہیں۔
6. پاکستان اور اسرائیلی فوجی رجیم دونوں جنگوں میں عام نسل کشی کرتی ہیں۔
7. پاکستان اور اسرائیلی فوجی رجیم دونوں خوارج (مفسدین فی الارض) کی حوصلہ افزائی اور ان کو سہولت فراہم کرتی ہیں۔
8. پاکستان اور اسرائیل کی فوجی رجیم امریکہ کی مدد سے مستفید ہوتی ہیں اور دونوں غزہ کے قبضے کے ایجنڈے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔
9. پاکستان اور اسرائیل کی فوجی رجیم اپنی بقا کو جنگوں میں دیکھتی ہیں۔ اسی لیے پاکستان کی فوجی رجیم نے جنوبی ایشیا میں اور اسرائیل کی فوجی رجیم نے مشرقِ وسطیٰ میں آگ بھڑکا رکھی ہے۔
10. پاکستان اور اسرائیل کی فوجی رجیم دونوں اسلام کے مبارک دین کی بنیادوں کو تباہ کر رہے ہیں (پاکستان کی دینی شعبے میں پیداوار: خوارجیت، اور اسرائیل کی پیداوار: داعشی فکر، مستشرقین وغیرہ)۔
یہ دونوں فوجی رجیم اس کے علاوہ بھی بہت زیادہ مماثلتیں رکھتے ہیں، جنہیں طوالت کے باعث یہاں ذکر نہیں کیا جا رہا۔ لیکن ان کے درمیان واحد فرق صرف نام کی حد تک ہے: پاکستانی فوجی رجیم اسلام کے نام پر قائم ہے اور اسرائیل کا فوجی رجیم یہودی ریاست کے نام پر۔ صرف نام میں فرق ہے، کارکردگی میں کوئی فرق نہیں۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اس وقت مغرب میں یہ نعرے بلند کیے جا رہے ہیں کہ “ریڈیکل اسلام” (سیاسی اسلام) کے خلاف پوری دنیا میں اقدامات کیے جائیں اور ان حکومتوں کو کمزور یا ختم کیا جائے جو سیاسی اسلام نافذ کرتی ہیں۔ اسی دوران ٹرمپ نے اپنی بحری قوتیں مشرقِ وسطیٰ کی طرف بھیجیں اور فوجی رجیم کو امارت اسلامیہ کے خلاف جنگ کے لیے ہدایات دیں۔
جیسا کہ دیکھا گیا، فوجی رجیم نے ایسے حالات میں امارت اسلامیہ کی سرزمین پر عام لوگوں کے گھروں پر بمباری کی، جب عین اسی وقت اسرائیل اور امریکہ ایران پر حملے کے لیے خود کو تیار کر رہے تھے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے: افغانستان میں بے گناہ مسلمانوں کے گھروں کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے کچھ ہی مدت پہلے پاکستانی فوجی رجیم کی طرف سے کیوں بمبار کیا گیا؟ اگر مسئلہ دہشت گردی کا تھا تو فوجی رجیم اتنے مہینوں تک خاموش کیوں رہی، اور اس نے حملہ ماہِ رمضان میں ہی کیوں کیا؟ کیا یہ ایک اتفاق تھا یا کوئی خفیہ منصوبہ؟
اس سوال کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ جیسا کہ دیکھا گیا، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور فوجی رجیم کی جنگ افغانستان کے خلاف کئی خفیہ ملاقاتوں کے بعد شروع ہوئیں۔ ٹرمپ نے پاکستانی فوجی رجیم کے سربراہوں (شہباز شریف، عاصم منیر) کے ساتھ، اور اسی طرح اسرائیلی حکام کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کیں۔ اسی جگہ سے غزہ کے قبضے کے منصوبے میں پاکستانی فوجی رجیم کے شامل ہونے کی کہانی بھی شروع ہوئی۔ اگر علامات کو دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان اور ایران پر حملے دونوں ایک ہی منصوبے سے نکلے ہیں اور ان کا مقصد سیاسی اسلامی نظاموں کا خاتمہ تھا۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں، فوجی رجیم نے حالیہ برسوں میں امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اپنی جگہ کھو دی ہے۔ اب امریکہ پاکستان کے بجائے چین کو قابو کرنے کے لیے بھارت کے ساتھ تعاون کو ترجیح دیتا ہے۔ لہٰذا پاکستان نے اپنی معیشت کو کسی حد تک برقرار رکھنے کے لیے اور امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اپنی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے، ٹرمپ کو پختونخوا کی قیمتی معدنیات پیش کیں اور اسلام کے خاتمے کے معاملے میں اپنی مدد کی پیشکش کی۔
ٹرمپ نے اسے کہا کہ وہ ایران کو مضبوط ہونے کی اجازت نہیں دے گا اور تمہیں امارت اسلامیہ پر حملہ کرنا چاہیے، تاکہ امارت اسلامیہ جنگ میں مصروف ہو جائے اور ترقی سے پیچھے رہ جائے۔ فوجی رجیم نے یہ منصوبہ قبول کیا اور افغانستان میں عام لوگوں کے گھروں پر بمباری کی تاکہ امارت اسلامیہ کو جنگ کی طرف اکسایا جائے۔
امریکہ کا مقصد
امارت اسلامیہ کے خلاف اس منصوبے کے دو بنیادی مقاصد تھے:
1. امارت اسلامیہ واحد خودمختار اسلامی نظام ہے اور ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اگر یہ مضبوط ٹیکنالوجی اور ترقی حاصل کرے تو مستقبل میں عالمِ اسلام اس کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوگا اور امریکہ کے اسٹریٹجک مفادات خطرے میں پڑ جائیں گے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ امارت اسلامیہ ترقی کرے، امریکہ نے اپنے کرائے کے قاتل (پاکستان) کو اسے قابو کرنے کے لیے مقرر کیا۔
2. امریکہ کا واحد معاشی حریف اس وقت چین ہے۔ عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ چین کے معاشی اور عسکری محاصرے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے محاصرے کے لیے بھارت اہم ہے، لیکن بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ امریکہ کو چاہیے تھا کہ بھارت کو ایک مخالف سے فارغ کرے، اسی لیے اس نے فوجی رجیم کو یہ ذمہ داری سونپی کہ امارت اسلامیہ کو جنگوں میں مصروف رکھے۔
فوجی رجیم کے خاص حلقے کا فائدہ
حالیہ برسوں میں پاکستانی فوجی رجیم کے اندر بے چینی بہت بڑھ گئی تھی، مذہبی حلقوں، آئی ایس آئی، فوج اور مرکزی حکومت کے درمیان اختلافات اپنے عروج پر تھے۔ ایک بیرونی مسئلے کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں کے ذہنوں کو مصروف رکھا جائے اور نظام کو بکھرنے سے بچایا جائے۔ بیرونی مسئلے کے لیے فوجی رجیم کے پاس دو انتخاب تھے: بھارت یا افغانستان۔ ٹرمپ کے حکم کے مطابق اس نے افغانستان کو منتخب کیا اور عام لوگوں کے گھروں پر بمباری کی۔
یہ جنگ ٹرمپ کے حکم، امریکہ کے مفادات اور فوجی رجیم کے خاص حلقے کے اقتدار کے تسلسل کے لیے لڑی گئی، لیکن اس کے شکار بے گناہ مسلمان بنے۔ سرحد کے دونوں طرف مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خطے کی حالیہ سرگرمیوں کی جڑوں پر غور کریں اور ان لوگوں کو ملعون قرار دیں جو امریکہ/اسرائیل اور اپنے اقتدار کے دوام کے لیے عوام کے خون سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

